170

داد بیداد…..سکو لوں کی حو صلہ افزائی..…ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی

ایک عالم دین کی طرف سے مسلسل 18سا لوں تک انگریزی تعلیم دینے والے سکو لوں کی اعلیٰ پیما نے پر حوصلہ افزائی بڑی خبر بھی ہے نہا یت حوصلہ افزا بات بھی ہے ملک کے ممتاز عالم دین قاری فیض اللہ چترالی نے 2002ء میں چترال کے سر کاری اور پرائیویٹ سکو لوں میں پڑھنے والے طلبہ کے لئے بورڈ امتحا ن میں امتیا زی پو زیشن لینے پر 50ہزار روپے 40ہزار روپے اور 30ہزار روپے کے 6انعا مات کا اجراء کیا پشاور بورڈ سے سالانہ امتحا ن 2003کا نتیجہ آنے کے بعد اقراء ایوارڈ کے نام سے انعا مات اور اقراء نشا نات تقسیم کئے گئے اقراء انعا مات کی اٹھا رویں تقریب سالا نہ امتحا ن 2020کے طلباء اور طا لبات کے لئے ضلع کو نسل ہال چترال میں منعقد ہوئی تقریب کے منتظم اور اقراء انعا مات کے رابطہ کار مو لا نا خلیق الز مان خطیب شاہی مسجد چترال نے خطبہ استقبالیہ پیش کر تے ہوئے اقراء نشان اور اقراء انعا مات کے پس منظر پر دلنشین پیرایے میں روشنی ڈا لی انہوں نے کہا کہ بر صغیر پا ک ہند پر انگریزوں کی عمل داری سے پہلے مسلما نوں کے تعلیمی نظا م میں دینی اور دُنیوی تعلیم کے شعبے الگ الگ نہیں تھے ایک مدرسے میں ایک ہی استاد کے سامنے زا نوئے تلمذ تہہ کر کے نو جوان دین کی تعلیم بھی حا صل کر تے تھے دنیا کی تعلیم بھی حا صل کر تے تھے انگریزوں کے آنے کے بعد لا رڈ میکا لے کا نظا م تعلیم آیا جس نے دین اور دنیا کو الگ الگ خا نوں میں تقسیم کر کے رکھ دیا علا مہ اقبا ل نے سچ کہا ؎
اور یہ لا رڈ میکا لے کا نظام تعلیم
فقط ایک سازش ہے دین و مر وت کے خلاف
جیسا کہ آپ کے علم میں ہے وطن عزیز پا کستان میں ایک مخصوص طبقے نے یہ غلط فہمی پھیلا ئی کہ علما ئے کرام عصری علوم کے خلاف ہیں حا لا نکہ علمائے کرام نے اپنے مد رسوں میں بھی اور مد رسوں سے با ہر بھی عصری علوم کی سر پر ستی کی ہے اور علوم میں نا م پیدا کیا ہے اس وقت پا کستان اور بر طا نیہ میں اسلا می مد رسوں کے طلباء اور طا لبات بورڈ کے امتحا نات میں امتیاری پو زیشن لے رہے ہیں اس سال بر طا نوی حکو مت نے اسلا می مدا رس کو امتیا زی سندات سے نو ازا ہے چترال کو یہ خصو صیت حا صل ہے کہ یہاں ایک عا لم دین قاری فیض اللہ چترالی نے پشاور بورڈ کے ساتھ الحا ق رکھنے وا لے سکولوں سے میڑک پا س کر نے والے طلباء اور طا لبات کے لئے اقراء ایوارڈ کے نام سے سا لا نہ انعا ما ت اور ایوارڈ کا اجراء کیا ہے اور اس طرح ثا بت کیا ہے کہ علما ء عصری تعلیم کے راستے کی دیوار نہیں، رکا وٹ نہیں بلکہ دینی اور عصری علوم کے درمیان مظبوط پُل کا کر دار ادا کرتے ہیں انہوں نے سر کاری اور نجی سکو لوں کے لئے الگ الگ انعا مات رکھنے کی وضا حت کر تے ہوئے کہا کہ شروع میں ایک ہی انعام کی تجویز تھی مگر نتیجہ آنے کے بعد معلوم ہوا کہ تینوں انعا مات نجی شعبے کے سکو لوں کو ملتے تھے سر کاری سکو ل محروم