53

داد بیداد..…ماربل انڈسٹری,..…ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی

خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے مہمند اور بو نیر کے دو مار بل زونوں میں عوام کو ملا زمتوں کے مو اقع اور سر مایہ داروں کے لئے سر مایہ کاری کے مقا مات فراہم کرنے پر خصو صی توجہ دی ہے اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ محمود خان کی صدارت میں اعلیٰ سطحی اجلا س منعقد ہوا اجلا س میں کئی اہم فیصلے کئے گئے وزیر اعلیٰ محمود خان نے اس بات پر زور دیا کہ مہمند اکنا مک زون اور بو نیر ما ربل زون میں سر مایہ کاروں کو خصو صی مرا عات دی جائیں اعلیٰ سطحی اجلا س میں معا ون خصو صی عارف احمد زئی اور سر کاری حکام نے شر کت کی وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ پشاور کے نواح میں ورسک روڈ پراور شبقدر کے اندر قائم ما ربل فیکٹریوں کو مہمند اکنا مک زون میں منتقل کیا جائے جو فیکٹری ما لکان رضا کارانہ طور پر مہمند اکنا مک زون میں منتقل ہو نے کی در خواست دینگے ان کو رعا یتی قیمتوں پر پلا ٹ ملینگے اور کا ر خانہ لگا نے کے لئے گرانٹ بھی ملے گی اس مو قع پر دی جا نے والی بریفنگ میں وزیر اعلیٰ کو بتا یا گیا کہ مہمند اکنا مک زون 350ایکڑ پر مشتمل ہے اس میں 290پلا ٹ ہیں جن میں سے 106پلا ٹ کا رخا نوں کے لئے الاٹ کئے جا چکے ہیں جبکہ 184پلا ٹوں کے لئے درخواستیں طلب کی گئی ہیں بریفنگ میں یہ بھی بتا یا گیا کہ ورسک روڈ اور شبقدر سے مہمند اکنا مک زون منتقلی کے لئے اب تک 19درخواستیں آئی ہیں بریفنگ میں یہ بھی بتا یا گیا کہ بونیر ما ربل زون 126ایکڑ رقبے پر محیط ہے اس میں 200پلا ٹ ہو نگے 2ارب 80کروڑ روپے کی سر مایہ کا ری ہو گی اور ملا زمتوں کے 12000مواقع پید ا ہو نگے مہمند اکنا مک زون کا حجم اس سے چار گنا بڑا ہے رشکئی اکنا مک زون بنے گا تو مزید کا ر خا نے لگینگے مزید تر قی ہو گی مزید سر ما یہ کاری آئے گی مزید ملا زمیتں پیدا ہو جائینگی کہا جا تا ہے کہ دنیا کی مو جو دہ تر قی صنعتوں کے ذریعے آئی ہے فرانس کا انقلا ب 1892ء میں آیا اس کو صنعتی انقلا ب کہا جا تا ہے اس انقلا ب نے دنیا میں جنس کے بدلے جنس کی سودا گری کو ختم کیا، مزدوروں کے لئے مزدوری کا قانون بنا یا اور مزدوروں کے لئے مرا عات مقر کئیے یہاں سے دنیا نے نئی انگڑا ئی لی آج اُن قو موں نے تر قی کی ہے جن کے پا س کار خا نے ہیں کار خا نوں کی پیدا وار ہے اور کار خا نوں کے ذریعے بیرونی مما لک کے ساتھ تجا رت کر تے ہیں زر مبادلہ کما تے ہیں یو رپ اور امریکہ سے لیکر جا پا ن، چین اور جنو بی کوریا تک سب کی تر قی کا یہی راز ہے ملا ئیشیا، تائیوان، سنگا پور اور انڈو نیشیا کی ترقی بھی صنعتی پیداوار کی مر ہون منت ہے وطن عزیز پا کستان میں منصو بہ بند ی کے فقدان کی وجہ سے کار خا نے چند بڑے شہروں تک محدود رہے اور صنعت کار کی حیثیت سے چند مرا عات یا فتہ خاندانوں کو سامنے لا یا گیا پھر وقت گذر نے کے ساتھ صنعتوں میں بھی ابتری دیکھنے میں آئی بڑے انڈسٹریل اسٹیٹ بنا کر جن سیا ستدانوں اور ریٹائرڈ افیسروں کو کار خا نوں کے پر مٹ دئیے گئے ان لو گوں نے حکو مت سے مرا عات اور بینکوں سے قر ضے لیکر کا ر خا نے بند کر دیے قرضے معاف کر ائے پیدا وار نہیں آئی مزدوروں کو بے روز گار کیا گیا یو ں مرا عات یا فتہ طبقے نے ملک اور قوم کو شدید معا شی اور معا شرتی نقصان سے دو چار کر دیا خو ش آئیند بات یہ ہے کہ مو جو دہ حکومت نے ملک کے پسما ندہ صو بوں اور پسما ندہ علا قوں میں صنعتی ترقی کا جا ل بچھا نے کی منصو بہ بند ی کی ہے مہمند اکنا مک زون، رشکئی اکنا مک زون اور بو نیر ما ربل زون اس منصو بہ بند ی کے چند نمو نے ہیں جہاں تک پشاور شہر کے نو احی علا قوں، ورسک روڈ اور شبقدر کے گنجا ن جگہوں سے ما ربل کے کارخا نوں کو مہمند اکنا مک زون میں منتقل کرنے کا تعلق ہے یہ بھی خو ش آئیند اقدام ہے اس اقدام کی وجہ سے ما حو لیا تی آلو دگی میں کمی آئیگی اور ٹریفک کے مسا ئل بھی حل ہو نگے اعلیٰ سطحی اجلا س میں وزیر اعلیٰ محمود خا ن نے پشاور کے گردو نواح سے اپنے کار خا نے مہمند اکنا مک زون میں منتقل کرنے والے صنعتکاروں کے لئے جن مراعات کا اعلا ن کیا ہے ان کی نظیر ما ضی میں نہیں ملتی اب یہ صنعتکاروں کا فر ض ہے کہ وہ حکومت کی طرف سے دی جا نے والی مرا عات سے فائدہ اٹھا کر مستقبل میں اپنی صنعتوں کو دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی دیں۔

Facebook Comments