101

شاہد خاقان عباسی کو حکومت بنانے کی آفر پیشکش کرنیوالے کون تھے ؟سابق وزیر اعظم نے اپنا فیصلہ سنا دیا

اسلام آباد ( آوازچترال)ن لیگ کے سینئر رہنما اورسابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں اپنی حکومت قائم کرنے کی پیشکش کی گئی تھی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ نواز شریف اور نہ ہی پی ڈی ایم نے اداروں کے خلاف کوئی بات کی ہے۔اس کی بجائے صرف ان غلطیوں کا حوالہ دیا گیا جو ایسے افراد سے جڑی ہیں جو اہم ترین عہدوں پر بیٹھے ہیں۔شاہد خاقان عباسی نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ ان سے رابطہ کر کے حکومت تشکیل دینے کی پیشکش کی گئی تھی۔شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ انہوں نے پیغام لانے والوں کو کہا کہ میری بجائے جا کر نواز شریف سے بات کریں۔سابق وزیراعظم نے پیغام لانے والوں کے نام بتانے سے گریز کیا لیکن کہا کہ نواز شریف اور ن لیگ ایسے کسی بھی مذاکرات کا حصہ بنیں گے اور نہ ہی ایسی کوئی حکومت تشکیل دیں گے جو ہائبرڈ حکومت بنانے کے لیے ہوں۔انہوں نے کہا کہ حکومت موجودہ طرز سے نہیں چل سکتی اور اس کے لیے آئینی حکومت کے لیے مذاکرات ہونے چاہئیں تاکہ ماضی کی غلطیاں بار بار دہرانے سے بچ سکیں۔انہوں نے کہا کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ ، حکومت اور اپوزیشن ، عدلیہ میڈیا نیب کو مذکراتی عمل کا حصہ بنانا چاہئے اور فورم پر ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کر کے ایسا میکنزم تشکیل دیا جاسکےجس میں یہ غلطیاں نہ ہوں۔نواز شریف کی حالیہ تقاریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ن لیگ کے قائد نے اگرچہ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کا نام لیا لیکن اس کا مقصد ان کی توہین نہیں بلکہ اس بات کی نشاندہی کرنا تھا کہ کیا غلطی ہوئی۔انہوں نے کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو چاہئےکہ عوام کے وسیع تر مفاد میں مل بیٹھیں نہ کہ ذاتی مسائل اور جھگڑوں پر بات کریں۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ معاملات مذاکرات کی میز پر حل ہوتے ہیں اور یہ کام دو سال پہلے ہی ہو جانا چاہئے تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ن لیگ اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیانکوئی رابطہ نہیں اور ایسے رابطے دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد کی بحالی سے دوبارہ شروع نہیں ہوں گے۔آج عمران خان کو لانے والوں کو بھی نواز شریف یاد آتا ہے ،عمران حکومت مکمل طورپر ناکام ہو چکی ہے ،جس حکومت کی بنیاد بے ایمانی پر ہووہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی ،ملک ترقی اس وقت کریگا جب ملک میں آئین کی حکمرانی ہوگی۔

Facebook Comments