66

لواری ٹنل کھلنے کی 11سال بعد بھی مکینکل اور الیکٹریکل کام مکمل نہ ھوسکا۔  

 چترال (نمائندہ آوازچترال) مکینکلاور الیکٹریکل سہولت ٹنل میں بنیا دی ضرورت ھے اگر خدا نخواستہ ٹنل کے اندر حادثہ رونما ھوا تو مکینکل اور الیکٹریکل کی سہولت نہ ھونے کے باعث بڑی تعداد میں انسانی جانیں ضائع ھو نے میں کو ئی شک نہیں ھے ٹنل میں مکینکل اور الیکٹریکل کام مکمل کرنے کیلئے اربوں روپے فنڈ کی ضرورت بتایا جاتاھے لواری ٹنل پاکستان کے سب سے بڑا اوردنیا میں 26 واں ٹریفک ٹنل ھے اور اس ٹنل پر وسط ایشیائی ممالک کے زمینی امدورفت کا دارومدارھے بیرون ممالک سمیت پاکستان کے کونے کونے کے سیاح اس ٹنل سے ھوکر گزرتے ھیں جبکہ دیر اور چترال کے عوام کی امدورفت کی مد میں روزانہ ھزاروں گا ڑیاں جس میں مال بردار گاڑیاں بھی ھوتی ھیں ٹنل سے گزرجاتی ھیں 1976 میں مختص 3کروڑ20لاکھ روپے کی فنڈ سے لواری ٹنل پرکام کا اغاز کیا گیاجو بعد میں ناگزیر وجوھات کی بناء پر کام بند ھوا اور پھر سابق صدر مشرف کے دور میں دوبارہ اس پر کا م شروع کیا گیا جس کے لیے 7ارب 50کروڑ فنڈ مختص کیا گیا لواری ٹنل پہلے ٹرین ٹنل منصوبہ تھا جسے بعد میں روڈ ٹنل منصوبہ میں تبدیل کیا گیا لواری ٹنل 2009ئمیں ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا مگر ٹنل میں کام کے باعث اکثرٹریفک کی امدورفت بند کرنا پڑتا تھا لواری ٹنل کورین سامبو کمپنی نے مکمل کیا جس پر 28ارب روپے خرچ ھوگئے ھیں مگر مکینکل اور الیکٹریکل کام نا مکمل ھے۔جس کے مکمل نہ ھونے سے مستقبل میں مشکلات پیدا ھو نے کا قوی امکان ھے۔ دوسری بنیادی بات یہ ھے کہ ٹنل پر ٹریفک کی امدورفت کھولنے کے بعد پرانا لواری ٹاپ روڈ سے توجہ ہٹائی گئی ھے جو گاڑیوں کی امدورفت کے قابل نہیں رھا۔اگر ٹنل کوئی حادثہ وغیرہ رونما ھوا تو زمینی راستہ منقطع ھونے سے ملک سمیت چترال کے عوام کو شدید مشکلات ھوں گے کیونکہ پرانا عدم توجہ کی وجہ سے ناقابل استعمال ھے دیر اور چترال کے عوام مے لواری ٹنل میں الیکٹریکل اور مکینکل کام مکمل کرنے اور پرانا لواری ٹاپ روڈ پرتوجہ دینے اور قابل استعمال بنانے کا مطالبہ کیاھے

Facebook Comments