68

نواز شریف کی سیاست کیوں نہ ختم کر سکا عمران خان؟؟……محمد ریاض

پاکستان کے تاحیات نااہل اور نیب عدالت سے سزا یافتہ سابقہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے پاسپورٹ کی معیاد 16  فروری 2021  کو ختم ہوچکی ہے اور حکومت پاکستان کے وزراء کی طرف سے با آواز بلند یہ اعلانات کئے جارہے ہیں کہ نواز شریف کے پاسپورٹ کی تجدید بالکل نہیں کی جائے گی، اس وقت نواز شریف حکومت برطانیہ کے رحم و کرم پر لندن میں قیام پذیر ہیں۔ ، وہ بیرون ملک کب تک رہیں گے اسکے بارے کچھ نہیں کہا جاسکتا،۔ وہ علیحدہ بات ہے کہ پاکستانی عدالت سے موت کی سزا کے مجرم پرویز مشرف جوکہ گزشتہ کئی سالوں سے متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں، انکے پاسپورٹ کی ناصرف تجدید کی جاتی ہے بلکہ انکے بینک اکاؤنٹ کو بحال بھی کیا جاتا ہے۔گزشتہ کئی ادوار سے پاکستان مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کی سیاست کو ختم کئے جانے کے اعلانات اور دعوے کئے جاتے رہے ہیں، لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہیں، آخر کیا وجہ ہے کہ کئی سالوں سے کرپشن کا راگ آلاپے جانے کے باوجود بھی پاکستانیوں کے دلوں سے نواز شریف سے سیاسی وابستگی کوختم نہیں کیا جاسکا۔ جب کبھی کہیں بھی الیکشن ہوں عوام الناس کی کثیر تعداد پاکستا ن مسلم لیگ نون کے امیدوار کو ووٹ ڈالنے کے لئے گھروں سے نکلتی ہے۔اس کی تازہ ترین مثال 19  فروری کو ہونے والے ضمنی الیکشن میں دیکھی جاسکتی ہے کہ خیبرپختونخوا ہ کے حلقہ پی کے 63 کی نشست پر ضمنی الیکشن حکمران جماعت پی ٹی آئی اپنی سیٹ ہار گئی۔غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) کے اختیار ولی نے پی ٹی آئی امیدوار کو شکست دے دی ہے۔ تمام 102 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے مطابق ن لیگ کے اختیار ولی نے 21 ہزار 122 ووٹ لیے اور وہ کامیاب رہے ہیں۔دوسری طرف صوبے کی حکمران جماعت پی ٹی آئی کے میاں عمر نے 17 ہزار 23 ووٹ حاصل کیے ہیں۔ یاد رہے کہ اسی نشست پر 2018ء کے انتخابات میں اختیار ولی کو پی ٹی آئی کے جمشید الدین نے تقریباً  ساڑھے 10 ہزار ووٹوں کے مارجن سے شکست دی تھی۔دوسری طرف صوبہ پنجاب کے ضلع گوجرانوالہ کے علاقہ وزیرآباد کی صوبائی اسمبلی کی نشست پر بھی مسلم لیگ نون کے امیدوار نے تحریک انصاف کے امیدوار کو بہت ہی بُرے طریقہ سے ہرا دیا۔ پی پی 51 وزیر آباد کے غیر حتمی نتائج کے مطابق (ن) لیگ کی بیگم طلعت محمود نے 53 ہزار 900 سے زائد ووٹ لیے۔ تحریک انصاف کے چودھری یوسف 48 ہزار سے زائد ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔پچھلے ہفتے صوبہ بلوچستان اور صوبہ سندھ کی تین صوبائی اسمبلیوں کی ضمنی انتخابات کی نشستوں پر حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔بلوچستان کے شہر پشین حلقہ 20   میں پی ٹی آئی کو شکست ہوئی،صوبہ سندھ کی دو صوبائی نشستوں حلقہ 88  ملیر اور حلقہ 43   سانگھر میں تحریک انصاف کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اور سب سے بڑھ کر ضلع سیالکوٹ کے علاقہ ڈسکہ کی قومی اسمبلی کی نشست NA 75  