151

سابق ڈاٸریکٹر أف فزیکل ایجوکیشن غلام حبیب….تحریر۔۔۔۔مولانامحمد الیاس جیلانی

اس دنیاٸے رنگ و بو میں بعض لوگ بہت عظیم ہوتے ہیں اور ایسے لوگ ذندگی ہی میں عظیم نہیں ہوتے بلکہ مرنے کے بعد بھی انکی عظمت کا چرچا رہتا ہے ۔ایسے ہی مقبول عام و خاص شخصیات میں سے سابق ڈاٸریکٹر أف فزیکل ایجوکیشن گورنمنٹ ڈگری کالج چترال مرحوم غلام حبیب کا نام نامی بھی شامل ہے۔مرحوم کا وطن اصلی نشکوہ تھا۔ابتداٸی دینی و عصری تعلیم حاصل کرنے کے بعد عنفوان شباب ہی میں چترال سکاٶٹس سے بحیثیت سپاہی منسلک ہوگٸے۔تقریبا 18 سال تک جغرافیاٸی سرحدوں کی حفاظت کرنے کے بعد حولدار رینک پر ریٹاٸرڈ ہوگٸے۔ریٹاٸرمنٹ کے بعد لاہور کالج أف فزیکل ایجوکیشن میں داخلہ لیا اور فزیکل ایجوکیشن میں ایم ایس سی کرنے کے بعد NWFP پبلک سروس کمیشن کے تحت مقابلے کے امتحان میں کامیابی کے بعد گورنمنٹ ڈگری کالج ایبٹ اباد میں بحیثیت ڈاٸریکٹر فزیکل ایجوکیشن تعینات ہوگٸے۔ڈیڑھ سال تک وہاں خدمات انجام دینے کے بعد GDC چترال ٹراسفر ہوگٸے یہاں پر طویل عرصے تک اپنا فرض منصبی بطریق احسن نبھانے کے بعد سن 2006 کو مدت ملازمت پوری کرکے سبکدوش ہوگٸے۔غلام حبیب مرحوم کا تعلق اگرچہ نشکوہ سے تھا لیکن اپنی ذندگی کا اکثر حصہ اباٸی علاقے سے دور ہی گزار دٸے۔تقریبا عرصہ 40 سال سے علاقہ بروز کو اپنا مستقل مسکن بنالیا تھا ۔انکی تمام اولاد کی جنم بھومی بھی بروز ہی ہے۔غلام حبیب مرحوم کو قدرت نے بے پناہ خوبیوں کا مرقع بنایا تھا۔معاشرتی ذندگی میں اپنی نرم مزاجی ملنساری اور خوش گفتاری کیوجہ سے ہر ملنے والے کا دل جیت لیتے تھے اور اپنی عاٸلی ذندگی میں بھی اپ بڑے نفیس نرم خو قدرشناس اور محبت و الفت کا پیکر تھے۔معاشرتی ذندگی میں غریبوں بیواٶں اور بے یارومددگاروں کا بھرپور خیال رکھتے تھے اور انکی چھوٹی بڑی ضروریات کی تکمیل انکے لٸے خوشی کا باعث ہوا کرتا تھا۔مساجد و مدارس سے محبت گویا انکی گھٹی میں پڑی تھی ۔قلعہ بالاحصار میں بدوران سروس چندہ کشی کرکے اسوقت کے لحاظ سے 25000 ہزار روپے کی خطیر رقم جمع کرکے نشکوہ میں اولین مدرسے کی بنیاد و تکمیل انہی کی کوششوں سے انجام پاٸی تھی۔ذندگی بھر مساجد و مدارس کیساتھ بساط بھر تعاون کرتے رہتے تھے۔بلا امتیاز کسی کے غم اور خوشی میں شرکت کو اپنی ذندگی کا جزو لا ینفک سمجھتے تھے۔ قول اور فعل میں تضاد کے سخت مخالف تھے اور حق بات کہنے میں کسی کو بھی خاطر میں نہیں لاتے تھے ۔ذندگی کی راہ میں درپیش مشکلات اور پریشانیوں کو ایک ہی ہنسی میں اڑا کے رکھ دیتےتھے ۔انکو جاننے والے تو جانتے ہی ہیں اور نا اشناٶں کیلٸے اتنا ہی عرض ہے کہ وہ روحوا قلوب المومنین ساعة بعد ساعة کے مصداق تھے۔خلق خدا کے ساتھ انکی شفقت و محبت اور ہمدردی ہی کا نتیجہ تھا کہ پچھلے چند سالوں سے اپ 12 مہینوں کا اکثر حصہ مدینہ منورہ میں اپنے بڑے فرزند رحمت حبیب کے ساتھ گذارتے تھے جو مسجد نبوی کے باب السلام کے بلمقابل دارالتقوی ہوٹل میں انکم اڈیٹر کی ذمہ داریاں نبھارہےہیں اور منجھلا بیٹا حبیب الرحمان بھی مدینہ منورہ ہی میں ملازمت کررہےہیں اور سب سے چھوٹا بیٹا منور حبیب چترال ہی میں میزان کوکنگ أٸل کے ڈسٹری بیوٹر ہیں اور تینوں کامیاب ذندگی گذار رہےہیں۔بحرحال جسطرح غلام حبیب مرحوم کی ذندگی قابل رشک تھی اسطرح انکی سفر اخرت بھی قابل صد تمنا تھی ۔29 اکتوبر 2020 جمعة المبارک کی انوارو برکات سے بھرپور رات اور 12 ربیع الاول انکے حصے میں أٸی۔خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

Facebook Comments