191

سابق ناظم کو ہتھکڑی لگا کر درخت کے ساتھ باندھ دیا گیا

ہنگو (  آوازچترال) یہ ہے خیبر پختونخوا پولیس جس سے متعلق وزیراعظم عمران خان نے یہ دعوے کیے تھے کہ وہاں کی پولیس کو آئیڈیل بنا دیا گیا ہے۔صرف ایک تصویر نے ساری کے پی کے پولیس کا چہرہ عیاں کر کے رکھ دیا ہے کہ نہ تو پولیس بدلی ہے اور نہ ہی پولیس کلچر بدلا ہے۔خیبر پختونخوا پولیس کو اس قدر تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ واقعہ کا ذمہ دار سب انسپکٹر کو برخاست کرناپڑ گیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک تصویر جس میں ادھیڑ عمر شخص کو ہتھکڑی لگی ہوئی ہے اور اسے ایک درخت کے تنے کے ساتھ باندھا گیا ہے ا ور وہ شخص چپ چپ کھڑا صبر کی مثال بنا ہوا ہے۔یہ تصویر منظر عام پر آئی تو فوراً وائرل ہو گئی۔مبینہ تصویر سے متعلق بتایا گیا ہے کہ اس شخص کا نام حاجی زیارت گل ہے اور یہ خیبر پختونخوا کے علاقے ہنگو کا رہنے والا ایک کسان ہے۔ حاجی زیارت گل سے متعلق یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ وہ اپنے علاقے کا سابق ناظم بھی ہے۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ حاجی زیارت گل کی ہنگو بازار میں ایک فارمیسی ہے۔ایک نشے کا عادی فارمیسی پر ڈرگز لینے کے لیے گیا جس کے لیے اسے ڈاکٹر کی تجویز کردہ ڈرگ لینی چاہیے تھے۔ مگر اس کے پاس ڈاکٹر کی تجویز نہیں تھی۔جس پر زیارت نے اسے متعلقہ دوائی دینے کی بجائے اسی فارمولے کی اور دوائی دینا چاہی جو ا س شخص نے لینے سے انکار کر دیا اور وہاں سے چلا گیا۔ کچھ دیر بعد وہ شخص اپنے بیٹوں کے ہمراہ اس کی فارمیسی پر آیاور زیارت پر دو نمبر کوالٹی کی ادویات دینے کا الزام لگایا۔جس پر ان کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی اور دوسرے شخص نے حاجی زیارت کے خلاف 15پر شکایت درج کی اور پولیس موقعہ پر جا کر اسے گرفتار کر کے لے آئی۔تفتیشی افسر نعیم حسین موقعہ پر حاجی زیارت کو گرفتار کر کے لے آیااور تھانے کے باہر درخت کے ساتھ باندھ دیا۔تاہم مارکیٹ کی تاجر برادری موقعہ پر اکٹھی ہو گئی جس کے بعد صلح صفائی ہوئی اور حاجی زیارت کو رہا کر دیا گیا۔مگر اس موقعہ کی وہ تصویر سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوئی اور کے پی کے پولیس کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا جس پر اے ایس آئی کو نوکری سے معطل کر دیا گیا۔

Facebook Comments