99

پولیس افسران کے اثاثہ جات کی تحقیقات شروع

اسلام آباد (آوازچترال )قومی احتساب بیورو(نیب)نے متعدد شکایات ملنے کے بعد وفاقی دارالحکومت سمیت ملک کے چاروں صوبوں کے ریٹائرڈ و حاضر سروس پولیس افسران کے اثاثہ جات اور بینک اکاؤنٹس کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ ابتدائی طور پر سندھ پولیس کے ڈیڑھ سو افسران کی بینک اکاؤنٹس  تفصیلات سٹیٹ بینک آف پاکستان سے طلب کرلی گئیں۔وفاقی دارالحکومت، پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے پولیس افسران کے بینک اکاؤنٹس کی تحقیقات بھی جلد کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ نیب نوٹیفیکیشن کے مطابق ابتدائی طور پر ایس ایس پی عہدہ تک رہنے والے سابق و موجودہ پولیس افسران جن میں دھنی بخش مری، راؤ ذاکر محمود، محمد علی مروت، راجہ محمد عباس، محمد سرفراز، ملک محمد سلیم، سردار الدین، شہزادہ سلیم، نذیر چانڈیو، جاوید عامر یوسفزئی، غلام فرید جٹ، محمد سلیم خان، سید ولایت حسین شاہ، فیاض اختر، رانا محمد لطیف عبدالغفار، محمد اسحاق، عبدالخالق مروت، فصیح الزمان، ارشد حسین لغاری، شاہد علی، نور محمد شیخ،عبداللہ وٹو، اسد اللہ داؤد، سرفراز عابدی، ملک فیصل لطیف، محمد رفیق، محمد اسماعیل، غلام رسول، خالد محمود، کرم خان لاشاری، یعقوب سومرو، سرفراز ککزئی، ایم گجر، شبیر حسین، محمد شریف، شبیر حسین، انوار محمود، ندیم راؤف، مجید خان، لال خان، امتیاز احمد خان، محمد نواز، غلام علی لاکھو، صائمہ سعید، محمد مٹھال، شوکت علی، منظور علی صدیقی، شازیہ جہاں، جاوید فیاض، شگفت گل انار، محمد آصف، گلزار علی ٹنو، راجہ محمد اسلم، محمد نعیم خان، جابر علی، ریحان خان، خان نواز، جاوید سکندر، محمد عرفان ودیگر شامل ہیں۔ نوٹیفیکیشن کے مطابق مذکورہ پولیس افسران کی فارن اور پاکستان میں بینک اکاؤنٹس سے متعلق سٹیٹ آف پاکستان سے تفصیلات طلب کی گئی ہیں تاکہ ان افسران کیخلاف پاکستانی قوانین کے مطابق کارروائی کی جاسکے۔ دوسری جانب نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس ڈیپارٹمنٹ سے متعلق متعدد شکایات موصول ہوچکی ہیں جس کے پیش نظر انہوں نے یہ کارروائی کرنے کافیصلہ کیا، ابتدائی طورپر سندھ بعد ازاں وفاقی دارالحکومت سمیت پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پولیس افسران و ان کے خاندان اثاثہ جات اور بینک اکاؤنٹس سے متعلق معلومات لی جائیں گی

Facebook Comments