55

چترال میں زلزلے، سیلاب اور برف کے تودوں کا گرنا معمول بن چکا ہے۔ جس کی وجہ سے خطرات تشویشناک صورت اختیار کر چکے ہیں۔..امیرمحمد،.

چترال( نمائندہ آوازچترال)آغاخان ا یجنسی فار ہیبٹاٹ چترال کے  ممبروں کاایک روزہ تربیتی ورکشاپ چترال کے مقامی ہوٹل میں منعقدہوا۔ورکشاپ میں سرکاری اورغیرسرکاری اداروں سے تعلق رکھنے ممبران نے شرکت کی۔ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے ریجنل پروگرم منیجرآغاخان ا یجنسی فار ہیبٹاٹ چترال امیرمحمد،ایمزجنسی مینجمنٹ کے فوکل پرسن محمدولی،جیالوجسٹ صلاح الدین،ضیاء الرحمن،عائشہ اوردیگرنے کہاکہ (آکاہ) چترال جیسے پسماندہ اورقدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں میں بسنے والے کوگوں کی معیار زندگی کو بہتر بنانے اور ماحولیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے وا لے حالات کا مقابلہ بہتر طور پر کرنے کے لیے آگاہی کے ساتھ ساتھ ر مختلف بحالی اورترقیاتی کاموں میں حکومت کے شانہ بشانہ کام کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہونے والی قدرتی آفات آج کے دور کا ایک انتہائی اہم مسئلہ ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں بشمول تعلیمی ادارے اور دیگر سماجی اداروں کو مل کر کام کرنا ہو گا۔گذشتہ کئی سالوں سے چترال میں زلزلے، سیلاب اور برف کے تودوں کا گرنا معمول بن چکا ہے۔ جس کی وجہ سے خطرات تشویشناک صورت اختیار کر چکے ہیں۔ اس لئے ان آفات کے نتیجے میں ممکنہ جانی و مالی نقصانات میں کمی لانے کیلئے آزمودہ تجربات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل کے تحت زلزلے کے دوران وہ افراد جن کو کھلے میدان میں نکل کر خود کو بچانے کی سہولت حاصل نہیں۔ وہ اپنے آفس،گھروں اور کام کے جگہوں میں میز، کرسی کے نیچے یا کسی ایسے کونے میں جسے محفوظ خیال کیا جا سکتا ہو۔ زمین پر دو زانو اوندھے بیٹھ کر سر پرہاتھ رکھتے ہوئے زلزلے کے رْکنے کا انتظار کریں۔ انہوں نے کہا۔ کہ گھروں اور دفاتر میں محفوظ مقام کے بارے میں تمام افراد کو معلوم ہونا چاہیے۔ چترال میں آفات کے نقصانات سے بچاؤ کیلئے آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ آغا خان ایجنسی فار ہیبٹاٹ چترال کے رضا کار مخلوق خدا کی خدمت سے سرشار اور اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر آزمائش کی گھڑی میں انسانیت کی خدمت کا دینی فریضہ انجام دیتے ہیں جوقابل ستائش ہیں۔

Facebook Comments