71

سیاسی تعصب کو با لائے طاق رکھتے ہوئے چترالیو ں کے مہمان نوازی۔۔۔۔۔۔مولانا محمد الیاس جیلانی

خیبر پختونخواہ کے تمام اضلاع میں سے چترال ہی واحد ضلع ہے کہ یہاں کے باشندے کسی بھی پارٹی سربراہ کی چترال امد کے موقع پر سیاسی تعصب کو بالاٸے طاق رکھتے ہوۓ والہانہ انداز میں استقبال کرتے ہیں اور معزز مہمان کی عزت افزاٸی اور بدوران خطاب موقع محل کی مناسبت سے دل کھول کر داد تحسین دینے میں بخل سے کام نہیں لیتے اور پارٹی سربراہاں یہاں سے ایک اچھا اور مثبت تاثر ہی لیکر جاتے ہیں لیکن سیاسی پسماندگی کے حوالے سے عملی طور پر چترال کیساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک ہی روا رکھتے ہیں۔ البتہ سابق صدر مملکت جنرل ضیاالحق شہید نے چترال کی سیاسی پسماندگی کو دیکھتے ہوۓ کمانڈر انچیف شہزادہ برھان الدین مرحوم کو ایوان بالا کا رکن منتخب کیا تھا تب سے ابتک تقریبا عرصہ 33 سال سے ایوان بالا کی درودیواریں چترال سے رکن ایوان کے اواز سننے کی منتظر ہیں ۔نا انصافی ہوگی اگر تحریک انصاف کے احسان سے چشم پوشی کیجاٸے کہ جس نے 2013 اور 2018کے جنرل الیکشن میں بالترتیب محترمہ فوزیہ بی بی کو خواتین کی مخصوص نشست پر اور محترم وزیر ذادہ کو اقلیتی رکن اسمبلی کی حیثیت سے چناٶ کرکے دوسری جماعتوں پر سبقت لے گٸی ہے اور چترالی قوم اسکو تحسین کی نگاہ سے دیکھتی ہے کیونکہ موجودہ وقت میں حکومتی بنج اور صوباٸی کابینہ میں چترال کا حصہ شامل ہے اگرچہ یار لوگ اقلیت کی رٹ لگاٸے بیٹھے ہیں جو بھی نام دیں لیکن پھر بھی ہے تو چترالی۔اب مارچ میں ایوان بالا کی 50 فیصد نشستوں پر معزز ممبران کا انتخاب ہونے جارہاہے ۔صوباٸی سطح پر تحریک انصاف عددی اعتبار سے ٹاپ پوزیشن پرہے۔2018 کے جنرل الیکشن میں چترال سے تحریک انصاف نے محض چند ہزار ووٹوں سے شکست کھاٸی ہے اپر اور لوٸر میں حاصل کردہ ووٹوں کا مارجن کافی بھاری ہے اس اعتبار سے تحریک کے کارکنوں کا حق بنتا ہے کہ صوباٸی اور مرکزی قیادت ایوان بالا کیلٸے ان میں سے کسی کا انتخاب کرے اور چترال کی سطح پر تحریک انصاف کے پاس اہلیت و قابلیت سے بھرپور افراد و شخصیات موجود ہیں ۔ الیکٹورل کالج کے ممبران کے اعتبار سے جمعیت علما اسلام اور مسلم لیگ ن کے پاس ممران کی تعداد اتنی ہے کہ وہ بمشکل ایک ایک سیٹ نکال سکتی ہیں ۔اگر سیاسی تاریخ کی ورق گردانی کیجاۓ تو 2002 ماضی قریب کے بلدیاتی انتخابات اور 2018 کے جنرل الیکشن میں مجلس عمل نے بھاری اکثریت سے سیٹیں جیت چکی ہے اب اسکا تقاضا یہ ہے کہ جمعیت علما اسلام اب کی بار ایوان بالاکیلٸے چترال کو پہلی ترجیح پر رکھ لے ۔جمعیت چترال کے پاس علمی اور سیاسی لحاظ سے کٸی نامور شخصیات موجود ہے۔مسلم لیگ بھی ایک طویل عرصے تک چترال پر راج کرچکی ہے اور وہ اس قرض کو چکانے کیلٸے یہاں سے کسی کا انتخاب کرلے مسلم لیگ کے پاس بھی ایک سے بڑھ کر اہل افراد کی کوٸی کمی نہیں ہے۔موجودہ حالات میں ضلعی جماعتوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ ٹھوس اور جامع منصوبہ بندی کیساتھ اگے بڑھیں اور اولا یک نکاتی ایجینڈا چترال کو ایوان بالا میں نماٸیندگی پر اتفاق کرلیں ۔مذکورہ مسلہ حل ہونے کے بعد باھمی مشاورت سے کسی ایک کا نام تجویز کریں۔گروپ در گروپ اپر اور لوٸر میں تقسیم سے مطلوب و مدعا کا حصول ناممکن ہی نہیں بلکہ کوٸی بھی جماعت اسکو در خور اعتنا بھی نہیں سمجھے گی۔لہذا ہم سب کو چترالی بنکر چترال کیلٸے سوچنا ہوگا۔

Facebook Comments