66

..سٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چترال لوئر کی واحد ٹی بی ایکسپرٹ مشین کو پرائیوٹ ہسپتال کے حوالے کرنا عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔

چترال ( آواز چترال  نیوز) ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چترال لوئر کی واحد ٹی بی ایکسپرٹ مشین کو پرائیوٹ ہسپتال کے حوالے کرنا عوام الناس پر سراسر زیادتی ہے۔اور معلوم ہوا ہے کہ سیکرٹری ہیلتھ کی ایما پر ڈسٹرکٹ میں موجود واحد ٹی بی تشخیصی مشین اپر چترال بونی میں قائم ایک پرائیوٹ ہسپتال منتقل کی جا رہی ہے اور اس سلسلے میں باقاعدہ ایم آئی یو پر دستخط بھی ہوچکا ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ کوارڈینینشن کمیٹی چترال کے جنرل سیکرٹری وجیہ الدین نے ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ ہسپتال ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ ٹی بی کنٹرول افیسر گزشتہ 7 مہینوں سے ڈیوٹی سے غائب ہے۔ شنید ہے کہ سیکرٹری ہیلتھ کے دورہ کے دوران صورتحال سے آگاہی دلانے کے ساتھ غیر حاضر افیسر کے خلاف کارروائی کی سفارش بھی کی گئی تھی، مگر سیکرٹری ہیلتھ نے مذکورہ افیسر کے خلاف کارروائی کے بجائے مشین پرائیوٹ ہسپتال منتقل کرنے کا فرمان جاری کیا۔ اس سلسلے میں جب ڈی ایچ او چترال سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ خاتون 17 گریٹ کی افیسر ہیں، جن کے خلاف کارروائی یا تبادلہ کا اختیار میرے پاس نہیں۔ اور موصوفہ پشاور میں رہ کرتنخواہ اور دیگر مراعات بٹور رہی ہے۔اُنہوں نے کہا ہے کہ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ سیکرٹری ہیلتھ کو دورہ چترال کے دوران کسی سازشی عناصر کی طرف سے یہ گمراہ کن خبر دی گئی تھی کہ یہاں سات مہینوں سے ایک بھی ٹی بی ٹیسٹ نہیں ہوا۔ جس کی وجہ سے موصوف مشین کو پرائیوٹ ادارے کو دینے کا فیصلہ کیا۔ جبکہ ہسپتال ذرائع کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر چار یا پانچ ٹیسٹ ہوتے رہتے ہیں۔اور اب تک کل تیرہ سو مریضوں کا ٹیسٹ ہوچکا ہے۔ اُنہوں نے کہا ہے کہ یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ اپر چترال کے بیشتر بلکہ تمام تر مریض ہر قسم کی بیماری کی تشخیص کے لیے لوئر چترال آتے ہیں، ایسے میں یہاں موجود تشخیصی مشین کی اپر چترال کے کسی پرائیوٹ ادارے کو منتقلی سے کسی کو کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ ایسے میں یقینی طور پر چترال کے مریضوں کو ٹی بی ٹیسٹ کے لیے دیر یا تمرگرہ جانا ہوگا۔ ان تمام حقائق کی خبردار کیا جاتا ہے کہ مذکورہ معاہدے کو فورا منسوخ کردیا جائے اور ڈسٹرکٹ ٹی بی کنٹرول افیسر کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ بصورت دیگر لوئر چترال کے عوام بھر پور احتجاج پر اُتر آئیں گے اور کسی صورت ڈسٹرکٹ میں موجود واحد ٹی بی مشین کی منتقلی کی اجازت نہیں دیں گے۔

Facebook Comments