87

میں پولیو کے خاتمے تک جنگ لڑتی رہوں گی ۔۔ جانیں باہمت پولیو ورکر دادی کی دلچسپ کہانی جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی

پولیو کے خلاف جنگ میں پولیو ورکرز آج تک پاکستان میں سرگرم عمل ہیں۔ چاہے پہاڑی علاقے ہوں یا طوفانی بارش، ہڑتال ہو یا پھر چھٹی کا دن۔ پولیو ورکرز اپنے فرض سے پیچھے نہیں ہٹتے۔بلوچستان کی خاتون پولیو ورکر نے بھی کچھ ایسا ہی کیا ہے، جسے دیکھ کر آپ داد دیے بغیر نہیں رہ پائیں گے۔بلوچستان کے ضلع پشین سے تعلق رکھنے والی پولیو ورکر دادی نے اس وقت سب کو حیران کردیا جب وہ خود پولیو کے خلاف جنگ میں بچوں کو قطرے پلانے نکل پڑیں۔ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ضلع پشین سے تعلق رکھنے والی دادی کا کا نام بی بی ہوریٰ ہے جبکہ وہ گزشتہ ساڑھے 4 سال سے انسداد پولیو پروگرام سے منسلک ہیں۔ بی بی ہوریٰ کا کہنا ہے کہ میرے شوہر کی وفات ہوگئی ہے جبکہ میں 4 سال اور 5 مہینوں سے پولیو کے قطرے گھر گھر جا کر پلا رہی ہوں۔ میرے بچے مجھ سے کہتے ہیں کہ لوگ ہم پر ہنستے ہیں اور ساتھ میں کہتے ہیں کہ تمہاری ماں اس عمر میں بھی پولیو کے قطرے پلاتی ہیں۔ میں اپنے بچوں کو کہتی ہوں کہ یہ بچوں کے صحت کی دوائی ہے۔ بی بی ہوریٰ کا کہنا ہے کہ پولیو کے قطرے پلانے کے ساتھ ساتھ میری ورزش بھی ہوجاتی ہے۔ پولیو ورکر دادی اپنے ساتھ ایک روایتی تسبیح رکھتی ہیں جس پر وہ قطرے پلا کر گنتی کرلیتی ہیں۔ جبکہ وہ اپنے ساتھ ایک بیگ بھی رکھتی ہیں جس میں وہ بچوں کے لیے چاکلیٹ رکھتی ہیں۔ بی بی ہوریٰ کا کہنا ہے میں اپنے بیگ میں چاکلیٹ رکھ لیتی ہوں اور جب بھی میں قطرے پلانے کے لیے نکلتی ہوں تو جو بچے گندے پانی میں کھیل رہے ہوتے ہیں وہ مجھے دیکھ کر ” دادی آگئی” دادی آگئی” کہتے دوڑتے ہوئے میرے پاس آجاتے ہیں۔ بچے چاکلیٹ میں مگن ہوجاتے ہیں اور میں دو دو قطرے پلا کر اپنا فرض پورا کرلیتی ہوں۔ دادی بی بی ہوریٰ کا صرف ایک ہی مشن ہے کہ پاکستان پولیو سے پاک ہوجائے وہ کہتی ہیں کہ میں چاہتی ہوں کہ پورا پاکستان اور دور دراز علاقوں میں بچے پولیو سے محفوظ رہیں، تاکہ پورے ملک سے پولیو کا خاتمہ ہوجائے۔

Facebook Comments