63

عمران خان کی امریکی طرزکا صدارتی نظام نافذکرنے کی تجویز

اسلام آباد(آوازچترال ) وزیر اعظم عمران خان نے امریکی نظام کی طرح پاکستان میں بھی نظام لانے اور موجودہ نظام پر نظرثانی کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں بھی حکومت سنبھالنے سے پہلے وقت ملنا چاہیے کہ گورننس کیسے کرنی ہے. اسلام آباد میں وزارتوں کی کارکردگی سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ امریکا میں صدارتی انتخاب کے بعد جو بائیڈن کو ٹیم سلیکڈ کرنے کے لیے اڑھائی مہینے ملے ہیں جبکہ ہم تو اپنے نمبر پورے کر رہے تھے. انہوں نے کہا کہ جس دن الیکشن ختم ہوا ہے اسے تیاری، ٹیم کے انتخاب کے لیے اڑھائی مہینے ملے ہیں، بریفنگ مل رہی ہیں اور بیورو کریٹس انہیں بتا رہے ہیں کہ ہر چیز کی کیا صورتحال ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں اس نظام پر نظرثانی کرنی چاہیے اور جب آپ کی ٹیم بن جائے اس کے بعد آپ کو حکومت سنبھالنے سے پہلے پورا وقت ملنا چاہیے تاکہ آپ خصوصی طور پر حکومت کی تیاری کریں کہ آپ نے گورننس کیسے کرنی ہے. انہوں نے کہا کہ آپ کو بجلی، ریلوے، گیس اور مالیات کے حوالے سے بریفنگ ملنی چاہئیں تاکہ جب آپ دفتر سنبھالیں تو آپ کو پوری طرح پتہ ہو کہ میں نے کس ایجنڈے پر عملدرآمد کرنا ہے وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں تو تین مہینے صرف سمجھنے میں لگ گئے ہر چیز جو ہم باہر سے بیٹھ کر دیکھ رہے تھے جب حکومت آئی تو وہ بالکل مختلف تھی. عمران خان نے کہا کہ خصوصاً توانائی سمیت کئی شعبوں میں ڈیڑھ سال تک اصل اعدادوشمار کا ہی پرہ نہیں چل رہا تھا کبھی وزارت سے کوئی اعدادوشمار آ جاتی تھی ہم سمجھتے تھے کہ بڑا اچھا کررہا ہے پتہ چلتا تھا کہ کوئی اور اعدادوشمار آ گئے اور ہم اتنا اچھا نہیں کررہے انہوں نے کہا کہ کسی بھی نئی حکومت کو اس طرح اقتدار میں نہیں آنا چاہیے اس کی پوری تیاری ہونی چاہیے اس کو اس طرح پوری بریفنگ دینی چاہیے. انہوں نے کہ جس طرح ہم دیکھ کر سیکھتے رہے اسی طرح وزارتوں کا بھی معاملہ ہے کچھ وزارتوں نے زیادہ بہتر کارکردگی دکھائی ہے کئی نے نہیں دکھائی اور کئی سیکھ رہے ہیں جس سے ان کی کارکردگی بہتر ہو رہی ہے وزیر اعظم نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد جو اختیارات تقسیم کیے گئے ہیں لیکن مجھے لگتا ہے کہ ابھی پورے ملک کو اس 18ویں ترمیم کی پوری طرح سمجھ نہیں ہے مثلاً فوڈ سیکورٹی وفاقی حکومت کے پاس ہے لیکن اختیارات صوبائی حکومتوں کے پاس چلے گئے ہیں اب اگر ایک صوبہ مرکز کے ساتھ نہیں چلتا اور اپنی الگ پالیسی بناتا ہے جس سے قیمتوں میں فرق آ جاتا ہے تو تمام قیمتوں کا توازن بگڑ جاتا ہے. انہوں نے کہا کہ ماحولیات کی وزارت صوبوں کے پاس چلی گئی ہے لیکن اسے وفاق کے پاس ہونا چاہیے کیونکہ سارے ملک کی ماحولیات ہے، اسی طرح ہم کئی چیزیں سیکھتے جا رہے ہیں عمران خان نے کہا کہ آج برا اچھا قدم اٹھایا ہے کہ ہر وزارت کی کارکردگی کی جانچ ہو گی یہ بالکل درست سمت میں قدم ہے جب تک ساری وزارتیں کارکردگی نہیں دکھائیں گی اس وقت تک ہم گورننس نہیں کر سکتے انہوں نے کہا کہ ماحولیات کی وزارت صوبوں کے پاس چلی گئی ہے لیکن اسے وفاق کے پاس ہونا چاہیے کیونکہ سارے ملک کی ماحولیات ہے، اسی طرح ہم کئی چیزیں سیکھتے جا رہے ہیں عمران خان نے کہا کہ آج برا اچھا قدم اٹھایا ہے کہ ہر وزارت کی کارکردگی کی جانچ ہو گی یہ بالکل درست سمت میں قدم ہے جب تک ساری وزارتیں کارکردگی نہیں دکھائیں گی اس وقت تک ہم گورننس نہیں کر سکتے. انہوں نے کہا کہ ہم اب اپنے اوپر دباﺅ ڈالیں گے تاکہ جتنا بھی باقی وقت رہ گیا ہے اس میں ہمیں گورننس کی کارکردگی کو بہت آگے لے کر جانا ہے کیونکہ اب ہمارے پاس عذر نہیں ہے کہ ہم سیکھ رہے ہیں ہم نئے ہیں یا تجربہ نہیں ہے اب کارکردگی کا وقت آ گیا ہے. انہوں نے وزرا کو کہا کہ وہ اپنے اوپر دباﺅ ڈالیں اور جو کنٹریکٹ سائن کیے ہیں ان پر وزارتوں کی جانچ پڑتال کی جائے گی ہر وزارت اپنے اوپر بھی دباﺅ ڈالے گی کہ ہمیں اہداف پورے کرنے ہیںعمران خان نے کہا کہ سب سے بڑا چیلنج وزارت توانائی کا نظر آ رہا ہے یہ پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج ہے اور وزارت توانائی کے بارے میں سوچ کر کئی دفعہ رات میں نیند بھی نہیں آتی. انہوں نے کہا کہ بجلی کا شعبہ اتنا پیچیدہ ہے کہ مختلف چیزوں کا انضمام کرنا ہے تاکہ ہم عوام کو ایک ایسی بجلی دے سکیں جو ان کی استطاعت میں ہو اور ساتھ ساتھ ہم گردشی قرضوں کے پہاڑ کو بھی کم کر سکیں. قبل ازیں وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کوئی لابی کسی وزیر کے ذریعے دباﺅ ڈالے یہ قابل قبول نہیں وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی کابینہ کا ہر فیصلہ اجتماعی حیثیت میں ہوتا ہے کسی وزیر کو کوئی لابی تنگ کرے تو وہ کابینہ کو یا مجھے الگ سے بتائے. وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم فیصلے کسی لابی کے دباﺅمیں نہیں بلکہ شفاف اور میرٹ پر کریں گے اجلاس کے دوران وزیراعظم نے وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے ) کے چیئرمین کو مارگلہ روڈ پر قائم تجاوزات ہٹانے کی بھی ہدایت کردی چیئرمین سی ڈی اے ایک ہفتے میں مارگلہ روڈ سے تجاوزات کلیئر کرائیں. خیال رہے کہ گزشتہ روز پارٹی راہنماﺅں اورحکومتی ترجمانوں کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے اپوزیشن کو این آر او کسی صورت نہ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ نیب قانون میں تجاویز کی شکل میں این آراو مانگا گیا. وزیراعظم کی زیرصدارت پارٹی راہنماﺅں اورحکومتی ترجمانوں کے اجلاس میں مشیر داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے اپوزیشن کی نیب قانون میں مجوزہ تجاویز پر بریفنگ دی تھی اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا کہ اپوزیشن نےنیب قانون میں ترمیم کی شکل میں این آراو مانگا ہے. انہوں نے کہا تھا کہ اپوزیشن کا مطالبہ ہے کرپشن پر نااہلی کی سزا ختم ہو اپوزیشن چاہتی ہے کہ نیب ایک ارب سے کم کی کرپشن پر کارروائی نہ کرے، یہ کرپشن پر نااہلی کی سزا ختم کرانا چاہتے ہیں وزیراعظم نے کہا کہ سینیٹ کے شفاف انتخابات پر اپوزیشن کا دوہرا معیار سامنے آیا ہے، ہم شفاف سینیٹ الیکشن کرانا چاہتے ہیں انہوں نے پارٹی راہنماﺅں اور حکومتی ترجمانوں کو ہدایت کی تھی کہ کام پر توجہ مرکوز رکھی جائے اور عوام کو حد درجہ ریلیف دیا جائے.

Facebook Comments