51

دھڑکنوں کی زبان…..”نئے سال کا جن“..…محمد جاوید حیات

نئے سال کے جن کی یہ73 بار کی آمد تھی۔۔ہر سال آتا ہے۔۔ملک میں موجود بہت سارے جنوں کو ہدایات دے کے جاتا ہے۔۔کچھ کو بوتل سے باہ آنے کی ہدایت کرتا ہے کچھ بوتلوں میں بندکرکے اطمنان سے پاک سر زمین کی ترقی و خوشحالی اور سلامتی کی دعائیں دے کے چلا جاتا ہے لیکن بد قسمتی سے جن جنوں کوآزادی کا حکم دے کے جاتا ہے وہ بدستور بند رہتے ہیں اور جن کو بند رہنے کا حکم دے کے جاتا ہے وہ سب نا فرمان سے جن بوتلوں سے باہر آتے ہیں حالانکہ دنیا میں دوسری جگہ کہیں ایسا نہیں ہوتا۔۔مثالاًنئے سال کے جن نے امن خوشحالی ترقی صداقت دیانت استحکام شرافت انصاف اور سچ کے جنوں کو ہدایت کی تھی کہ فوراً بوتلوں سے باہر اآؤ۔اور پاک سر زمین پر راج کرو۔۔۔جھوٹ منافقت ظلم مہنگائی بے سکونی نفرت حسد تخریب خودغرضی لالچ اقربا پروری کے جنوں کو بوتلوں میں بند کرکے ان کو ہدایات دی تھی کہ کبھی بوتلوں سے باہر نہ نکلنا۔لیکن کیوں پاک سر زمین اندھیر نگری بن جاتی ہے جس پہ چوپٹ راج ہوتا ہے۔۔اس بار پھر نئے سال کا جن آیاپہلے اس نے ڈرتے ڈرتے پاک سر زمین کی سرحدوں کا دورہ کیا۔۔اطمنان کیا کہ سرحدیں دشمن کے ناپاک عزائم سے محفوظ ہیں جاتے جاتے کشمور پہنچا کہ وہاں پاک سر زمین کے شاہینوں کی بہادری کی داستان رقم ہے۔۔ وادی کشمیر کو دور سے دیکھ کرتھوڑا مضطرب ہوا۔۔۔لیکن آزادی کا جن سرگرم عمل تھا اس کو اطمنان دلایا کہ تاریخ دیکھے گی کہ ہم ہارنے والے نہیں۔گلگت بلتستان آیا دیکھا نیا جغرافیہ جنم لے چکا ہے نیا صوبہ بنا ہے۔۔سی پیک کا دورہ کیا۔۔۔کام ہو رہا ہے۔کچھ ادھر ادھر موٹر ویز بن رہے ہیں۔۔۔پشاور آیا میٹرو دیکھا۔۔۔۔گلی کوچوں میں مٹر گشت کو دل نے چاہا۔۔۔ دیکھا کہ کورونا نے بے چین کیا ہے۔تعلیمی اداروں کو انسانیت کے پھولوں سے خالی پایا۔افسوس ہوا۔۔سیدھا اسلام آباد کا رُخ کیا۔۔دیکھا کہ سارے سرکش جن آزاد ہو کر دندناتے پھر رہے ہیں..دیکھا کہ مہنگائی کا جن بوتل کو توڑ کر باہر آیا ہے۔۔اس کے شر سے ایک ہنگامہ برپا ہے۔۔لوگ زندگی کے ہاتھوں تھک سے گئے ہیں۔۔نا انصافی کا جن بھی آزاد ہے۔۔اقربا پروری کا جن سینہ تانے تند نکالے کھڑا ہے۔۔کرپشن کا جن جال توڑ کر نکلا ہے۔۔لا قانونیت کا جن بھی آزاد ہے کہیں معصوم ریپ ہوتے ہیں۔۔کہیں بے گناہ قتل ہوتے ہیں۔نفرت کا جن تو چوکڑیاں بھرتاہے اگر حکومت اچھا بھی کرے تو کوئی قبول کرنے کو تیار نہیں۔۔ایک دوسرے کو قبول کرنے کا خیال ہی خواب ہے گویا کہ یہ ایک گھات کا پانی نہیں پیئے۔۔محافظ کا احترام نہیں معاون کی اہمیت نہیں۔۔۔بس لفاظی ہے۔۔بے اتفاقی کا جن پھدکتا ہے۔۔۔اس پرچم کے سایے تلے ہم ایک ہیں یہ بھی لفاظی بن گیا ہے۔۔۔نئے سال کا جن بہت پریشان ہوا۔۔یہ سب شریر جن ان کے ہاتھ بھی نہیں لگتے تھے۔۔وہ حیران وپریشان تھا کہ کہیں سے آواز آئی۔۔۔۔یہ ملک اللہ کے نام سے بنا ہے اس کو کچھ نہیں ہوگا۔۔۔لیکن اس کے باشندے اپنا محاسبہ نہیں کرتے۔۔دکاندار اپنا کام صداقت سے کرئے محافظ کو حفاظت اپنی جان سے پیاری ہو۔۔عدالت کی پہچان انصاف ہو۔۔۔شہری حقوق کا ہر شہری چمپین ہو۔حکمران کا درد بھرا دل رعایا کے لیے بے چین ہو۔تب سارے شریر جن خود بخودبوتلوں میں بند ہو جائینگے۔۔تم صرف نئے سال کے لیے نیک دعا دو۔۔۔دیکھو قوم افراد سے بنتی ہے۔۔۔وزیراعظم بھی ایک فرد ہی ہے اس کو بھی خلوص اور دیانت کا مجسمہ ہونا چاہیے۔اگر وہ قومی خزانے کو قوم کی امانت سمجھے تو مجال ہے کہ یہ جن باہر آئیں۔۔۔ چیف جسٹس بھی ایک فرد ہی تو ہے اگر اپنی زندگی انصاف کے لئے تج دے تو مجال ہے کہ نا انصافی کا جن بوتل سے باہر آئے۔۔۔ کوئی زمہ دار آفیسر بھی فرد ہے وہ اپنے فرض منصبی میں خیانت نہ کرے۔۔۔فخر موجودات ﷺ نے ارشاد فرمایا۔۔۔۔تم میں سے ہر کوئی گلہ بانی ہے ہر ایک سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں پوچھا جائے گا۔۔۔ یہ سب لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے۔۔۔۔نئے سال کا جن سر بہ سجود ہوا۔۔۔خوشحالی اور ترقی کی دعا مانگی۔۔۔نئے سال کے پہلے دن کا سورج نکلا۔۔۔

Facebook Comments