172

جسٹس ثاقب نثار نے جج ارشد ملک کو نواز شریف اور مریم نواز کو 14.14سال قید کی سزا دینے کا کہا

لاہور ( آوازچترال ) ہماری سیاسی تاریخ میں کئی ایسے واقعات درج ہیں کہ جن کا یقین کرنا بھی مشکل ہوتا ہے مگر وقت ثابت کرتا ہے کہ ایسی انہونیاں بھی اسی ملک میں ہی وقوع پذیر ہوئی ہیں۔جج ارشد ملک کا اسکینڈل ہماری عدلیہ اور سیاسی تاریخ کے حوالے سے ہمارے ملک کی تاریخ کا اگر دھبہ کہا جائے تو کم نہیں ہو گا۔ویسے بھی یہ پہلا یا آخری کیس نہیں ہے اس سے قبل جج ملک قیوم کی آڈیو کالز بھی ہماری تاریخ کا حصہ ہیں اورجسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس بھی ہمارا منہ چڑا رہا ہے۔ تاہم اگر جج ارشد ملک کے حوالے سے بات کی جائے تو انہیں نوکری سے برخاست کر دیا گیا تھا مگر ان کے حوالے سے کچھ معاملات ایسے بھی ہیں جو آج بھی جواب طلب ہیں۔اس حوالے سے سینئر صحافی انصار عباسی نے ایک ویڈیو انٹرویو میں بات کرتے ہوئے کہا کہ میں سابق چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار سے بات کرنا چاہ رہا تھا کہ ان کے حوالے سے ن لیگ جس قسم کا دعویٰ کرتی ہے کیا وہ سچ ہے یا نہیں مگر میرا ابھی تک ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ انصار عباسی نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ والوں کے پاس جج ارشد ملک کی آڈیو ریکارڈنگز ہیں جس میں انہیں اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے مریم نوازاور نواز شریف کو 14.14سال سزا دینے کا حکم دیا تھا۔اس ریکارڈنگ اور الزام سے متعلق تو ن لیگ کے راہنماﺅں نے کئی فورم پر گفتگو کی ہے مگر یہ آڈیو آج تک ریلیز نہیں کی گئی۔اس لیے سچ جھوٹ کا فیصلہ نہیں ہو سکتا۔انصار عباسی کا کہنا تھا کہ میں اسی سچ جھوٹ کو جاننے کے لیے سابق چیف جسٹس ثاقب نار سے رابطہ کرنا چاہ رہا تھا کہ کیا انہوں نے واقعی ایسا کوئی آرڈر دیا تھا یا نہیں مگر میرا ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔جبکہ ن لیگ ابھی بھی اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی ہے کہ ان کے قائدین کو ملنے والی سزائیں کسی کے ایما پردی گئی تھیں۔

Facebook Comments