74

گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے لیے جوڑتوڑ

اسلام آباد(آوازچترال ) گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے بعد اس وقت حکومت سازی کے لیے جوڑ توڑ جاری ہے اور سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی پاکستان تحریک انصاف کے راہنماﺅں کی جانب سے آزاد اراکین کی حمایت سے اکثریت حاصل ہونے کے دعوے کیے جا رہے ہیں. دوسری جانب حزب اختلاف کی جماعتیں انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیتے ہوئے احتجاج کر رہی ہیں پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو کہتے ہیں کہ وہ انتخابی نتائج کو ہر دستیاب فورم پر چیلنج کریں گے گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کی 23 نشستوں پر ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں غیر حتمی نتائج کے مطابق پی ٹی آئی9 نشستوں کے ساتھ سرفہرست ہے جبکہ 7 آزاد اراکین بھی ان انتخابات میں کامیاب قرار پائے ہیں جن کے بارے میں حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے تحریک انصاف کو حکومت سازی کے لیے تعاون کی یقین دہانی کروادی ہے. بلاول بھٹو اور مریم نواز کی بھرپور انتخابی مہم کے باوجود پیپلز پارٹی کو3 اور مسلم لیگ( ن) کو 2 نشستیں مل سکی ہیں جب کہ ایک نشست کا انتخانی نتیجہ تاحال جاری نہیں کیا گیا. انتخابی نتائج کو دیکھا جائے تو سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کے باوجود تحریک انصاف کے پاس حکومت بنانے کے لیے سادہ اکثریت بھی نہیں ہے لہذا اسے آزاد امیدواروں کی حمایت کی ضرورت پڑے گی. اگر تحریک انصاف آزاداراکین کی حمایت کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو اس کے پاس کل 23نشستوں میں سے 16نشستیں مل جاتی ہیں. تحریک انصاف کے چیف آرگنائزر سیف اللہ نیازی نے امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ انہیں 6 آزاد اراکین کی حمایت حاصل ہو چکی ہے جس کے نتیجے میں وہ دو تہائی اکثریت کے ساتھ حکومت بنائیں گے انہوں نے بتایا کہ اب تک کے نتائج کے مطابق ان کی جماعت کے 9 امیدوار کامیاب قرار پائے ہیں جبکہ ایک نشست پر دوبارہ گنتی کا عمل جاری ہے جس میں انہیں کامیابی کی امید ہے. تحریک انصاف کے راہنما نے کہا کہ حتمی سرکاری نتائج کے اجراءکے ساتھ ہی وہ باقاعدہ حکومت سازی کا آغاز کر دیں گے تحریک انصاف آزاد امیدواروں کے ساتھ مل کر حکومت سازی کے لیے تیار نظر آتی ہے تو حزب اختلاف کی جماعتیں انتخابی نتائج کو چیلنج کرنے اور مشترکہ احتجاج کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں. حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے گلگت بلتستان کے انتخابات کے نتائج کو باقاعدہ طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے سیاسی انجینئرنگ قرار دیا ہے حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ انتخابات میں بھرپور دھاندلی کی گئی تاکہ حکومت مخالف جماعتوں کو حکومت سازی سے روکا جا سکے. پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے گلگت میں انتخابی دھاندلی کے خلاف دھرنے میں شرکت بھی کی اور اپنی جذباتی تقریر میں کہا کہ وہ اس دھاندلی کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں، جس کے لئے وہ اسلام آباد کی جانب مارچ سمیت ہر دستیاب فورم استعمال کریں گے حزب اختلاف کے دھاندلی کے الزامات کے بارے میں سوال پر تحریک انصاف کے چیف آرگنائزر سیف اللہ نیازی کہتے ہیں کہ اگر انتخابات میں دھاندلی ہوتی تو ان کی جماعت چند سو ووٹوں سے کئی نشستیں نہ ہارتی انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف کی جماعتیں انتخابی دھاندلی کی باتیں تو کر رہی ہیں لیکن ثبوت فراہم کرنے میں ناکام ہیں. انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف کی خواہش پر متعدد حلقوں میں دوبارہ گنتی کی گئی ہے اور انتخابی نتائج کو چیلنج کرنے کے حوالے سے یہ جماعتیں کسی بھی فورم پر جانے کے لئے آزاد ہیںگلگت بلتستان کے چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز نے دھاندلی کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات سے متعلق شبہات پیدا کرنے کی بجائے اگر کہیں قوانین کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو اس کے شواہد سامنے لائے جائیں.

Facebook Comments