52

ملک میں فیصلہ سازی اگر پارلیمنٹ کی بجائے کہیں اور کئے جانے لگے تو بحران کا دلدل مزید گہرا ہوتا جائے گا۔۔چترال میں صوبائی امیر جماعت اسلامی نومنتخب امیر ضلع کی تقریب حلف وفاداری کے موقع پر خطاب

چترال (نمائندہ آوازچترال) جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے امیر سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ حقیقی جمہوریت جب تک ملک میں نہ ہو اور سو یلین لیڈر شپ کو بالا دستی حاصل نہ ہو اور پاکستان کے 22کروڑ عوام اپنی قیادت خود چننے کا اختیا ر نہ ملے تو پاکستان درست پٹڑی پر کبھی آسکے گا اور پارلیمانی جمہوریت میں فیصلے شخصیات کے بجائے عوام کے حقیقی منتخب کردہ نمائندے کرتے ہیں اور ووٹ کو عزت نہ ملنے کی وجہ سے اس وقت ملک تہہ در تہہ بحرانوں اور مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ ہفتے کے دن چترال میں نومنتخب امیر ضلع کی تقریب حلف وفاداری کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ملک میں فیصلہ سازی اگر پارلیمنٹ کی بجائے کہیں اور کئے جانے لگے اور بے لاگ احتساب کا عمل شروع نہ کیا جائے اور احتساب کا ڈھنڈورا پیٹ کر صرف حزب اختلاف کو تنگ کرکے اپنا مطیع بنانے کا سلسلہ جاری رہا تو ملک کے مسائل بڑھتے ہی جائیں گے اور بحران کا دلدل مزید گہرا ہوتا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ احتساب سیاستدانوں سے لے کر جنرلوں تک سب کا ہونا چاہئے اور احتساب کے عمل سے کسی کو فرار ہونے کا موقع نہیں دیا جائے اور اس عمل سے نہ کوئی پارلیمنٹ کے پیچھے چھپ کر پناہ لے سکے اور نہ ہی کوئی شہداء اور غازیوں کی اوٹ میں چھپ سکے۔ مشتاق احمد خان نے کہاکہ اس وقت کرپشن ملک کو کینسر کی طرح تباہ کررہی ہے اور کرپشن کی عفریت کی موجودگی میں ملک کے خوشحال ہونے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یہ ریاست کی سطح پر سوچا سمجھا منصوبہ ہے جس میں فرانس کے صدر اکیلا نہیں ہے اور دنیامیں بسنے والے ایک ارب 70کروڑ مسلمانوں کی دل ازاری اور ان کے جذبات کو مجروح کرنا وہ مجرمانہ فعل ہے جس کی اجازت اقوام متحدہ کی چار ٹر میں بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ فرانس کی اس مجرمانہ فعل پر اقوام متحدہ کی خاموشی قابل مذمت ہے جبکہ 60اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی اور مسلمان ممالک کے حکمرانوں کا خاموش رہنا مزید قابل مذمت ہے جن میں سے صرف طیب اردگان نے غیرت کا مظاہرہ کرکے فرانس کے صدر کو ذہنی مریض قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر او آئی سی میں شامل ممالک اپنا کردار کریں اور مسلم امہ متحد ہوکر فرانس کا معاشی بائیکاٹ کرے اور اسے گھٹنے ٹیک دینے پر مجبور کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت دنیا بھر کی طاغوقی قوتیں پولیٹیکل اسلام سے سخت خائف ہیں جوکہ چاہتے ہیں کہ اسلام کا دائرہ عمل زندگی کے محدود شعبوں تک رہے جواس بات سے خائف ہیں اگر اسلامی نظام اپنی اصل شکل میں نافذ ہوا تو دوسرے نظام صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے۔ مشتاق احمد خان نے پشاور مدرسہ میں تخریب کار ی کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے سیکورٹی کی ناکامی قرار دے دی اور کہاکہ خطرے کی الرٹ جاری ہونے کے باوجود اسے نہ روکا جانا سیکورٹی اداروں کی ناکامی ہے۔اس سے قبل چترال سے قومی اسمبلی کے رکن مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہاکہ چترال کے عوام نے انہیں جس بھاری مینڈیٹ سے منتخب کیا تھا، ان کے فرائض میں اسلامی نظام کے لئے پارلیمنٹ میں جدوجہد کرنا، ملک کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے لئے پارلیمنٹ میں حکومت کو تجاویز دینا اور علاقے کے مسائل اور ترقیاتی کاموں کے بارے میں حکومت کے ایوان میں آواز بلند کرنا ان کے فرائض میں شامل تھے اور وہ یہ ساری ذمہ داریاں بطریق احسن نبھارہے ہیں اور پارلیمنٹ کے اندر ان کی کارکردگی سے سب مطمئن ہیں جبکہ تنقید کرنے والوں کا منہ کوئی بند نہیں کرسکتا۔نومنتخب امیر ضلع مولانا اخونزادہ رحمت اللہ نے کہاکہ جب تک ملک میں اسلامی نظام نافذ نہ ہو، ہمارے مسائل اورمشکلات میں کوئی کمی نہیں ہوگی اور جماعت اسلامی کا یہی دستورا لعمل ہے۔ اس موقع پر سابق امیر ضلع مولانا جمشید احمد اور ڈسٹرکٹ کونسل چترال کے سابق چیرمین الحاج خورشید علی خان نے بھی خطاب کیا۔ اس سے قبل سینیٹر مشتا ق احمد خان نے مولانا اخونزادہ رحمت اللہ سے ان کے عہدے کا حلف لے لیا جوکہ ضلعے کے ساتویں ضلعی امیر بن گئے ہیں۔

Facebook Comments