67

کالجوں میں ای پوسٹنگ ٹرانسفر پالیسی متعارف کروانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں،وزیراعلیٰ محمودخان

پشاور ( آواز چترال  نیوز)  خیبرپختونخوا حکومت نے گزشتہ دو سالوں میں اُنیس نئے کالجز قائم کیے ہیں جبکہ 51 کالجز کے قیام پر کام جاری ہے جن پر تعمیراتی کام مقررہ ٹائم لائن کے مطابق مکمل کر لیا جائے گا۔ صوبہ بھر کے تمام کالجز میں لیکچررز کی کمی کو پورا کرنے کیلئے 1900آسامیاں تخلیق کرنے کی منظوری ہو چکی ہے۔ 177 کالجوں میں مختلف نوعیت کی ناپید سہولیات کی فراہمی کے لیے 2545.825 ملین روپے منظور ہوئے ہیں۔ یہ بات وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدرات محکمہ اعلیٰ تعلیم آرکائیوز و لائبریریز کے ایک اجلاس میں بتائی گئی۔وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اعلیٰ تعلیم کامران بنگش کے علاوہ سیکرٹری اعلیٰ تعلیم محمد دائود ، سیکرٹری خزانہ عاطف الرحمان، سیکرٹری مواصلات و تعمیرات اعجاز حسین انصاری اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ اعلیٰ تعلیم کے حکام کو ہدایت کی کہ صوبے کے تمام کالجوں میں بی ایس پروگرام کے اجراء ضرورت کی بنیاد پر صوبے کے کالجوں میں سیکنڈ شفٹس شروع کرنے اور محکمے میں اساتذہ کے تبادلوں میں شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے ای پوسٹنگ ٹرانسفر پالیسی متعارف کروانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں۔ وزیراعلیٰ نے حکام کو مزید ہدایت کی کہ تکمیل شدہ کالجوں کو ہر لحاظ سے فنکشنل بنانے اور اُن میں درس و تدریس کا عمل بلاتاخیر شروع کرنے جبکہ پہلے سے قائم کالجوں میں ناپید سہولیات کی فراہمی کیلئے بھی ٹھوس اقدامات اُٹھائے جائیں۔ محکمے کو دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے محکمے کی تشکیل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ اس مقصد کیلئے جامع اور قابل عمل تجاویز جلد ی منظوری کیلئے پیش کئے جائیں جبکہ ایجوکیشنل ٹیسٹنگ اینڈ ایوالویشن اتھارٹی کی تشکیل نو کا عمل جلد مکمل کرلیا جائے ۔ اجلاس کو محکمہ کی مجموعی کارکردگی اور اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ رواں سالانہ ترقیاتی پروگرام میں محکمے کے کل 89 ترقیاتی منصوبے شامل کیے گئے ہیں جبکہ اس مالی سال کے دوران 44 منصوبے مکمل کر لیے جائیں گے۔ صوبے کے 12 کالجز میں بی ایس بلاکس مکمل کر لیے گئے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ کالجز میں سائنس لیب ڈویلپمنٹ، پلانٹ اور مشینری، فرنیچر و دیگر چیزوں کے لیے 1154 ملین روپے فراہم کیے گئے ہیں۔ بی ایس کامرس پروگرام کو صوبے کے تمام کامرس کالجز میں توسیع دے دی گئی ہے۔ دیگر مضامین میں بی ایس کو صوبے کے 113 کالجز تک توسیع دی گئی ہے جبکہ 71072 طلبہ ان کالجز میں انرولڈ ہیں۔ ستوری دا پختونخوا سکالرشپ کے تحت طلبہ میں رواں مالی سال میں  15.48 ملین روپے تقسیم کیے گئے ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ صوبے کی جامعات کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے پشاور یونیورسٹی کو  250 ملین روپے، زرعی یونیورسٹی پشاور  کو 100 ملین روپے، عبدالولی خان یونیورسٹی کو 138 ملین روپے، گومل یونیورسٹی کو 100 ملین روپے اور اسلامیہ کالج کو 100 ملین روپے کا بیل آؤٹ پیکج دیا گیا ہے۔ آرکائیوز اور لائبریریز کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ صوبے کی فعال لائبریریوں کے لیے 32 ملین روپے کی کتابیں اور فرنیچر خریدا گیا ہے اور قارئین کی دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے پبلک لائبریریوں میں سیکنڈ شفٹ کا اجراء کیا گیا ہے۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ہائیر ایجوکیشن اکیڈمی برائے ریسرچ اور ٹریننگ کے تحت 4233 اساتذہ کو ٹریننگ دی گئی ہے ۔ 160 پرنسپلز، ڈی ڈی اوز، اور بی ایس کوآرڈنیٹرز کو کیپسٹی بلڈنگ ٹریننگ دی گئی ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات کے بارے میں بتایا گیا کہ مینجمنٹ سائنس کالجز میں ای کامرس پالیسی متعارف کرانے کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو اس حوالے سے  ایک ماہ کے اندر رپورٹ پیش کرے گی۔

Facebook Comments