84

نظام بدلنا مشکل، وقت لگتا ہے…عمران خان

لاہور( آوازچترال)وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ رمضان بازاروں اور مارکیٹوں میں چینی مقررہ نرخ پر دستیاب ہونی چاہیے‘ ذخیرہ اندوزوں اور مہنگائی کرنےو الوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے‘چینی اسکینڈل میں احتساب کا عمل بلا تفریق آگے بڑھایا جائے گا‘مہنگائی بڑھی تو طوفان برپا ہوا لیکن قیمتیں کم ہوئیں تو کوئی تذکرہ نہیں؟  چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نظام میں موجود خرابیوں کو ختم کرنا ہوگا‘ اسٹیٹس کو سے فائدہ اٹھانے والے مافیاز تبدیلی کی راہ میں رکاوٹ ہیں ‘پہلی بار ان پر ہاتھ ڈال کر کٹہرے میں لایاگیا ‘ یہی تبدیلی ہے‘ جس نظام میں بد عنوانی ‘ برائیاں اور رکاوٹیں آ جائیں جہاں رشوت کے بغیر کوئی کام نہ ہوتا ہو۔ ان برائیوں کو ختم کرنا اور نظام کو بدلنا مشکل ہوتاہے ‘اس میں وقت لگتاہے ‘ بڑے سیاسی مافیاز کو پہلی دفعہ قانون کے تابع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘یہ مافیاز قانون کی بالادستی کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں‘اب پاکستان کے لیے ایک فیصلہ کن مرحلہ ہے۔ ملک میں غریب اور امیر کیلئے یکساں قانون کی جنگ چل رہی ہے ‘جیسے ہی ہم قانون کی بالادستی قائم کریں گے معاشرہ آزاد ہو جائے گا۔بینکوں کی جانب سے گھروں کے لیے مورگیج کی سہولت کی فراہمی کے راستہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے عدلیہ سمیت تمام اداروں کے تعاون کے مشکور ہیں۔  وہ جمعہ کو یہاں نیا پاکستان اپارٹمنٹس کے سنگ بنیاد کی تقریب اوروزیراعلیٰ ہاؤس لاہور میں اپنی زیر صدارت اشیاءضروریہ کی قیمتوں سے متعلق اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پرانا اسٹیٹس کو تبدیلی نہیں آنے دیتا‘اسٹیٹس کو نظام میں رکاوٹیں کھڑی نہیں کرے گا تو پیسہ کیسے بنائے گا‘ اسٹیٹس کو بدلنے میں وقت لگتا ہے۔ عمران خان کا کہنا تھاکہ میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے اس نظام کو خراب ہوتے دیکھا ہے، اس کو تبدیل کرنے کے لیے ایک عزم اور مصمم ارادہ چاہیے‘لوگ پوچھتے ہیں کہ نیا پاکستان اور مدینہ کی ریاست کدھر ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ جیسے جیسے قانون کی بالادستی ہوگی معاشرہ آزاد ہوگا۔ نبی اکرم ﷺ انسانیت کا نظام لے کر آئے تھے، قانون کی بالادستی کی وجہ سے دنیا کی عظیم ریاست قائم کی، وہاں غربت تھی، کوئی دودھ کی نہریں نہیں تھیں، وہاں ہر طرف خطرہ، بھوک تھی لیکن قانون کی بالادستی کی وجہ سے انہوں نے یہ ریاست قائم کی۔  وزیراعظم نے کہا کہ کہیں یہ تصور نہیں کہ غریبوں کے لیے ایک قانون اور بااثر لوگوں کے لیے دوسرا قانون ہو، اس کے لیے پاکستان میں جنگ چل رہی ہے، پہلی بار بڑے بڑے مافیا پر ہاتھ ڈالے گئے، سیاسی مافیا کو کٹہرے میں لایا گیا، یہی تبدیلی ہے۔  پناہ گاہ کا نیٹ ورک پورے پاکستان تک پھیلائیں گے‘ملکی تاریخ کا سب سے بڑا براہ راست سبسڈی کا پروگرام لا رہے ہیں، اس کے لیے 75 فیصد ڈیٹا مل چکا ہے جبکہ جون تک 100 فیصد اعدادوشمار حاصل ہو جائیں گے جس کے بعد مستحق افراد کو براہ راست سبسڈی دینا آسان ہوگا، غریب کاشتکاروں کو کھاد پر براہ راست سبسڈی دی جا سکے گی۔ دریں اثناءعمران خان نے کہا ہے کہ ذخیرہ اندوزوں اور مہنگائی کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے،چینی اسکینڈل میں احتساب کا عمل بلا تفریق آگے بڑھایا جائے گا۔جمعہ کو ایوان وزیراعلیٰ لاہور میں بنیادی ضروری اشیا کی قیمتوں سے متعلق وزیراعظم کے زیر صدارت اجلاس ہوا ۔  اجلاس میں وزیراعلی عثمان بردار، چیف سیکرٹری اور اعلی حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے ہدایت کی کہ پنجاب حکومت مہنگائی کے خاتمے کے لیے اقدامات جاری رکھے۔ رمضان بازاروں اور مارکیٹوں میں چینی مقرر کردہ ریٹ پر دستیاب ہونی چاہیے‘اشیائے خورونوش کی کمی نہیں ہونی چاہیے ۔  ذخیرہ اندوزوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ مہنگائی بڑھی تو طوفان برپا ہوا لیکن قیمتیں کم ہوئیں تو کوئی تذکرہ نہیں؟ مہنگائی پر کنٹرول کے لیے حکومت پنجاب کے اقدامات کو اجاگر کیا جائے۔

Facebook Comments