83

چنیوٹ میں چترالی بیٹی کا بہیمانہ اور سفاکانہ قتل…..مولانا محمد الیاس جیلانی

گذشتہ دنوں چنیوٹ میں چترالی بیٹی کا بہیمانہ اور سفاکانہ قتل اہل چترال کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیتاہے۔اسے قبل بھی کٸی ایک ایسے دلخراش واقعات ہم دیکھ اور سن چکے ہیں اور چند دنوں تک اظہار افسوس اور کف افسوس ملنے کے بعد یہ لرزہ خیز واقعہ بھی ہم بھلا ہی دیں گے۔ اس المناک واقعے کا عملی نوٹس لینے پر ہم ڈی پی او چترال محترمہ سونیا شمروز کا دل کی گہراٸیوں سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنا فرض منصبی سمجھ کر اسی روز ڈی پی او چنیوٹ سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے اہل چترال کے غم و غصے اور احتجاج سے انہیں باخبر کیا اور زیر حراست سفاک مجرم کو کیفر کردار تک پہنچانے کا بھرپور مطالبہ کیا۔یقینا حال ہی میں شہادت کے رتبے پر سرفراز ہونیوالی پھول جیسی بیٹی اور معصوم کلی سمیت مختلف اوقات میں وحشی درندوں کی ظلم و ذیادتی اور سفاکیت کا شکار ہونے والی چترال کی بیٹیاں بزبان حال ہم سے یہ فریاد کررہی ہیں کہ اے اہل چترال تم کب تک خواب خرگوش کے مزے لیتے رہوگے۔چترالی باپ کا پیار اور ماں کی ممتا کب تک ایسے دلخراش اور کربناک واقعات سہتے رہیں گے۔لالچ و خود غرضی کی روش اپنا کر دلال شہر منظر غیروں کو سونپ کر خود پس منظر میں رہتے ہوٸے کب تک ماں باپ اور بہن بھاٸیوں کو ہنگامہ غم و الم میں جھونکتے ہی رہیں گے ۔تم کب تک چاقو اور دوسری الات قتل کے پے درپے وار سے چھلنی جسموں سے لپٹ لپٹ کر نالہ و فریاد کرتے رہوگے? کیا اب بھی معصوم و بیگناہ پھول جیسی بیٹیوں کی ذندگیوں سے کھیلنے والے دلالوں سے دامن چھڑانے کا وقت نہیں ایا? کیا تم اپنا فیصلہ اپ کرنے میں ازاد نہیں ہو اور دلالوں کی چرپ زبانی سے متاثر ہوکر بہتر مستقبل کی موھوم أس میں خود اپنے ہاتھوں اپنی اولاد کو ذبح ہونے کیلٸے بیاہتے ہی رہوگے? کیا ہمارے بھاٸی اپنی بہنوں کی مسخ شدہ اور چھلنی لاشوں کو حیرت و استعجاب اور یاس کی تصویر بنکر کندھا دیتے ہی رہیں گے? کیا ہماری بہنیں چشم تصور میں ہماری بے بسی اور صدا بصحرا چیخ و پکار سینوں میں دباٸے أنسٶ بہاتی رہیں گی? کیا ہماری بن بیاہی بہنیں عقل و بصیرت سے عاری ہوچکی ہیں یا وہ بھی ذھن کی سکرین پر مستقبل کا تاج محل سجاٸے, دلالوں اور سہولت کاروں کی بھینٹ چڑھتی رہیں گی? کیوں نہ وہ ہماری تن ھمہ داغ داغ جسموں سے عبرت نہیں پکڑتیں۔اب بھی وقت ہے کہ تم خوشیوں کے خرمن کے حصول کی خاطر اپنے اپکو سفاک درندوں کے حوالے نہ کرو اور بے غیرت دلالوں کے چنگل سے اپنے اپکو بچاٸے رکھو۔