52

حکومت اگلے ماہ پٹرول اور بجلی کی قیمت میں مزید اضافہ کرےگی

کراچی ( آوازچترال) حکومت اگلے ماہ پٹرول اور بجلی کی قیمت میں مزید اضافہ کرےگی، سابق وزیر خزانہ اور ن لیگی رہنماء مفتاح اسماعیل نے کہا کہ بجلی 6 روپے کی بجائے 16 روپے بنائی جارہی ہے، سرکلر ڈیبٹ 24 سو ارب تک ہوگیا، دنیا کی مہنگی ترین ایل این جی خریدنے کی ذمہ داری پی ٹی آئی کی حکومت ہے۔ انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو بالکل لوگوں کی فکر نہیں ہے، لوگوں کا جینا دو بھر ہوگیا ہے، اگر بجلی کا بل دیتے ہیں تو گیس کا بل دینے کے پیسے نہیں ہیں ۔ آٹا مہنگا دالیں چینی مہنگی ہوچکی ہے۔ نئے پاکستان میں لوگوں کا جینا محال ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک میں ایل این جی کی قلت ہے ، پاکستان دنیا کی مہنگی ترین ایل این جی خریدے گا، اس کی ذمہ داری پی ٹی آئی کی حکومت ہوگی۔ بجلی 6 روپے کی بجائے 16روپے بنائی جارہی ہے،آج سے چھ ماہ پہلے بھی بجلی قیمت بڑھانی تھی، سرکلر ڈیبٹ 24 سو ارب تک ہوگیا ہے، بجلی کی قیمت آئی ایم ایف کے دباؤ پر بڑھائی گئیں۔ بجلی کی قیمتیں مزید بڑھائیں گے، تاکہ خسارہ کم ہوجائے لیکن خسارہ کم نہیں ہوگا۔ بجلی کی قیمت بڑھنے کے باوجود سرکلرڈیٹ 2400 ارب کا ہوگیا ہے۔ ایل پی جی کے بعد اب پٹرول کی قیمت بھی بڑھائی جائے گی، بجلی کی قیمت اگلے ماہ مزید بڑھائی جائے گی۔ حکومت نے ایل این جی کی بڈ دسمبر میں کھولی۔ دسمبر میں فروری کا سودا کیا گیا۔ حکومت نے دو سال میں ایک بھی ایل این جی ٹرمینل نہیں لگایا۔ جبکہ موجودہ ٹرمینلز کی گنجائش بھی نہیں بڑھائی گئی۔ شاہد خاقان کے معاہدے کی ایل این جی تقریباً 5 ڈالر فی یونٹ میں مل رہی ہے۔ عمران خان آج 12 ڈالر فی یونٹ ایل این جی خرید رہا ہے، جب ساڑھے 24 فیصد پر گیس خریدیں گے۔ یہ دنیا کی سب سے منہگی گیس ہوگی۔ ایل پی جی کے بعد اب پٹرول کی قیمت بھی بڑھائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف واپس آئیں گے، آج بھی پہلا سوال نوازشریف کے بارے ہوتا ہے۔ آج بھی سیاست کا محور نوازشریف ہے۔ پی ڈی ایم کا مقصد استعفا دینا نہیں۔ عمران خان سے استعفا لینا ہے۔ شاہد خاقان نے کراچی کی مردم شماری کی ری ٹیسٹنگ کی پیشکش کی تھی۔ میں بہادرآباد جانے کیلئے تیار ہوں۔ ایم کیوایم باتیں بہت کرتی ہے۔ جھنڈے والی گاڑی چھوڑتی نہیں۔ ایم کیوایم کو مردم شماری پر تحفظات ہیں تو وفاقی حکومت سے الگ ہوجائے۔ پھر بھی وہ حکومت نہیں چھوڑتے تو یہ عجیت سی بات لگتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم 5.5 فیصد پر گروتھ چھوڑ کرگئے تھے۔ یہ صفر پر لے آئے۔ جتنا قرض عمران خان نے ڈھائی سال میں لیا اتنا نوازشریف نے 3 ادوار میں نہیں لیا۔ منہگائی میں عمران خان نے سب کو پیچھے چھوڑ رہے ہیں۔

Facebook Comments