382

ڈی سی چترال اپنے ایک منظور نظرا فسر اے ڈی سی چترال کے بھائی کی خاطر اسسٹنٹ کمشنر چترال کے ذریعے ایک ٹیسٹ لینے کی کوشش کررہے ہیں۔۔انجمن پٹواریان و قانونگوئیاں چترال

چترال (نمائندہ آوازچترال) انجمن پٹواریان و قانونگوئیاں چترال کے صدر قادر امان نے حکومت سے پرزورمطالبہ کیا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ، وزیر اعلیٰ کے احکامات پر عملدرامد کرتے ہوئے سینارٹی کی بنیاد پر پٹواریوں کو ضلعی انتظامیہ کے محکمہ مال میں پیدا شدہ پانچ اسامیوں پر بھرتی کئے جائیں ورنہ وہ غیر معینہ مدت تک کے لئے قلم چھوڑ ہڑتال کرنے اور ڈی سی آفس کے سامنے روزانہ دھرنا دینے پرمجبورہوں گے۔ منگل کے روز چترال پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پٹواری کی پوسٹ ایک ٹیکنیکل پوسٹ ہے جو عام سرکاری ملازمتوں سے مختلف ہے اور اس پوسٹ پر بھرتی کا طریقہ کار لینڈ ریکارڈ مینول کے پیراگراف 3.6میں صاف درج ہے جس کے مطابق ہر تحصیل کی سطح پر پیدا شدہ اسامیوں میں سینارٹی کے بنیاد پر امیدواروں کو بلا کر بغیر اشتہار، ٹیسٹ اور انٹرویو بھرتی کیاجاتا ہے جبکہ چترال میں ٹیسٹ اور انٹرویو کے انعقاد کافیصلہ ڈی سی لویر چترال کا اپنے منظور نظر افرادکو نوازنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہاکہ پٹواریوں کی پانچ پوسٹوں کو سال 2017ء میں سابق ڈی سی کی طرف سے مشتہرکرنے پر انجمن پٹواریاں نے پشاور ہائی کورٹ کے ذریعے اسٹے حکم امتناعی حاصل کیا تھاجبکہ گزشتہ سال عدالت عالیہ نے ہمارے حق میں فیصلہ بھی سنادیااور ایس ایم بی آر کو حکم دیاکہ چترال کے سیٹلمنٹ اسٹاف کو ان اسامیوں پر ریگولر کیا جائے لیکن ڈی سی چترال اپنے ایک منظور نظرا فسر اے ڈی سی چترال کے بھائی کی خاطر اسسٹنٹ کمشنر چترال کے ذریعے ایک ٹیسٹ لینے کی کوشش کررہے ہیں جوکہ ہمیں ہرگز منظور نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس بار ے میں سیٹلمنٹ افسر کے ساتھ مل کر ڈی سی کے ساتھ مذاکرات بھی ہوئے تھے لیکن وہ وعدے سے پھر گئے۔ انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ ڈی سی چترال اور اے ڈی سی چترال کوفوری طور پر کام سے روک دیا جائے تاکہ پٹواریوں کی تقرری کا مسئلہ قانونی طریقے سے انجام پاسکے۔ انہوں نے کہاکہ ڈی سی چترال نے ہروقت پٹواریوں سے قدرتی آفات اور کرونا کے وبائی ہنگامی حالات میں کام لیتا آرہا ہے اور ان کا اسٹاف نہ ہونے کے باوجود وہ بلامعاوضہ فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔ اس موقع پر انجمن کے دیگر عہدیداران عابداحمد بیگ انفارمیشن سیکرٹری، شاکر احمد سیکرٹری فنانس، محمود خان سینئر نائب صدر، اصغر علی خان اپر چترال، ظفر اللہ خان نائب صدر اپر چترال اور علی منظور جنرل سیکرٹری اپر چترال بھی موجودتھے۔

Facebook Comments