85

یوٹیلٹی سٹورز پر 4سال تک انسانی صحت کیلئے غیر موزوں گھی فروخت ہونے کا انکشاف

اسلام آباد (   آوازچترال ) پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں انکشاف ہوا ہے کہ چار سال تک انسانی استعمال کے لئے غیرموزوں قراردیا جانے والا گھی یوٹیلیٹی اسٹورز پر فروخت ہوتارہا۔ کمیٹی نے معاملے پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور معاملے کی انکوائری کرانے کا حکم دیتے ہوئے ایک مہینے میں رپورٹ طلب کر لی جبکہ فٹنس سرٹیفکیٹ کے بغیر گھی کی فروخت روکنے کا حکم دے دیا۔  آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن نے تین کمپنیوں کا گھی بغیر ٹینڈرنگ کے خریدا، ان کا فٹنس سرٹیفکیٹ بھی فراہم نہیں کر سکے۔   ان کمپنیوں کو چار سال سے پنجاب فوڈ اتھارٹی انسانوں کے استعمال کے لئے غیر موزوں قرار دیتی رہی۔ بدھ کو پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی رانا تنویر حسین کی صدارت میں ہوا، اجلاس میں یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن سے متعلق معاملہ زیر غور آیا۔  چیئرمین کمیٹی رانا تنویر حسین نے کہا کہ یوٹیلیٹی اسٹورکی اچھی کارکردگی نہیں ہے،ہم ان کا پرفارمنس آڈٹ بھی کرسکتے ہیں۔  رکن کمیٹی سردار ایاز صادق نے کہا کہ پیپرا رولز کی خلاف ورزی ہوئی، 699 ملین کی مالی بے ضابطگی ہے، ذمہ داری کا تعین کیا جائے،یہ لوگوں کی زندگیوں سے سالوں سے کھیل رہے ہیں۔   رکن کمیٹی نور عالم خان نے کہا کہ ابھی بھی گھی لاجز میں پڑا ہوا گا،ہر اسٹور پریہ گھی ابھی بھی پڑا ہوا ہے اور یہ لوگوں پر بیچ رہے ہیں،رکن کمیٹی مشاہد حسین سید نے کہا کہ یہ لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں

Facebook Comments