209

دھڑکنوں کی زبان ..۔ ۔ ۔ فرزند چترال انور امان ……محمد جاوید حیات

فرزند چترال انور امان کچھ دنوں سے چترال کے فرزند کے بارے میں بہت ساری باتیں ہو رہی ہیں ۔۔بھائ کا تعلق تحصیل لوٹکوہ سے ہے پچھلے چوبیس سالوں سے امریکہ میں مقیم ہیں ۔۔اپنی محنت سے بہت ساری کامیابیاں جاصل کی ہیں دھن دولت کمایا ہے ۔۔اب اپنی کمائ چترال لا کر سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں ۔۔آپ کی سرمایہ کاری سے چترال میں سیاحت کی ترقی ہوگی اور چترالیوں کو فایدہ ہوگا ۔۔دنیا میں سیاحت ایک پیشہ بھی ہے ایک جنون بھی ہے کسی ملک کو اس سے فایدہ بھی بہت حاصل ہوتا ہے ۔۔سیاح جعرافیہ دیکھنے کے شوق کے ساتھ ساتھ اس ملک کی تہذیب لوگوں کی شکل و شباہت رہن سہن وغیرہ دیکھنے کے شوقین ہوتے ہیں ۔۔انسان فطرت پرست ہے ساینس کی اس ترقی کے دور میں لوگ پھر سے نیچر دیکھنے کے لیے بے تاب ہیں ۔پاکستان دنیا کے خوبصورت ملکوں میں سے ایک ہے یہاں کے سیاحتی مقامات اپنا ایک معیار رکھتے ہیں ۔البتہ سیاحوں کی سہولیات کا سوال ہے ۔۔جس علاقے میں سیاح جایں وہاں ان کو امن چین سکون کے ساتھ قیام و طعام اور مناسب رہنمائ کی ضرورت ہوتی ہے یہ ان علاقوں کے باشندوں پر منحصر ہے کہ ان مہمانوں کے ساتھ رویہ اور سلوک ان کا کیسا ہوتا ہے ۔۔ہمارے شمالی علاقہ جات قدرتی لحاظ سے جنت نظیر ہیں البتہ ان علاقوں میں سہولیات کا فقدان ہے ۔۔روڈ کا مسلہ ہے ٹریفک کا مسلہ ہے ۔۔قیام و طعام کا مسلہ ہے ۔ خاص کر چترال میں اس معیار کے موٹلیں اور ہوٹلیں نہیں ہیں جو سیاحوں کو وہ معیاری سہولیات مہیا کریں جو ان کا ڈیمانڈ ہے ۔۔دنیا میں جو ممالک دہشت گردی کا شکار ہوے وہاں پر سیاحت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ان ممالک میں سے پاکستان بھی ہے ان ممالک خاص کر مسلمانوں کے خلاف اتنا پروپگنڈا کیا گیا کہ باقی دینا سب مسلمانوں کو درندہ سمجھنے لگی ۔ہم کئ ایسے غیر ملکیوں کو اپنے ہاں حیران ہوتے ہوے دیکھا کہ ان کو مسلمانوں اور پاکستان کے بارے میں جو بتایا گیا تھا وہ باکل غلط تھا وہ یہاں پر لوگوں کا اپنے ساتھ رویہ کو دیکھ کر حیران ہو رہے تھے کہ یہ مہذب لوگوں کا پر امن ملک ہے ۔۔اب اہستہ اہستہ سیاحت فروع پا رہی ہے ۔۔چترال ہر لحاظ سے سیاحوں کی جنت ہے ۔۔یہاں پر جشن شندور ہوتا ہے جشن قاقلشٹ جشن بروغل اور خاص کر کیلاش قبلے کی منفرد تہذیب نےچترال کو پوری دنیا میں نمایان کردیا ہے ۔۔یہاں جنت نظیر نظارے ہائ کنگ ٹریکنگ سپارٹس بے نظیر ہیں ۔۔فرزند چترال انور امان کو ان سب باتوں کا احساس یوا ہوگا اور آپ کو اپنی جنم بومی ستاتی یو گی کہ اپ یہاں پر ایک لحاظ سے سرمایہ کاری دوسرے لحاظ سے خدمت کرنا چاہتے ہیں ۔۔آپ کی کوشش سے کتنے چترالیوں کو روزگار ملے گا ۔کتنے ہنر مند کام پہ لگینگے ۔۔چاہیے کہ یہ فایف سٹار (پانچ ستاروں والا) ہوٹل بنے گا ۔۔۔یہ سیاحوں کا مسکن ہو یہ چترالیوں کی پہچان بن جاے گا ۔۔ چاہیے کہ اس میں ایک کارنر ہو جس میں چترال کے روایتی کھانے ارڈر پہ مل جایں ۔۔ایک کارنر میں چترال کی روایتی ملبوسات ہوں ایک کارنر میں چترال کی مختصر تاریخ ہو ۔ایک کارنر چترالی زبان و ادب کا ہو ۔۔۔اڈیٹوریم ہو اس میں بڑے بڑے فنکشس منعقد کیے جاویں ۔ادب و ثقافت پہ سیمینار ہو تو ہوٹل نصف چارچ کرے ۔کوئ بڑا مذہبی لیڈر آجاے یہاں پہ اپنے کارکنوں سے خطاب کرے ۔۔کوئ بہت بڑا سکالر آجاے وہ اس اڈیٹوریم میں خطاب کرے ۔یہ تمام سر گرمیاں ہوٹل کے لیےاشتہار ہونگے اس کی شہرت ہوگی ۔۔یہ انور امان بھائ کی پر خلوص کوشش ہے اور یہ کوشش کامیاب ہوگی ۔۔۔مجھے انور امان بھائ پہ پیار آتا ہے اور ڈرتا بھی ہوں کہ کہیں آپ کی کوشش سستی سیاست سستی شہرت اور سستی تعریف کی نذر نہ ہو ۔ میری دعا ہے کہ اس کوشش میں غریبوں کا رزق شامل ہو ۔۔ان شا اللہ ایسا ہوگا ۔۔

Facebook Comments