58

شہدائے اے پی ایس پشاور کی یاد میں ملک کے دوسرے حصوں کی طرح چترال میں بھی تقریب منعقد ہوئی

چترال (نمائندہ آوازچترال  ) شہدائے اے پی ایس پشاور کی یاد میں ملک کے دوسرے حصوں کی طرح ضلع کونسل ہال چترال میں بھی ایک تقریب منعقد ہوئی۔ جس کا انتظام ضلعی انتظامیہ چترال اور شہید اسامہ وڑائچ اکیڈمی نے مل کر کیا تھا۔ اس پروقار تقریب کے مہمان خصوصی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریلیف) چترال عبدالولی خان تھے۔ جبکہ ڈائریکٹر شہید اسامہ وڑائچ اکیڈمی فداء الرحمن نے نظامت کے فرائض انجام دی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر چترال ثقلین، پرنسپل گورنمنٹ سنٹنیل ماڈل سکول چترال شاہد جلال، مولانا اسرار الدین الہلال، ڈسٹرکٹ خطیب چترال مولانا فضل اللہ نے کہا کہ اے پی ایس کا سانحہ دنیا میں طلبہ کی اجتماعی قتل کا دوسرا بڑا واقعہ ہے۔ جس میں 148 افراد کو دہشت

گردی کا نشانہ بنایا گیا اور یہ پاکستانی عوام کیلئے بہت بڑا امتحان تھا تاہم پاکستانی عوام نے اس عظیم سانحے کے موقع پر انتہائی صبر و تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کیا۔انہوں نے کہا کہ اسلام میں کسی ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا گیاہے اس لئے جن دہشت گردوں نے اے پی ایس پر حملہ کرکے معصوم جانوں کو نشانہ بنایا ان کا اسلام

سے کوئی تعلق نہیں۔ کیونکہ اسلام جنگ کے دوران بھی بچوں، خواتین، بوڑھوں حتی کہ مال مویشی اور باغات و فصلوں کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیتا۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ اسلام کے نام پردہشت گردی پھیلا کر معصوم جانوں کا قتل عام کیا گیا جن کے والدین آج بھی اپنے پیاروں کی یاد میں رنج و الم کی زندگی گزار رہے ہیں۔ مقررین نے لک میں

دہشت گردوں کو ناقابل فراموش شکست دینے پر پاک فوج، پولیس، لیویز اور دیگر سکیورٹی اداروں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ مہمان خصوصی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے

اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ سانحہ اے پی ایس ہمیں باہمی اتفاق و اتحاد کا درس دیتا ہے اور ہم دہشت گردی کو حقیقی معنوں میں تب شکست دے سکتے ہیں جب اپنے بچوں

کو سو فیصد زیور تعلیم سے آراستہ کریں۔ پاکستان کی بقا اس کے شہداء کے خون میں پنہان ہے اور اے پی ایس کے شہید طلبہ کا نام ملک کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اس موقع پر شہداء کے درجات کی بلندی کیلئے اجتماعی دعا کی گئی۔

Facebook Comments