پرپاکستان مسلم لیگ کی یقینی کامیابی کا اعلان جو کہ 20  کے قریب پریزانڈنگ آفیسرز کے نامعلوم مقام پر گھم ہوجانے کی وجہ سے الیکشن کمیشن نہ کرسکا، بہرحال اس گھمبیر صورتحال کا چیف الیکشن کمیشن کے نوٹس لیا اور اک پریس ریلز جاری کرکے اس حلقہ کے نتائج کو جاری کرنے سے ریٹرننگ آفیسر کو روک دیا اور ساتھ ہی ساتھ انتظامیہ اور قانون نافظ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کا سوالیہ نشان چھوڑ دیا۔ بقول اپوزیشن ان ضمنی انتخابات میں بدترین ریاستی طاقت کے استعمال کے باوجود بھی حکمران جماعت ان انتخابات میں عوام الناس کی رائے کے آگے ہار گئی یا دوسرے لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ حکمران جماعت جس کے سربراہ پاکستان عمران احمد خان نیازی کا ان چند کرشماتی شخصیات میں شمار ہوتا ہے کہ جن کی جوانی سے لے کر بڑھاپے تک عوام الناس کی بہت بڑی تعداد انکے دیدار اور انکے ہر اشارہ کی طرف منتظر رہتی ہے۔ اور انکی ہر کال پر لبیک کررہی ہوتی ہے، باوجود عمران خان کی کرشماتی شخصیت، اڑھائی سالہ حکمرانی اور ہفتے میں سات دن نواز شریف کے خلاف کرپشن کرپشن کا راگ الاپنے، اپنے دور کی ہر ناکامیوں کا مدعااور نئے پاکستان میں ہونے والی مہنگائی کا الزام بھی نواز شریف پر لگانے کے، میڈیا پر اپنے ہمنواؤں کے ذریعہ آئے روز نواز شریف پر الزامات کی بوچھار کرنے کے باوجود بھی حکمران جماعت پاکستان کی عوام الناس کے دلوں سے سابقہ وزیراعظم نواز شریف سے دلی سیاسی وابستگی ختم نہ کرپائی۔ پاکستانی سیاسی تاریخ میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت شائد پہلی حکومت ہے کہ جو عام انتخابات میں جیتی ہوئی نشستیں ضمنی انتخابات میں ہار رہی ہے۔سندھ کے ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی امیدواروں کی ضمانت ضبط، بلوچستان میں شکست، کے پی کے اور پنجاب میں بھی شکست، لگ تو ایسے رہا کہ چاروں صوبوں میں عوام نے تبدیلی سرکار کو NRO   نہ دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ کسی موجودہ حکومت کا ضمنی انتخاب ہارنا بہت ہی کم دیکھنے کو ملتا ہے کیونکہ وہ اپنے مطلوبہ نتائج کو یقینی بنانے کے لئے اپنی طاقت،ترقیاتی فنڈز کے اجراء او ر انتظامی اثر و رسوخ کا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں، تمام تر اختیارات کا استعمال کرنے کے باوجود بھی اگر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت مطلوبہ نتائج حاصل نہ کرپائی تو یہ خطرے کی گھنٹی والا محاورہ پاکستان تحریک انصاف پر مکمل فٹ آتا ہے۔ .میڈیا، انتظامیہ اور تمام اداروں کے same page  پر ہونے اور قریبا اڑھائی سال اقتدار میں رہنے کے باوجود بھی پاکستان کی عوام الناس پوچھتے ہیں کہ ہماری زندگی پہلے سے کہیں زیادہ خراب کیوں ہے؟  اتنی مہنگائی کیوں ہے؟  بدعنوانی میں اضافہ کیوں ہوا؟ نئے پاکستان میں اپنا کام نکلوانے کے لئے رشوت کے ریٹ کیوں بڑھ گئے ہیں؟ پٹرول مہنگا کیوں مل رہا ہے؟ بے روزگاری میں اتنا اضافہ کیوں ہے؟  حکومت وقت کا مہنگائی کا ذمہ دار نواز شریف کو ٹھہرانے پرعوام الناس تحریک انصاف کی حکومت سے یہ پوچھتے ہیں کہ لندن میں بیٹھا شخص پاکستان کے معاملات کو کنٹرول کر رہا ہے تو پھر آپ کا اقتدار میں رہنے کا کیا فائدہ؟ حقیقت میں تبدیلی سرکار نے عوام الناس کو اپنی کارکردگی سے انتہائی مایوس کردیا ہے، نئے پاکستان کے قریبا اڑھائی سالہ اقتدار میں بھی لوگ نواز شریف کی حکومت کو یاد کررہے ہیں، کسی بھی گلی محلہ میں چلے جائیں آپکو عوام الناس کی 70 فیصد سے زائد آبادی نواز شریف کو یاد کرتی ہوئی نظر آئے گی۔ کیونکہ نئے پاکستان میں مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے، عوام یہ کہنے پر مجبور ہوچکی ہے کہ نواز شریف (بقول موجودہ حکمران پارٹی) رج کے کرپشن بھی کرتا تھا مگر وطن عزیز میں آج کی طرح کی معاشی بدحالی نہ تھی، اور نہ ہی انتہادرجہ کی مہنگائی تھی۔پرانے پاکستان میں حکمران رج کے کرپشن بھی کرتے تھے لیکن ساتھ ساتھ میگا پراجیکٹس بھی بن رہے تھے، اسکے ساتھ ساتھ ضروریات زندگی کی اشیاء آج کی نسبت انتہائی ارزاں نرخوں پر مل رہی تھی، کبھی آٹا اور چینی کا بحران نہیں تھا، پرانے پاکستان کے حکمرانوں کے سامنے وطن عزیز میں بجلی و گیس کے شدید ترین بحران بھی تھے اور دہشت گردی کے معمالات بھی تھے جن پرپرانے کرپٹ حکمرانوں نے نا صرف قابو پایا بلکہ ملکی معیشت کو استحکام بھی بخشا، لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ نئے پاکستان کے حکمران کرپٹ بھی نہیں ہیں اور نہ ہی کوئی میگا پراجیکٹس لگ رہے ہیں مگر رج کے مہنگائی اور ہر جگہ پر کرپشن کا بازار بھی گرم ہے، عوام الناس یہ سوچنے پر مجبور ہوچکی ہے کہ نئے پاکستان کے ایماندار حکمرانوں کے دور میں ملکی معیشت کا ستیاناس کیوں ہورہا ہے، اور ملکی قرضے تاریخ کی بلند ترین سطح تک کیوں پہنچ چکے ہیں، تبدیلی سرکار تو پاکستان کو  IMF کے چنگل سے نکالنے کے لئے آئی تھی، مگرنئے پاکستان میں تو گنگا ہی اُلٹی بہ رہی ہے انہوں نے تو IMF  کے ملازم حفیظ شیخ کو اپنا وزیر خزانہ بنا لیا ہے اور اب تو اس بندے کو سنیٹر بھی بنوانے جارہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ عوام الناس کی بہت بڑی تعداد پاکستان مسلم لیگ نون کو میاں محمد نواز شریف کے نام پر ووٹ دیتی ہے، اسکی وجوہات  Open Secret  ہیں کہ نواز شریف دور میں بننے والے میگا پراجیکٹس ہیں، یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ پاکستانی تاریخ کے تمام میگا پراجیکٹس کی اگر لسٹ بنائی جائے تو نواز شریف کے حصہ میں آنے والے پراجیکٹس کی تعداد پاکستان کے تمام سابقہ و موجودہ حکمرانوں سے زیادہ ہوگی۔ موجودہ حکمرانوں کے لئے یہ سبق ہے کہ اگر وہ نواز شریف کو پاکستانی سیاست سے حقیقتا آؤٹ کرنا چاہتے ہیں تو نواز شریف سے بڑھ کر ملک و قوم کی خدمت کرنی پڑے گی ورنہ پاسپورٹ کی مدت میعاد کی آپ تجدید کریں یا نہ کریں، آپ نواز شریف کو مریم نواز شریف، شہبا ز شریف، حمزہ شہباز، شاہد خاقان عباسی، خواجہ آصف، احسن اقبال، رانا ثناء اللہ اور بہت سے دوسرے لوگوں سمیت جیلوں میں ڈال دیں مگرپھر بھی آپکو عوام کی خدمت کرنا ہی پڑے گی، ورنہ آپ نوازشریف کا پاسپورٹ تو ختم کرسکتے ہیں مگر نواز شریف کی سیاست ختم نہیں کرسکیں گے۔

Facebook Comments