58

دھڑکنوں کی زبان…..”آؤ لاشوں پہ سیاست کریں“……محمد جاوید حیات

یہ کوئی ان ہونی بات نہیں یہ ہماری پرُانی ریت ہے ہم اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کسی بھی حد تک جاتے ہیں۔خواہ وہ مقاصد گھناونے ہی کیوں نہ ہوں ہمیں ان کو حاصل کرنا ہے۔۔۔ہمارے ہاں سیاسی مقاصد ہی ہیں جو گھناونے لگتے ہیں۔ہم نے اپنے بابا”بابا? قوم“ کی صحت یابی اور علاج کو مقصد نہیں سمجھا اس کو زیارت بلوچستان بھیج کر گویا اس پر احسان کیا ثبوت کے لیے ہم فاطمہ جناح کی My brother پڑھ سکتے ہیں۔۔ہم نے قاید ملت کو سر عام بھون ڈالا اس کی لاش پر سیاست کی۔کسی کو پتہ چلنے نہ دیا کہ وجہ کیا تھی۔۔۔ہم نے اپنے مشرقی بازو میں ڈٹ کر لاشوں پر سیاست کی۔۔بازو ٹوٹ گیا ہم شکست کھا گئے۔۔ہوس اقتدار نے ہمیں اندھا کر دیا۔1986 میں ہم نے جمہوریت کاقتل کر دیا۔لاشوں پر سیاست کی۔۔ہمارا جغرافیہ ہی بدل جاتا رب نے ہمیں بچا لیا۔۔۔محترمہ بے نظیر بھٹووزیر اعظم تھیں۔۔اس کے سگے بھائی کو گولیوں سے بھون ڈالا گیا۔لاش سڑک پہ پڑی رہی۔جب روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی تب اس کو ہسپتال ڈاٹسن میں پھینک کے لایا گیا۔۔ہم نے لاش پر سیاست کی۔۔کراچی میں ایم کیو ایم نے لاشوں پر سیاست کی۔۔بلوچستان میں چند وڈھیرے خاندانوں نے لاشوں پر سیاست کی۔سندھ میں بھوک اور قحط سے لوگ مرے ہم نے ان کے درد کا مداوا نہیں کیا ہم نے لاشوں پر سیاست کی۔ہم نے باجوڑ میں نہتے معصوم مدرسے کے طالب علموں کی لاشوں پر سیاست کی۔۔صوبے کے سینئر وزیر نے احتجاجاً استعفیٰ بھی دے دیا مگر کوئی ٹھس سے مس نہیں ہوئے۔۔۔لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں ہم نے لاشوں پر سیاست کی۔بینظیر بھٹو دن دیہاڑے قتل کیا گیا۔۔ہم نے اس قتل کو کیش کیا۔دشمن ہمہ وقت تاک میں رہتا ہے ملک میں بڑے پیمانے پر دہشت گردی ہوئی محافظین نے اپنے لہو سے اس سر زمین کو رنگیں کیا۔۔۔اس بار بھی ہم نے لاشوں کی سیاست کو نہیں چھوڑا دشمن کے مفادات کو ترجیح دیتے رہے۔۔کشمیر ہمارا درینہ مسئلہ ہے سب کا مسئلہ ہے مگر کشمیر ایشو پر ہم ایک دوسرے کو الزام دیتے رہتے ہیں۔۔ملک میں زلزلہ آتا ہے بے چارے عوام زمین میں دھنس جاتے ہیں ہم لاشوں پر سیاست کرتے ہیں حکومت وقت کو اڑھے ہاتھوں لیتے ہیں۔۔ملک میں سیلاب آتا ہے لوگ سیلابی ریلوں میں بہہ جاتے ہیں ہم سیاست کرتے ہیں۔یہ ہماری پرانی عادت ہے ہم کسی کی اشک شوئی نہیں کرینگے۔مصیبت کے وقت کسی کے کام نہیں آئیں گے ہم سیاست کرینگے۔ہمارے سینے میں دل نہیں پتھر ہیں۔ہمارے اردگرد ایک چیخ و پکار ہے ایک بے ہنگم شور جس کو ہم سیاست کا نام دیتے ہیں۔۔ہمارا حافظہ بہت کمزور ہے۔۔کس کے دور میں لاشیں نہیں گری کس نے لاشوں پر سیاست نہیں کی۔۔۔یہ ہم بھول جاتے ہیں۔۔اگر کہیں اندوہناک سانحہ ہوتا ہے تو یہ بحیثیت قوم ہم سب کا مسئلہ ہے۔ اس کو مشترکہ مسئلہ نہیں سمجھتے۔ہم جان بوجھ کر ایک دوسرے کو ہدف تنقید بناتے ہیں۔۔بلوچستان دشمن کے نشانے پہ ہوتا ہے اس کو جب بھی موقع ملتا ہے اپنے گھیناؤنے عزائم کی تکمیل کی کوشش کرتا ہے۔۔ہم سب کو پتہ ہے لیکن ہم ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہراتے رہتے ہیں۔۔مچھ میں گیارہ معصوم جانوں کا قتل عام ہوا یہ کھلی دہشت گردی ہے۔۔حکومت اسی لمحے وہاں پر پہنچ جاتی۔۔ پوری قوم متحد ہو جاتی۔۔دہشت گردی کے سامنے ڈٹ جاتی۔۔۔مگر ہم ان لاشوں پر بھی سیاست کر رہے ہیں۔۔جو بھی لیڈر وہاں جاتا ہے اس کے ہر جملے سے سیاست ٹپکتی ہے خلوص کی بو نہیں آتی۔اس مسئلے کی تہہ تک بھی پہنچنے کی کوئی کوشش نہیں کرے گا۔۔بس ایک دوسرے کو کوسینگے اور ٹھنڈے ہو جائینگے۔مصیبت زدہ گھرانے اسی طرح تنہا رہ جاینگے۔۔کتنے ماورائے عدالت قتل ہوتے ہیں بس ایک شور اُٹھتا ہے پھرتھم جاتا ہے۔۔۔کتنے ریپ کیسز ہیں۔۔۔شرمناک اور حیوانیت کی آخری حد ہے لیکن کوئی توجہ نہیں۔۔بس ہم عملی طور پر کچھ کرنے کی بجائے ایک دوسرے کو گالیاں دینے اور موقع ملنے پر ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔اب کی بار بھی لاشوں پر سیاست ہوگی۔۔۔شور مچانے والے نہ حکومت کو کچھ کرنے دینگے نہ خود کچھ کرینگے۔۔۔بس لاشوں پر سیاست پر ناکام سیاست کرینگے۔

Facebook Comments