65

بجلی کی ناروا لوڈ شیڈنگ کے خلاف تحریکِ حقوق کی کال پر اپر چترال میں احتجاجی جلسہ۔

اپر چترال(ذاکرذاخمی سے)گزاشتہ ایک مہینے سے اپر چترال میں بجلی کی ناروا لوڈ شیڈنگ جاری ہے۔پیڈو اور واپڈا اپنی سابقہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھرکر اپر چترال کی عوام کو بجلی کی سہولت سے یکسر محروم رکھے ہوئے ہیں۔ایک طرف سردیاں عروج پر ہوتی ہے دوسرے جانب ان کے پاس اپر چترال کے عوام کواندھیروں میں رکھنے کے ہزار بہانے ہوتے ہیں۔اس وجہ سے اپر چترال میں نظام زندگی درہم برہم ہے ایک طرف کرونا کی بنا آن لائن کلاسیں ہیں دوسرے جانب بجلی ناپید اور طباء

و طالبات کی مستقبل خطرے سے دوچار ہے ساتھ کاروباری طبقے بچوں کے پیٹ پالنے سے قاصر ہیں تو دوسری طرف گھریلوی صارفین مشکلات سے دوچار ہوتے ہوئے اداروں کو بد دعائیں دینے میں مصروف۔ تحریک تحفظِ حقوق اپر چترال حالات کی سنگینی اور حساسیت کے پیش نظر لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کی کال دیکر آج چرون میں احتجاجی جلسہ منعقد کیا جس میں علاقے کے سیاسی و سماجی شخصیات کے علاوہ کثیر تعداد میں عوام نے شرکت کرکے اپنے احتجاج ریکارڈ کرائی۔جلسہ کی صدارت صدر تحریک مختار احمد نے

کی جبکہ نظامت کے فرائض تحریک کے سرگرم رکن اورنوجوان سیاسی قیادت پرویز لال نے انجام دی اور مہمانِ خصوصی ریٹائرڈ صوبیدار احمد نورحسین تھے۔ابتدا میں پرویزلال نے حالیہ بدترین لوڈ شیڈنگ کے بارے تفصیل سے بریفینگ دی۔ مقررین جن میں قابل ذکرریٹائرڈ ایس۔ایم قربان علی،وزیر شاہ،حسین زرین،محمد علی شاہ،محی الدین،عارف اللہ،رحمت سلام لال،میر ایوب،سابق تحصیل ناظم شمس الرحمٰن لال،سلطان نگاہ،شاہ وزیر لال،عبداللہ جان،سید سردار حسین شاہ، صوبیدار نو رحسین،اور صدرِ جلسہ صدر تحریکِ حقوق اپر

چترال مختار احمد شریک تھے،محکمہ پیڈو، واپڈا، عوامی نمائیندہ گان اور ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی کو مایوس کُن قرار دیکر شدید تنقید کی۔ اور عوامی نمائیندوں کو عوامِ اپر چترال کو بے یارو مدد گار چھوڑنے پر غم و غصے کا اظہار کیا۔متفقہ قرار داد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ بجلی کی جلد بحالی کے ساتھ ساتھ اپر چترال میں گریڈ اسٹیشن قائم کی

جائے تب تک کوغوزی سوئچ یارڈ سے اپر چترال کو بجلی فراہم کرنے اور شیڈو کے دفتر اور شکایت افس بونی منتقل کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ متفقہ قرار داد کے ذریعے عوامی نمائیندہ گان ایم۔این۔اے،ایم۔پی۔اے، اور تحریکِ انصاف اپر چترال کے ضلعی صدر رحمت غازی کو ایک ہفتے کے اندر بونی اکر مسلہ مستقل بنیادوں پر حل کرانے کا مطالبہ بھی کیاگیا۔ بصورتَ دیگر ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں جو بھی شدیدعوامی ردِ عمل ہوا تو اس کی زمہ داری عوامی نمائیندوں، پیڈو، وپڈا اور ضلعی انتظامیہ عائد ہوگی۔ تین فروری کی ڈیڈ لائن دی گئی۔ تاریخ گزرنے کے بعد عوام اپر چترال اپنا لایحہ عمل مرتب کریگی۔اگر تین فروری سے قبل مسلہ حل نہ ہوا تو بونی میں بھر پور انداز میں جلسہ منعقد کیا جائیگا۔ جلسے کے بعد اگے کا لایحہ عمل طے ہوگی۔

Facebook Comments