رہتے تھے اس صورت حا ل کے پیش نظر قاری صا حب نے سر کاری سکو لوں کے لئے الگ انعا مات کا اعلا ن کیا اور گذشتہ 18سا لوں سے پشاور بورڈ کے نتا ئج ایسے ہی آرہے ہیں انعام کی رقم بھی قاری صاحب نے اپنے محدود و سائل کو سامنے رکھتے ہوئے ایسی رکھی ہے کہ ہر سال انعام لینے والے طا لب علم کی مزید تعلیم کے مصارف میں کا م آسکے نیز ہر سال کسی نہ کسی طا لب علم کو حو صلہ افزائی کا خصو صی انعام بھی دیا جا تا ہے اس سال اقلیتی برادری کا لا ش سے تعلق رکھنے والے طا لب علم کو دیا جارہا ہے اس سال نجی شعبے کی انعا ما ت دی لینگ لینڈ سکول، قتیبہ پبلک سکول اور اے کیو خا ن پبلک سکول کو دیئے گئے پہلا انعام 50ہزار روپے لائیبہ حیا ت دی لینگ لینڈ سکول کو ملا انہوں نے 1009نمبر حا صل کئے دوسرا انعام 40ہزار روپے فر حین فیضہ دی لینگ لینڈ سکول کو ملا ان کے نمبر 1005تھے تیسرا انعام 30ہزار روپے عروج عا لم قتیبہ پبلک سکول اور تمسین عطاء ایے کیو خا ن سکول میں برابر تقسیم ہوا دونوں نے 1003نمبر لئے تھے سر کاری سکولوں کے لئے مختص انعا مات میں گورنمنٹ سینٹینیل ہا ئی سکول چترال کے محمد یا سر کو 50ہزار روپے کا پہلا انعام ملا انہوں ے 911نمبر حا صل کئے تھے دوسرا انعام40ہزار روپے گورنمنٹ ہائی سکول ایون کے حنظلہ سعید کو دیا گیا ان کے حا صل کر دہ نمبر 978تھے جبکہ تیسرا انعام30ہزار روپے30سنٹینیل ہا ئی سکول چترال کے سا جداقبال کو دیا گیا انہوں نے 976نمبر حا صل کئے حو صلہ افزائی کا خصو صی انعام 20ہزار روپے گورنمنٹ ہا ئی سکول رمبور کے کا لا ش طا لب علم حمید حسین کو دیا گیا مہمان خصو صی مو لانا ہد ایت الرحمن ایم پی اے نے اپنی تقریر میں چترال کی ممتاز مخیر شخصیت قاری فیض اللہ چترالی کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا قاری صا حب ہر سال اقراء انعا مات کے علا وہ قدرتی آفات سے متا ثر ہو نے والے غریبوں کی مدد پر بھی لا کھوں روپے خر چ کر تے ہیں صلے کی پرواہ نہیں کر تے ستائش کی تمنا نہیں رکھتے خود ایسے موا قع پر سامنے آنا بھی پسند نہیں کرتے چنا نچہ خلق خدا کی ایسی خد مت کرتے ہیں جس کا بد لہ اللہ تعا لیٰ ہی دیتا ہے اپنی صدارتی تقریر میں گورنمنٹ سینٹینیل ہا ئی سکول چترال کے پرنسپل فدا محمد نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ پشاور بورڈ سے ملحقہ 5اضلاع میں سے چترال واحد ضلع ہے جہاں گذشتہ 18سا لوں سے ایک مخیر شخصیت کی طرف سے اول دوم اور سوم پوزیشن لینے والے سر کاری اور نجی شعبے کے سکولوں میں زیر تعلیم طلباء اور طا لبات کو لا کھوں روپے کے انعا مات اور پر نسپل صا حبان کو اقراء نشان سے نوازا جا تا ہے اس طرح نہ صرف طالب علموں کی مدد ہو تی بلکہ سکو لوں کی بھی حوصلہ افزائی ہو تی ہے تقریب کی نظا مت مو لا نا الیا س جیلا نی نے کی مقررین میں اخو نزادہ رحمت اللہ امیر جما عت اسلا می چترال لوئیر اور سما جی کارکن عنا یت اللہ اسیر بھی شا مل تھے۔

Facebook Comments