67

بد عنوانی خاتمہ، خیبر پختونخوا میں نیا قانون لانے کا فیصلہ

 پشاور  ( آواز چترال  نیوز) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے صوبائی حکومت کے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو مزید فعال، موثر اور مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ادارے کے لئے بننے والے نئے قانون کے مسودے کو جلد حتمی شکل دینے اور آئندہ تین ہفتوں کے اندر ہر لحاظ سے مکمل مسودہ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔  وزیر اعلیٰ نے مزید ہدایت کی ہے کہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو مضبوط اور موثر بنانے کے لئے اس کے انتظامی ڈھانچے میں ضروری تبدیلیاں کرکے اس کی تشکیل نو کے عمل کو بھی جلد مکمل کیا جائے۔  وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو مزید فعال بنانے کے لئے نئے قانون کے مسودہ پر غور و خوض کے سلسلے میں منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ صوبائی وزیر قانون سلطان خان، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی شفیع اللہ، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری شہاب علی شاہ، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ مطاہر زیب، سیکرٹری قانون مسعود احمد اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔  اجلا س کو محکمہ اینٹی کرپشن کے قیام کے تاریخی پس منظر اور اس کے مقاصد، ضرورت واہمیت اور مجوزہ قانون کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔  وزیراعلیٰ نے اس موقع پر ہدایت کی کہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے نئے انتظامی ڈھانچے اور مجوزہ قانون کو متعلقہ ماہرین کی مشاورت سے حتمی شکل دی جائے۔  قانون کا مسودہ ہر لحاظ سے مکمل،پیچیدگیوں اور ابہام سے پاک، واضح اور قابل عمل ہونا چاہیئے۔  اْنہوں نے کہاکہ اصل مقصد سرکاری معاملات میں ہر طرح کی بدعنوانی کا مکمل تدارک اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے، جو پی ٹی آئی کی حکومت کے وژن اور منشور کا بنیادی حصہ ہے۔ محمود خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے عوام کو شفاف طریقے سے خدمات کی فراہمی کیلئے نہ صرف اداروں کو مضبوط اور بااختیار بنایا بلکہ جزا و سزا کا نظام بھی متعارف کرایااور قانون سازی کے ذریعے اصلاحات کے مجموعی نظام کو دیرپا بنایا۔  صوبائی حکومت نے اطلاعات تک رسائی اور خدمات تک رسائی (آر ٹی ایس) جیسے قوانین منظور کرکے خود کو عوام کے سامنے جوابدہ بنایا۔ سرکاری اداروں میں سیاسی مداخلت کا خاتمہ کیا اور حق دار کو حق کی فراہمی کیلئے نظر آنے والے اقدامات اْٹھائے جن کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔

Facebook Comments