94

بونی کے معتبرات…. دومادومی میں تعمیر شدہ بجلی گھر کو فعال بنایا جائے حالانکہ مذکورہ بجلی گھر پہلے سے فعال ہے۔

چترال   ( آوازچترال  رپورٹ) دومادومی اپر چترال میں ایس آر ایس پی کی طرف سے بونی کو بجلی کی ترسیل کیلئے تعمیر شدہ 500کلوواٹ کے بجلی گھر کو فعال بنانے بصورت دیگر مطالبات کی منظوری تک دھرنا دینے کی دھمکی حقائق کے برخلاف اور ذاتی عناد لگ رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ دنوں بونی کے بعض معتبرات کی طرف سے مقامی میڈیا کو جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ دومادومی میں تعمیر شدہ بجلی گھر کو فعال بنایا جائے حالانکہ مذکورہ بجلی گھر پہلے سے فعال ہے۔بونی میں بجلی کے مسئلے سے دوچار اور مذکورہ بجلی گھر کی تعمیر کے پس منظر سے باخبر لوگوں کیلئے مذکورہ اخباری بیان حیران کن ہے۔ اس حوالے سے حقائق کا جائزہ لینے اور متعدد افراد سے رابطہ کرنے سے یہ بات عیاں ہو گئی کہ مذکورہ بجلی گھر نومبر 2017میں مکمل ہوا تھا او ر مختلف مراحل اور معاملات کے حل کے بعد مار چ 2020میں اس بجلی گھر سے بونی کو بجلی کی فراہمی جاری ہے اور دسمبر 2020تک ایس آر ایس پی نے اپنے اس بجلی گھر سے پیڈو کے ذریعے بونی کو پانچ لاکھ کلوواٹ سے زائد بجلی فراہم کی ہے۔ اگر اس فراہم کردہ بجلی کا حساب واپڈا کے نرخ کے مطابق لگایا جائے توبجلی فراہم کی مد میں یہ رقم 70لاکھ روپے سے زائد بنتی ہے جبکہ پیڈو کے نرخ کے حساب سے یہ 15لاکھ روپے کی خطیر رقم بنتی ہے۔ اس تمام صورتحال میں دلچسپ امر یہ ہے کہ ابھی تک بجلی کی فراہمی کے مد میں پیڈو کی طرف سے ایس آر ایس پی کو کوئی ادائیگی نہیں ہوئی ہے کیونکہ پیڈو کی طرف سے ادائیگی کا اپنا ایک طریقہ کار ہے جسے پورا کرنے میں کئی مہینے لگتے ہیں مگر اس کے باوجود ایس آر ایس پی نے علاقے کے عوام کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے ذرائع سے بجلی کی فراہمی کو جاری رکھا ہوا ہے، دیکھ بھال کا سارا انتظام جس میں سپیئرپارٹس،چینل کی صفائی اور دیکھ بھال کے دیگر امور ایس آر ایس پی اپنے محدود وسائل کے اندر رہتے ہوئے کر رہی ہے مگریہ عمل طویل عرصے تک جاری نہیں رکھا جا سکتا کیونکہ ادارے کے پاس بھی وسائل کی کمی ہوتی ہے۔
اس حوالے سے ہمارے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے ایس آر ایس پی کے بجلی گھر سے استفادہ کرنے والے صارفین نے بتایا کہ ادارے کی طرف سے فراہم کی جانے والی بجلی بلاتعطل جاری ہے، لوڈ شیڈنگ نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ اس بجلی کی وولٹیج بھی 220تک ہوتی ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں دوسرے علاقے میں جہاں دیگر سسٹم یعنی نیشنل گرڈ سے بجلی فراہم ہورہی ہے وہاں بجلی لوڈشیڈنگ معمول بن چکا ہے، وولٹیج بھی ہمیشہ کم رہتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گرمیوں کے ایام میں 660گھرانے کو اس بجلی گھر سے بجلی فراہم ہوتی تھی جوکہ بونی کا تقریباً نصف ہے تاہم اب سردیوں کے ایام میں 332گھرانے بجلی سے مستفید ہورہے ہیں جبکہ یہ بھی بتایا گیا کہ بجلی گھر کے ہیڈ میں کچھ بہتری لانے سے بجلی کی پیداوار 500کلوواٹ تک پہنچ جائیگا۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پہاڑی علاقوں میں قائم بڑے اور چھوٹے پن بجلی گھروں کی پیداوار سردیوں میں بہت ہی کم ہوتی ہے جسکی مثال 108میگاواٹ گنجائش والے گولین گول بجلی گھر کی ہے جو کہ بمشکل 60میگاواٹ پیداوار دے پارہی ہے جبکہ سردیوں میں یہ پیداوار صرف 7سے 10میگاواٹ کے درمیان ہوتی ہے۔

Facebook Comments