93

اپر چترال میں ریسکیو سٹیشن کے قیام کیلئے بھی سکیمیں منظور کی گئی ہیں…وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا

پشاور(آوازچترال نیوز  ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے ریسکیو 1122 سروس کی صوبہ بھر میں توسیع کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیتے ہوئے محکمہ ریلیف کے حکام کو ہدایت کی کہ ریسکیو سروس کو تحصیل کی سطح تک توسیع دینے کیلئے ضروری اقدامات کئے جائیں تاکہ قدرتی آفات اور دیگر ہنگامی صورتحال میں انسانی جانوں اور املاک کے نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو ریسکیو سروسز کی بروقتفراہمی کو یقینی بنانے کے سلسلے میں ریسکیو1122 کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ ریلیف کے کار کردگی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات کامران بنگش ، سیکرٹری ریلیف عامر لطیف ، ڈائریکٹر جنرل ریسکیو1122 خطیر احمد اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔ وزیر اعلیٰ نے محکمہ کی مجموعی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے مزید بہتر اور فعال بنانے کی بھی ہدایت کی ہے۔محکمہ ریلیف کی جانب سے اجلاس کو بریفنگ دیتے دیتے ہوئے بتایا گیا کہ 2015 میں خیبر، اورکزئی، کرم، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان کے کنفلکٹ ایریاز کیلئے سٹیزن لاسز کمپنسیشن پروگرام کا اجراء کیا گیا تھا جس کے تحت 615، 144 گھروں کا سروے کیا گیا۔ منصوبے کے تحت اب تک 81,509 مکمل تباہ شدہ / جزوی تباہ شدہ گھروں کے مالکان میں معاوضہ تقسیم کیا جا چکا ہے جبکہ باقی ماندہ تصدیق شدہ کیسز کو معاوضے کی تیز رفتار ادائیگی کیلئے اضافی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اور اضافی تحصیل دار تعینات کئے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے پروگرام کے تحت معاوضوں کی ادائیگی کا عمل تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پیرا کے ذرریعے سکولوں ، بنیادی مراکز صحت اور سڑکوں کی بحالی کے پروگرام کے تحت اب تک 5425 منصوبے مکمل کئے جا چکے ہیں جبکہ باقی ماندہ 1113 منصوبوں میں سے 370 پر کام شروع ہے۔ اجلاس کو صوبے میں ریسکیو1122 کے سٹیشنز کے قیام کے حوالے سے تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کیا کہ صوبے کے 32 اضلاع میں مجموعی طور پر 92 ریسکیو سٹیشنز فعال ہیں جبکہ باقی ماندہ تین اضلاع کولائی پالس ، تور غر اور اپر چترال میں ریسکیو سٹیشن کے قیام کیلئے بھی سکیمیں منظور کی گئی ہیں۔ محکمہ ریلیف کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل سات ترقیاتی منصوبوں کے پی سی ون منظور ہو چکے ہیںجبکہ ایک منصوبے کا پی سی ون تیاری کے مراحل میں ہے۔

Facebook Comments