93

گولین واٹر سپلائی سکیم کی بحالی میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی ناکامی…ایک سال 3ماہ گذرنے کے باوجود اس کی مرمت نہیں ہوئی

چترال(نمائندہ آوازچترال  )  گولین واٹر سپلائی سکیم کی بحالی میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی ناکامی پر افسوس اور غم کا اظہار کرتے ہوئے کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس اور جی او سی ملاکنڈ سے مطالبہ کیا ہے کہ چترال ٹاون سمیت ملحقہ دیہات کی80ہزار آبادی کو پینے کا پانی دینے والے گولین واٹر سپلائی سکیم کی 16ماہ پہلے بندش اور15مہینے گذرنے کے بعد اس کی بحالی میں متعلقہ محکمے کی ناکامی پر باقاعدہ تفتیش کی جائے۔سول محکمے اور عوامی نمائندے مکمل ناکامی سے دوچار ہوئے ہیں ایک اخباری بیان میں ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی،محمد کوثر ایڈوکیٹ،قاضی فیصل احمد اورحاجی محمد جلیل نے چترال ٹاسک فورس کے حکام کی توجہ گولین آبنوشی سکیم کی طرف دلاتے ہوئے کہا کہ جولائی2019کے سیلاب میں آبنوشی سکیم کو نقصان پہنچا تھا۔ایک سال 3ماہ گذرنے کے باوجود اس کی مرمت نہیں ہوئی۔جون 2020ء میں مرمت کیلئے فنڈریلیزہوئے تھے۔موقع پر کام بھی شروع ہوا تھا دومہینوں کے اندر واٹر سپلائی کو بحالی کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن  ٹھیکدارکام کو ادھورا چھوڑ کر بھاگ گیا۔محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے حکام عوام سے منہ چھپائے پھرتے ہیں۔اطلات کے مطابق واٹر سکیم کی بحالی کے لئے اقوام متحدہ کی ایجنسی یونیسف بھی تعاون کررہی ہے اس کے باوجود سواسال تک سکیم کی بحالی میں ناکامی ایک سوالیہ نشان ہے اس پر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے حکام کے خلاف باقاعدہ انکوائری ہونی چاہیئے سردیوں کا موسم آنے سے پہلے سکیم کو بحال کرکے صارفین کی مشکلات کا ازالہ کیاجانا چاہیئے۔

Facebook Comments