167

دھڑکنوں کی زبان …….’سکولوں میں ہوم ورک” …….محمد جاوید حیات ‘

کویڈنے جہان سارا نظام زندگی متاثر کیا وہاں تعلیمی نظام اور تعلیم و تعلم کی سرگرمیوں کو تباہ و برباد کیا۔سکول کی عمارت تعلیم و تعلم کا مرکز ہوتا ہے۔۔سکول آتا بچہ ہمہ وقت تعلیم و تعلم کے عمل میں ہوتا ہے۔۔وہ شام کو اپنا ہوم ورک مکمل کرکے جب اپنی کتابیں درست کرکے بستے میں رکھتا ہے تو وہ ذہنی طور پر مطمین ہوتا ہے اس کو لگتا ہے کہ اس نے ایک معرکہ سر کر لیا ہے اس کو حوصلہ ملتا ہے۔۔پھر وہ صبح تیار ہو کر سکول کی طرف روانہ ہوتا ہے۔سکول کی عمارت میں ہر سرگرمی اس کے لیے تعلم ہے خواہ وہ شرارت و کھیل ہی کیوں نہ ہو۔۔۔بچے کے ذہن میں یہ بات راسخ ہوتی ہے کہ یہ سکول ہے۔۔۔سیکھنے کی جگہ۔۔”سکولنگ”اسی تربیت ہی کو تو کہتے ہیں۔۔کویڈ کے اس دورانیے میں ہم اساتذہ کو جن باتوں کا تجربہ ہوا وہ مثبت تجربہ نہیں تھا۔۔پہلا یہ کہ جو بچے گھروں میں اس ماحول میں ہوتے ہیں کہ والدیں اور بزرگ ان کو تعلیم کی اہمیت کا درس دیتے ہیں ان کی نگرانی کرتے ہیں۔۔ان پر نظر رکھتے ہیں وہ بچے پڑھتے ہیں کام کرتے ہیں۔لیکن وہ دس فیصد ہیں ان کے علاوہ بچے برباد ہو گئے ہیں۔۔وہ ٹیلی سکول وہ آن لاین کلاسیں وہ اساتذہ کی کاوشیں اکارت ہیں۔۔کویڈ سے واپسی کے بعد ہم نے ڈیگناسٹک ٹسٹ لیا تو اس بات کا بر ملا ثبوت مل گیا کہ وہ بچے اپنے گھروں میں بالکل پڑھائی سے دور تھے اور وہ بچے اپنے گھروں میں کم از کم کام کر رہے تھے۔۔۔۔یہ بات ثابت ہے کہ تعلیم و تعلم کا عمل ایک ٹرایکیا ہے اس میں والدیں کا کردار اساتذہ سے زیادہ ہے۔۔کیونکہ آج کا دور بہت ہی تیز دور ہے معاشرہ ہر طرف بگڑا ہوا ہے بچے اپنے گھر میں بھی میڈیا کے طوفان میں عرق ہیں۔۔ہر طرف تباہی ہی تباہی ہے۔۔ایک یلغار ہے اس لیے آج کے والدین پر بہت ہی مشکل فرض عاید ہوتا ہے۔استاد ویسے بھی تنقید کا نشانہ رہا ہے یہ استاد کے لیے اعزاز ہے کہ اس پر تنقید کی جاے۔اس کے کام کو گیچ کیا جائے مگر والدین کی نظر بچوں پہ پل پل ہونی چاہیے وہ فرض بھول جاتے ہیں۔۔اس بے ہنگم ہجوم میں ان کو اپنے بچوں کی تربیت کا درد نہیں تڑپاتا۔۔۔ملک میں کویڈ کی دوسری لہر آئی ہے۔۔حکومت کا احسن اقدام میں سے یہ ہے کہ اساتذہ سکولوں میں بیٹھ کر بچوں کو کام assign کریں وہ ہفتے میں لے کے آیں۔۔اساتذہ چیک کریں۔۔اس کا ہمیں بہت اچھا تجربہ رہا۔۔۔وہ بچے جو والدیں کی نگرانی میں ہوں assign شدہ کام ایسے سلیقے طریقے اور اہتمام سے کرکے لاتے ہیں کہ بہت اچھا لگتا ہے.لیکن جو طلباء یہاں پہ کام چوری کرتے ہیں تو واضح ہوتا ہے کہ گھروں میں ان پر توجہ نہیں دیا جاتا۔۔۔یہ جو مرحلہ درپیش ہے اس میں والدیں کی خاص توجہ کو بچوں کی ضرورت ہے۔۔یہ استاتذہ کی اپیل ہے گزارش ہے۔۔یہ بچے قوم کی امانت ہیں یہی قوم کی اساس ہیں۔اگر ہم سب مل کر ان کی تربیت کی جد و جہد نہ کریں تو ایک ہاتھ سے تالی نہیں بجتی۔۔۔یقینا سکول کا ماحول بچوں کو گھر میں مہیا نہیں کیا جاسکتا البتہ ان کی مناسب نگرانی کی جا سکتی ہے۔۔۔بچے سب اچھے سب ہماری آنکھوں کے تارے ہیں لیکن وہ بچے ہی نہیں رہیں گے کل کو وہ زمہ دار ہونگے۔تعلیم و تربیت میں اگر دراڑ آجاے تو پھر وہ کس کو رویں۔۔۔اپنی شومی قسمت کو یا ہماری غفلت کو۔۔۔۔۔۔۔

Facebook Comments