125

دیوار برلن گر سکتی ہے تو انڈیا پاکستان اور بنگلہ دیش کے بارڈر کیوں نہیں ختم ہو سکتے

مہاراشٹرا ۔ ( آواز چترال  نیوز) عرصہ ہوا کہ ایک پاکستان ایئر فورس کا کرنل بھارت کسی ضروری کام اور سیاحت کی غرض سے کیا۔جب انہیں تاج محل لے جایا گیا تو میزبان نے پاکستانی کرنل سے کہا کہ یہاں بھارتیوں کے لیے ٹکٹ بیس روپے کا ہے جبکہ غیر ملکیوں کے لیے ساڑھے سات سو روپے کا۔چونکہ ہمارے کلچر اورلباس ایک جیسے ہیں اور ہم نظر بھی ایک جیسے آتے ہیں کہ ہمارا رنگ اور قد کاٹھ میں بھی زیادہ فرق نہیں ہے اور کسی کو پتا بھی نہیں چلے گا تو آپ کا لوکل ٹکٹ خرید لیتے ہیں تاکہ بیس روپے میں معاملہ نمٹ جائے۔ اس پر پاکستانی کرنل نے تاریخ ساز الفاظ کہے تھے کہ”اسی شناختی کی خاطر کہ ہم علیحدہ قوم ہیں ہم نے جانیں دی تھیں اور ہمارے آباﺅ اجداد نے عزتیں گنوانے کے ساتھ گھر بار بھی لٹا یا تھا۔ اور آج چند پیسوں کی خاطر میں اپنی شناخت قربان کر دوں تو اپنی قوم اور آباﺅ اجداد کو کیا جواب دوں گا۔“ان الفاظ میں چھپی آپ تاریخ پاکستان آسانی سے سمجھ گئے ہوں گے۔ وہ نام نہاد لبرل جو کہتے ہیں کہ انڈیا پاکستان کا بارڈر محض ایک لکیر ہے انہیں بتاﺅ کہ یہ لکیر ہماری ماﺅں بہنوں نے عزتیں لٹا کر کھینچی تھی اور ہمارے جوان شیر دل بھائیوں نے جگر کا خون دے کر اس لکیر کی آبیاری کی تھی۔انٹرنیشنل ایجنڈا اور عالمی سازشوں کے ہاتھوں یرغمال ہونے والے اور کچھ سادہ لوح پاکستانی بھی یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ انڈیا پاکستان کی لکیر ہٹا کر پھر سے ایک ہو جانا چاہیے کہ بھارت کی معاشی منڈی کتنی بڑی ہے تو انہیں کوئی سمجھائے مسلمان قوم کو غلامی کی عادت نہیں ہے۔ حال ہی میں بھارت کے ایک وزیر نے بیان دیا ہے کہ بھارت،بنگلہ دیش اور پاکستان کے بارڈ ختم کر کے انہیں پھر سے ایک کر دینا چاہیے۔ان کا مانناہے کہ اگر دیوار برلن گر سکتی ہے تو ہم تینوں ممالک کے بارڈ ایک یوں نہیں ہو سکتے۔مہاراشٹرا کی کابینہ کے منسٹر نواب ملک نے اتوار کے روز میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم پہلے بھی اک تھے تو اب دوبارہ بھی ایک ہو جانے چاہئیں۔جبکہ ان سے قبل بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک وزیر موصوف نے بھی بیان دیا تھا کہ ایک دن کراچی بھارت کا حصہ ہو گااور اس بیان کے ردعمل میں جب نواب ملک سے صحافیوں نے سوال کیا تو اس نے تینوں ممالک کو ایک کر دینے کی خواہش کا اظہار کیا جو کہ دیوانے کے خواب سے بڑھ کر اور کچھ نہیں۔

Facebook Comments