97

استعفے ایٹم بم ہیں، اپوزیشن ایٹم بم کااستعمال ملکر کرے گی، بلاول بھٹو

لاہور ( آوازچترال نیوز) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ استعفے ایٹم بم ہیں، اپوزیشن ایٹم بم کااستعمال ملکر کرے گی،پی ڈی ایم کی ساری جماعتیں ایک پیج پر ہیں، وزیراعظم ، اسپیکر اور وزیراعلیٰ سب کٹھ پتلی ہیں،ان سے مذاکرات نہیں ہوسکتے، عمران خان ناجائز وزیراعظم کی کرسی سے مستعفی ہوجائیں۔انہوں نے کوٹ لکھپت جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں لیکن حکومت میں اہلیت نہیں وہ ملک چلا سکیں، قائد حزب اختلاف شہبازشریف اور سابق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ دونوں کو جیل میں ڈالا گیا ہے، ان پر کوئی جرم ثابت نہیں ہوا، صرف ذاتی عناد کی بناء پر دونوں کو جیل میں رکھا جارہا ہے۔ جمہوریت اور پارلیمان میں حل اپوزیشن اور حکومت دونوں کی رائے اور مفاہمت سے نکالا جاتا ہے،عمران خان نے پہلے دن سے کہا کہ وہ پی ٹی آئی اور فیس بک کا وزیر اعظم ہے۔ اس پر وہ خوش ہے، لیکن عوامی سائل کو حل نہ کرنا ناانصافی ہے۔پی ڈی ایم اس کی بھرپور مذمت کرتی ہے۔ ہماری جدوجہد اور زور اس پر ہے کہ پاکستان میں حقیقی جمہوریت بحال کریں، ایسا جمہوریت بحال کریں جو عوام کی نمائندہ حکومت ہوگی، شہبازشریف نے پہلی تقریر میں نیشنل چارٹرڈ کی بات کی، ملکر کام کرنے کی بات کی، لیکن حکومت نے بات نہیں مانی بلکہ ان کا زور اس بات پر ہے کہ وہ اپوزیشن رہنماؤں کو جیل میں رکھے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ جہاں تک پچ کی بات ہے پوری پی ڈی ایم ایک پیج پر ہے سب کا ایک ہی ٹارگٹ ہے کہ ملکر جمہوریت کو بحال کریں۔ پاکستان پیپلزپارٹی اور پی ڈی ایم کی ساری جماعتیں ایک پیج پر ہیں۔ سارے ارکان 31 دسمبر تک استعفے دیں گے، استعفے ہمارے لیے ایٹم بم ہیں، اس ایٹم بم کو استعمال ملکر بنائیں گے۔ وزیراعظم ، اسپیکر اور وزیراعلیٰ سب کٹھ پتلی ہیں، اس ماحول میں مذاکرات کہاں کروں؟ کس فورم پر ڈائیلاگ کیا جائے؟ ہم جمہو ری طریقے سے ملکر حل نکالیں گے۔ موجودہ صورتحال میں کوئی نیشنل ڈائیلاگ نہیں ہوسکتا، اس نالائق اور نااہل حکمرانوں کو گھر بھیج دیں گے۔ آج پھر ان کو پیغام دیتا ہوں کہ عمران خان ناجائز وزیراعظم کی کرسی سے مستعفی ہوجائیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ شہبازشریف سے ملاقات کرنے آیا تو میں نے مریم نواز نے درخواست کی کہ میں شہبازشریف سے ملنا چاہتا ہوں۔ ہم سب کے حزب اختلاف میاں شہبازشریف ہیں۔

Facebook Comments