159

 بونی پل تا چوک اور چوک تا ریسٹ ہاوس روڈ کی تعمیر میں معیار کی کوئی اہمیت نہیں

اپر چترال (ذاکر محمد زخمی)   بونی پل تا چوک اور چوک تا ریسٹ ہاوس روڈ کی تعمیر میں معیار کی کوئی اہمیت نہیں۔۔ یہ روڈ 2کلومیٹر پر محیط ہے۔دو بار اس روڈ کے لیے ٹینڈر کیے گئے۔عرصہ دراز گزر گیا تیار ہونے کا نام نہیں لیتا۔اس سال اللہ اللہ کرکے کام میں تیزی دیکھنے کو مل رہی ہے کشادگی کا کام تقریبا”مکمل ہے۔بجری ڈال کر لیولینگ یا ہموار کرنے کا کام بھی اخری مرحلے پر ہے۔ستم ظریفی یہ ہے کہ اگر معیار کی بات کی جائے تو جواب صفر ہے۔قدیم روڈ بمشکل 8/10فٹ چوڑائی پر مشتمل تھی۔سائڈ پر گوارنمنٹ ڈگری کالج فار بوائز،گوارنمنٹ ڈگری کالج فار گرلز،پولیس اسٹیشن بونی،ڈی۔پی۔او افس اور تقریبًا 80اباد گھرانوں کی آب نوشی کے پائپ لائینز،250چکوروم زرغی اباد اراضی کے اب پاشی کے پائپ،PTCLکے مین کیبلز اس روڈ کے کنارے بیچھائے گئیے تھے اور ساتھ ٹیلی فون کے پولز،بجلی کے کھمبے اور تاریں بھی بے ترتیبی سے روڈ سے متصل موجود تھی۔روڈ کشادگی کے بعد مزکورہ تمام لائینز اور کیبلز روڈ کے بالکل درمیان اگئے۔ یہ تمام مسلے انتظامیہ اپر چترال اور متعلقہ اداروں کے نوٹس میں ہیں بھی اور ان کے نوٹس میں ایک بار نہیں باربار لائے بھی گئیے ہیں۔کہ روڈ تکمیل کے مرحلے میں پہنچنے سے قبل ان تمام چیزوں کو روڈ کے کنارے موزون طورپر منتقل کرائے جائے تاکہ روڈ ایک بار بلیک ٹاپینگ ہونے کے بعد پھیر بربادی کا ساماں باقی نہ رہے۔متعلقہ اداروں اور انتظامیہ اپر چترال کی غفلت اور لا پرواہی کا یہ عالم ہے کہ جو پائپ لائن روڈ کنارے بیچھا دئیے ہیں وہ وہ قابل مزمت حد تک غیر معیاری اور ناموزون طریقے سے بیچھائے گئے ہیں۔جس کا منہ بولتا ثبوت تصویری صورت اور ویڈیو کی صورت میں موجود ہیں۔بیچھانے کے پندرہ دن بعد ٹوٹ پھوٹ کاشکار ہوکر پانی مین روڈ پر جاری ہے۔ پی۔ٹی۔سی ۔ایل کے کیبلز اور پول حسب سابق اپنے جگے پر موجود ہیں۔اسی طرح بجلی کے پول اور تاریں بھی خطرے کے علامت کے طور پر اپنے جگہوں پر سالیم موجود ہیں۔جو روزروز بڑھتی ہوئی ٹریفک کی راہ روکاوٹ بننے کے لیے کافی ہیں۔ اس موقع ٹھیکدار کو مورد الزام ٹھرانا ناانصافی ہوگی۔ یہ ان کے زمے میں شامل نہیں تھے۔ہر محکمے اپنے اپنے زمہ داریاں پورے کرنے تھے۔پی۔ٹی۔سی۔ایل،محکمہ بجلی یا محکمہ تعمیرات اپنے اپنے کام کرکے ٹھیکدار کے لیے اسانیاں پیدا کرسکتی تھی ۔مگر زمہ داریوں سے غافل یہ لوگ ان کے لیے بھی روکاوٹ بنے۔اب بات یہاں پہنچی کہ روڈ بنے گا ٹھیکدار بل وصول کرکے رفوچکر ہوگی ۔افیسرز صاحباں کچھ عرصے بعد ٹرانسفر ہونگے۔ان کے لیے کوئی مسلہ نہیں۔وسائل گوارنمنٹ کے صائع جائینگے۔کالجز کے پائپ لائن خراب ہونگے۔پینے کے پانی کا مسلہ ہوگا متبادل کوئی نظام نہیں۔روڈ کھودائی کرکے ترکول اکھاڑ کے پانی بحال کیا جائیگا پی۔ٹی۔سی۔ایل کے کیبلز کو بھی خراب ہونا ہے۔کمونیکیشن کے نظام کو بحال رکھنے کے لیے ہر صورت کدال اور بیلچے لیکر روڈ کے بیج کھودائی کرکے اسے کھنڈرات میں تبدیل کرکے اپنے نظام درست کرنا ہے۔یہ سب ہوتے رہینگے اور ضرور ہوتے رہینگے۔پر اس کا خمیازہ صرف اور صرف اس بدقسمت عوام کو بھگتنا ہے۔جو اس وقت خواب خرگوش میں سویا ہوا ہے۔بعد میں افسوس ہوگی کسی کو کرپٹ کہینگے۔کسی پر مفت میں بے مقصد اور بے سود لعن طعن ہوگی۔امیدیں خاک میں مل جائینگے۔ بے حس عوام پھیر سے جھولاجھولتے کھنڈرات سے سفر کا لطف اٹھائے گا۔چیف اینجنئر کے دورے کاخبر فاوقی صاحب کے رپورٹ پر دیکھنے کو ملے گی ۔اور بالائی حکام کو مطمن کرنے کے لیے یہ ہی رپورٹ کارامد ہو گا۔ اللہ حفیظ۔

Facebook Comments