ان مار أستینوں کا پیغام رسانی اور وعدہ فردا محض چند ٹکوں کی خاطر انکی ذات تک محدود ہے انہیں کسی کی خوشی و مسرت اور غم و الم سے سروکار نہیں ہوتا انکا ضمیر مردہ اور عقلوں پر بے رحمی لالچ اور ذاتی مفاد کی چادریں تنی ہوٸی ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ تقدیر کے سامنے ہر کوٸی بے بس ہے اور تقدیر کے فیصلے اٹل ہوتے ہیں موت کا ایک دن متعین ضرور ہے جو رات قبر میں انی ہے وہ رات انسان زمین کے اوپر نہیں گذار سکتاہے لیکن دلالوں کے جھانسے میں اکر اپنے اپکو وحشی درندوں کے رحم و کرم پر چھوڑنا ::: ولا تلقوا بایدیکم الی التہلکة::: کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔اے ہمارے قابل احترام بزرگو اور بنت چترال کے والیو اور مختارو بے غیرت دلال کے سبز باغ دکھانے پر خوشیوں سے سرشار ہوکر بنت چترال کی نفرت بھری خاموشی کو بھی رضا مندی کی دلیل گردان کر بیک جنبش لب میری بیٹی حاضرہے کا راگ مت الاپٸیے پہلے اپنی طرف سے ہونیوالے داماد کے بارے میں مکمل اور تسلی بخش معلومات تو حاصل کرلے ۔کیا تجھے نہیں معلوم کہ دلال لوگ اپنی چرپ زبانی اور ملمع سازی سے راکھ کے ڈھیر کو سونا اورخرکار و خاکروپ کو چودھدری اور سرکار بنا کر پیش کرنے کے فن میں ید طولی رکھتے ہیں ۔ اے ولی و مختارو یہ بات پلے بانھ لو کہ اپنے لخت جگر کی قسمت کا فیصلہ کرنے سے پہلےسابق ڈسٹرکٹ انتظامیہ کیطرف سے منظور شدہ قانون کے تحت چترال تھانے میں انسپکٹر رینک کے افیسر سے تفتیش کے مراحل تو پوری کرلے جو اسی کام کیلٸے مقرر ہے اگر تفتیشی افیسر مختلف ذراٸع سے اس معاملے کو ہینڈل کرنے بعد کلین چٹ دیکر موزون قرار دے تب اپنے لخت جگر کو غم روزگار سے بے فکر ہوکر عقد نکاح کے بندھن میں بانھ لے ۔اے ہمارے دست و بازوو : ہمیں غیروں کے حوالے کرنے سے پہلے دعوت و عزیمت کے جذبہ خدمت سے سرشار ٹیم کیساتھ رابطہ تو کرلیں جو بغیر کسی لالچ اور ذاتی مفاد کے اپنے شب و روز چترال کی عزت و ناموس کیلٸے وقف کٸے بیٹھے ہیں اور لواری پار شادی کے حوالے سے قانون سازی بھی انہی کی مرھون منت ہے۔ہم ای بار پھر ڈی پی او صاحبہ کا بصمیم قلب شکریہ ادا کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ یہ درخواست بھی کرتے ہیں کہ اپ صنف نازک ہونے کے ناطے ماں اور بیٹی کے درمیان رشتہ موودت باپ اور بیٹی کے مابین مخبت کے جذبات اور بہن بھاٸی کی ایک دوسرے کے لٸے پیار کے جذبات و کیفیات کو ہم سے بہتر جانتی ہیں لہذا اہل چترال خصوصا غریب طبقات پر رحم کرتے ہوۓ لواری پار شادی کے حوالے سے قانون پر عمل درامد یقینی بناٸیں اور صنف نازک کے مستقبل سے کھیلنے والے دلالوں اور سہولت کاروں کو قانون کی گرفت میں لاٸیں تاکہ ایسے واقعات کا سدباب ہو سکے۔ہم یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ ہم لواری پار شادی کے ہرگز مخالف نہیں بحیثیت مسلمان اور پاکستانی ہم سب ایک ہیں اچھے اوربرے ہر معاشرے میں ہوتے ہیں۔البتہ ایک بات طے ہے کہ بغیر تفتیش اور تحقیق کے محض دلالوں کے کہنے پر پولیس اور دعوت و عزیمت سے چھپ چھپا کر کٸے ہوۓ رشتوں کے نتیجے میں ایسے دلخراش واقعات وقوع پزیر ہتے اٸے ہیں۔

Facebook Comments