82

نومنتخب امریکی صدر جو بائیڈن کو ہلالِ پاکستان سے نوازا جا چکا ہے

لاہور ( آوازچترال ) امریکہ کے نو منتخب صدر جو بائیڈن کے پاکستان کے ساتھ تعلقات ہمیشہ مثبت رہے ہیں اور وہ اس خطے میں پاکستان کے ساتھ کام کر چکے ہیں، جو بائیڈن نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی بہتری بہت سے کارنامے سر انجام دیے۔ 2008 میں پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ جو بائیڈن کو پاکستان کے دوسرے بڑے سول ایوارڈ ’’ہلالِ پاکستان ‘‘ سے نوازا تھا۔ جو بائیڈن یہ اعزاز حاصل کرنے والے تیسرے امریکی تھے۔ اس سے قبل 1983 میں لیفٹیننٹ کرنل رونالڈ سپیئرز کو جنرل ضیاء الحق کی جانب سے یہ اعزاز دیا گیا تھا جبکہ 2006 میں امریکی سفیرریان کروکر کو پاکستان میں خوفناک زلزلے کے بعد پاکستان کی مدد کرنے کے صلے میں صدر پرویز مشرف کی جانب سے یہ اعزاز دیا گیا تھا ۔ جو بائیڈن نے پاکستان کے لیے ایک امدادی پیکج بھی تیار کیا تھا جو کہ بائیڈن لوگر بل کے نام سے تیار کیا گیا تھا لیکن 2009 میں ان کے امریکی نائب صدر منتخب ہونے کے بعد جان کیری امریکی وزیرخارجہ بنے تو اس امدادی پیکج کو کیری لوگر بل کا نام دیا گیا ۔ 2009 میں امریکی صدر باراک اوبامہ نے اس بل کی منظوری دی تھی ۔ نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن ڈونلڈ ٹرمپ کی نسبت پاکستان کو بھی بخوبی جانتے ہیں اور پاکستان کے کئی دورے کر چکے ہیں۔ پچھلی تین دہائیوں کے دوران ان کے پاکستان کے سیاستدانوں اور فوجی جرنیلوں کے ساتھ براہ راست رابطے رہے ہیں ۔ واضح رہے کہ جو بائیڈن امریکی انتخابات میں واضح کامیابی کے بعد امریکہ کے 46ویں صدر منتخب ہو چکے ہیں ، ان کے ساتھ کمالا ہیرس نائب صدر منتخب ہوئی ہیں ۔ نو منتخب امریکی صدر اور نائب صدر کو پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور صدر ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے مبارکباد پیش کی گئی ہے ۔

Facebook Comments