86

حویلیاں حادثہ، خرابی کے باوجود طیارہ اڑایا گیا، سی اے اے سے جواب طلب

 کراچی  (آواز چترال  نیوز )سندھ ہائی کورٹ نے حویلیاں میں 2016 میں پی آئی اے طیارہ حادثے کی ذمہ داری سے متعلق سول ایوی ایشن اتھارٹی سے تفصیلی جواب طلب کرتے ہوئے  حکم دیا ہے کہ تکنیکی سوالات کی روشنی میں بتائیں کہ کون ذمہ دار ہے؟  پی آئی اے کی جانب سے متعلقہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی بھی رپورٹ طلب کرلی گئی۔ پی آئی اے کے موجودہ اے ٹی آر طیاروں کی منٹیننس سے متعلق بھی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔  منگل کو سندھ ہائی کورٹ میں حویلیاں میں پی آئی اے طیارہ حادثے کی تحقیقات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ پی آئی اے اور سول ایوی ایشن کے ٹیکنیکل افسران عدالت میں پیش ہوئے۔  جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ اتنا بڑا حادثہ ہوا،اس کا ذمہ دار کون ہے؟۔ ڈائریکٹر ٹیکنیکل پی آئی اے نے بتایا کہ طیارے میں ٹیکنیکل مسئلہ تھا،ہم نے اس حادثے سے سبق سیکھا۔  عدالت نے کہا کہ لوگ رقم خرچ کرکے ٹکٹ خریدتے ہیں، اگر مسافر محفوظ نہیں تو کیا فائدہ ہے؟اس رپورٹ کے بعد پی آئی اے نے کسی ذمہ دار کا تعین کیا؟ جسٹس محمد علی مظہر نے مزید کہا کہ ہماری بار بار ہدایت کی وجہ سے رپورٹ آگئی ورنہ کبھی سامنے نہ آتی۔  عدالت نے مزید استفسار کیا کہ آپ لوگوں نے خرابی کے باوجود طیارہ اڑایا،اس کا ذمہ دار کون ہے،پڑھ کر بتائیں کہ رپورٹ میں کیا لکھا ہے؟  اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل شہریار مہرنے عدالت کو بتایا کہ آبزرویشن میں پی آئی اے کوذمہ دار قرار دیا گیا۔ پی آئی اے کے ٹیکنیکل ڈائریکٹر نے عدالت کو بتایا کہ لیفٹ انجن میں مسئلہ آیا تھا اور رائٹ انجن ٹھیک تھا،ڈیزائن کا مسئلہ تھا،دس ہزارگھنٹوں کی پروازکی حد ہے۔  جسٹس محمد علی مظہر نے سوال اٹھایا کہ طیارے کا ٹربائن بلیڈ کیوں تبدیل نہیں کیا گیا؟ڈائریکٹر ٹیکنیکل نے کہا کہ ورکشاپ میں جب طیارہ آیا تواس کی منٹیننس کی گئی،ہم نے مکمل ریکارڈ جمع کرادیا ہے،مجھے تھوڑی سے مہلت دے دیں تومزید جواب دے سکوں گا۔  عدالت نے مزید استفسار کیا کہ اس حادثے کے بعد کس کیخلاف کارروائی ہوئی؟ پی آئی اے حکام نے بتایا کہ ہم نے فوری طور پرتمام اے ٹی آر طیاروں کو گراؤنڈ کردیا تھا۔  عدالت نے مزید استفسار کیا کہ کیا بقیہ اے ٹی آر طیاروں کومحفوظ بنایا گیا ہے؟ پی آئی اے کے وکیل نے عدالت کویقین دلایا کہ ہم سیفٹی ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ کی بنیاد پریقین دلارہے ہیں کہ تمام حفاظتی اقدامات کرلیے ہیں۔  عدالت نے حادثے کی ذمہ داری سے متعلق سول ایوی ایشن اتھارٹی سے تفصیلی جواب مانگ لیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ تکنیکی سوالات کی روشنی میں بتائیں کون ذمہ دار ہے؟ پی آئی اے کی جانب سے متعلقہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی بھی رپورٹ طلب کرلی گئی۔ پی آئی اے کے موجودہ اے ٹی آر طیاروں کی منٹیننس سے متعلق بھی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔  درخواست گزار اقبال کاظمی نے حادثے سے متعلق نئے دستاویزات پیش کردیئے۔ دستاویزات کی روشنی میں پی آئی اے اوردیگرکوجواب جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔کیس کی سماعت 17 دسمبر تک ملتوی کردی گئی۔

Facebook Comments