63

داد بیداد..…پبلسٹی ہو نی چا ہئیے..…ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی

وفاقی کا بینہ نے بچوں اور بچیوں سمیت خواتین کے خلا ف جنسی جرائم کے مجرموں کو نا مر د بنا کر عبرت نا ک سزا دینے کے قانون کی منظوری دی ہے ا ب یہ قا نون یا تو پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد روبہ عمل آئے گا یا صدارتی ارڈیننس کی صورت میں اس کو نا فذ کیا جائے گا جرم بہت گھناونا ہے اس جرم پر قابو پا نے کے لئے سزائے موت کے قانون کا مطا لبہ کیا گیا تھا بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر ہجوم کے سامنے کھلے عام پھا نسی دینے کا مطا لبہ ہو رہا تھا قصور کی معصوم بچی زینب کے قاتل عمران کے لئے کھلے عام پھا نسی کا مطا لبہ زور پکڑ گیا تو یورپ اور امریکہ والوں نے اس کی شدید مخا لفت کی پا کستا نی قانون دانوں کے ایک گروہ نے یہ نکتہ لا یا کہ ہمارے قانون میں کھلے عام پھا نسی کی گنجا ئش نہیں عمران کو سزائے مو ت ملی مگر کسی کے لئے عبرت کا سا مان نہیں ہوا بلکہ جرائم میں سال بہ سال اضا فہ ہوتارہا قصور سے مری، مری سے ہزارہ، ہزارہ سے ملا کنڈ اور ملا کنڈسے ہشتنگر گاوں گاوں اور شہر شہر یہ گھنا ونے جرائم ہو تے رہے یہاں تک کہ موٹر وے پر بھی ایسا واقعہ ہوا اعداد وشمار کے مطا بق قصور والے واقعے کے بعد اس نو عیت کے ڈیڑھ سو حا دثات اخبارات میں رپورٹ ہوئے نہ جا نے کتنے گھناونے جرائم کو پو لیس اور اخبارات سے خفیہ رکھا گیا ہو گا حکومت کہتی ہے کہ مجرموں کو نا مرد کرنا عبرت نا ک سزا ہے لیکن ہمارے دوست پر وفیسر شمس النظر فاطمی کہتے ہیں کہ عبرت کرنے کے لئے جدید ٹیکنا لوجی کے اس دور میں سزا کی تصویر آنی چاہئیے نا مرد کرنے کی کوئی تصویر نہیں ہو تی عبرت کیسے حا صل ہو گی؟ ہم نے زیڈ اے بخاری کا وہ مشہور لطیفہ ان کو سنا یا مو صوف نے بازار کی ایک دکان پر چار پا نچ گھڑیال لٹکتے دیکھا تو دکاندار سے پو چھا کیا آپ گھڑیال بیچتے ہیں؟ اُس نے کہا نہیں گھڑیال نہیں بیچتا میں ختنے کر تا ہوں زیڈ اے بخاری نے استفسار کیا پھر تم نے یہاں گھڑیال کیو ں لٹکا ئی ہوئی ہے؟ اُس نے برجستہ جواب دیا آپ ہی بتائیں میں یہاں کیا لٹکا وں؟زیڈ اے بخاری کہتے ہیں زندگی میں یہ پہلا اور آخری مو قع تھا جب کسی نے مجھے لا جواب کیا نا مرد کرنے کے مجوزہ قانون کا المیہ بھی ایسا ہی ہے نا مر د کرنے والا جج یا ڈاکٹر اپنے دروازے پر گھڑیال لٹکا نے سے تو رہا عوام کو کسطرح معلوم ہو گا کہ مجرم کو نا مرد کرنے کی سزا دی گئی ہے تم عبرت حاصل کرو جرائم کی دنیا سے خبریں لا نے والے صحا فیوں کا تجربہ یہ ہے کہ جنسی ہرا سانی کا جرم نا مر د ہی کرتا ہے اور جوان مر دسے زیا دہ گھنا ونے انداز میں کرتا ہے جسم کے نا زک اعضاء کو جلانا، لا ش کے ٹکڑے ٹکڑے کرنا اور بچیوں کو وحشیانہ طریقے سے قتل کر کے لا ش کھیتوں میں پھینک دینا اکثر نا مردوں کے جرائم ہوتے ہیں جواں مر د ایسے جرائم نہیں کرتے جا سو سی کہا نیوں اورنفسیا تی جرائم کی کتا بوں میں نا مر د مجرموں کے جرائم کی جو تفصیلات آتی ہیں ان کو پڑھ کر آدمی وحشی درندوں کی وحشت اور درند گی کو بھول جا تا ہے وطن کے جو لوگ جنسی جرائم میں ملوث مجرموں کے لئے عبرت نا ک سزاوں کا مطا لبہ کر کے سزائے مو ت اور کھلے عام پھا نسی پر زور دیتے ہیں ان کا مو قف یہ ہے کہ 4سال کی بچی یا 6سال کے بچے کو جنسی ہو س کا نشا نہ بنا نے کے دوران قتل کر کے کھیتوں میں پھینکنا عام قتل کے جرم سے 10گنا بڑا جرم ہے اگر قانون میں دفعہ 302کے تحت سزائے موت ہو سکتی ہے تو جنسی جرائم کے ساتھ قتل کے مجرموں کو کھلے عام پھا نسی پر لٹکا نا عین انصاف کا تقا ضا ہے اس پر کسی مہذب معا شرے کے با شعور شہر یوں کو بھلا کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟ اگر دو ہزار کے مجمع نے مجرم کو تختہ دار پر لٹکتے دیکھا تو جدید ٹیکنا لو جی کی مدد سے 50لاکھ لو گ اس کی لا ش کو لٹکتے ہوئے دیکھینگے یہ تصویر سوشل میڈیا پر وائر ل ہو ئی تو کروڑوں تک عبرت کا پیغام جائے گا مجرم کو نا مرد کرنے سے کون عبرت حا صل کرے گا اور کیسے عبرت حا صل کرے گا؟ ملک کے بڑے پریس کلب میں ”سابقہ حکو متوں“ کے ایک وزیر کا لطیفہ اکثر سنا یا جا تا ہے وزیر صا حب جہاں جا تے اخبار نو یسوں سے کہتے پبلسٹی ہونی چاہئیے گویا یہ جملہ ان کا تکیہ کلا م بن گیا تھا ایک بار شہر کے گنجا ن علاقے میں پبلک لیٹرین کا افتتاح کرنے آئے صحا فیوں کو دیکھتے ہی کہا پبلسٹی ہو نی چاہئیے ایک صحافی نے کہا ڈبلیو سی کے ساتھ تصویر بنا نے کی اجا زت دیں وزیر صاحب بولے تصویر کی کیا ضرورت ہے؟ صحا فی نے کہا پھر ہم کیا خبر دینگے کہ وزیر صاحب نے پبلک لیٹرین کا افتتاح کسطرح کیا؟ صحا فیوں کو آگے جا کر بار بار ایسے سوالات سے پا لا پڑے گا جج حکم دیگا مجرم کو نا مر د کیا جائے، ڈکٹر خبر لائیگا مجرم کو نا مر د کیا گیا مگر عکس نہ تصویر کس کو کیا پتہ کہ مجرم نا مر د ہو ا یا نہیں جب آپ کہتے ہیں عبرت نا ک سزا دی جائیگی جب آپ کہتے ہیں پبلسٹی ہو نی چاہئیے تو تصویر بھی ہو نی چا ہئیے۔

Facebook Comments