45

دھڑکنوں کی زبان…..ہم اورہماری چیخ چاخ…..محمد جاوید حیات

ہم نے آزادی حاصل کر لی۔۔دعوی کیا کہ آزاد اسلامی فلاحی جمہوری مملکت ہوگی ۔۔ آزاد سے مراد تھی ہم ہر لحاظ سے آزاد ہونگے ۔فلاحی سے مراد قوم فلاح پاے گی ۔۔جمہوری سے مراد حکومت جمہوری ہوگی عوام کی ہوگی .۔۔لیکن ہمارے یہ خواب ابھی تک پورے نہیں ہوے ۔۔باباے قوم کی زندگی ہی میں بھڑیوں ،مگرمچوں اور بچھووں نے سر اٹھانا شروع کیا کچھ ان میں سے میدان میں بھی اتر آے ۔ان کے پاس ایک ہی ہتھیار تھا کہ جمہوریت کا راگ آلاپ کر قوم کو بےوقوف بنایا جاے ۔۔باباے قوم کی وفات کے بعد قاید ملت کوٹھکانے لگایا گیا ۔۔۔عوام کو پتہ نہ چلا کس نے کیوں ایسا کیا ۔۔چیخ چاخ ہوئ پھر آواز دب گئ ۔۔پھر جمہوریت کے کچھ چمپین آے گے وہ خود آپس میں دست و گریبان تھے ان سے جمہوریت کیا سنبھل پاتی انھوں نے اس کو مارشل لا کی گود میں پھینک دیا ۔۔۔ ملک ترقی کر رہا تھا یا نہیں ملک میں استحکام تھا یا نہیں کم از کم جمہوریت نہیں تھی ۔۔۔ہم نے سن پنسٹھ کی جنگ لڑی ۔۔غلطی ہماری تھی یا دشمن کی تھی بہرحال جنگ بے جگری سے لڑی ۔۔ہم تاشقند میں بحث ہاری وزیر خارجہ کو صدر سے اختلافات پیدا ہوے ۔۔۔واپس آکر وزیر خارجہ نے 1968 ء میں نئ پارٹی کی بنیاد رکھی ۔۔اچھا کیا یا برا کیا ..مارشل لاء پہ مارشل لاء آیا ۔۔چترال میں 1968ء کا سال قحط کا سخت ترین سال رہا ۔۔ہماری چیخ چاخ کا ثمرہ تھا پاکستان دو لخت ہوگیا ۔۔1977ء کے الیکشن ہوے ۔۔9پارٹیوں نے الیکش کا نتیجہ ماننے سے انکار کر دیا چیخ چاخ ہوئ ۔۔ملک میں مارشل لاء لگا ۔۔1988ء الیکشن کے بعد حکومت بنی تین سال پورے نہیں ہوے تھے کہ حکومت کو چلتا کر دیا گیا ۔۔یہ بحران کی شکل اختیار کر گئ ۔۔ایک پارٹی اقتدار پکڑتی ہے تو دوسری اس کا جینا حرام کرتی ہے ۔۔پھر اس کی باری آتی ہے تو پہلی والی کے سارے کام غلط ہیں وہ میدان میں اترتی ہے ۔۔یہ سلسلہ جاری ہے ۔سوچنے والی بات یہ ہے کہ اس ہلاگلا سے ہمیں کیا ملتا ہے ۔۔کچھ حاصل نہیں ہوتا اس لیے کہ چیخ چاخ کرانے والے ہیں ۔۔ان کی نیت درست نہیں وہ منافقت کا لبادہ اوڑھے ہوے ہیں ۔۔ان کو اپنے اقتدار کا غم ہے عوام کے لیے درد نہیں ۔۔اگر درد ہوتا تو برے کو ہمیشہ برا کہتے ۔۔آج یہ لیڈر ایک دوسرے کے دشمن ہیں کل دوست ہونگے ۔۔۔ اگر ان کی دوستی اور دشمنی میں خلوص ہوتا تو ہم اعتراض کیوں کرتے ۔ان کا احتجاج صرف کرسی کا حصول ہے اس سے عوام کو کوئ فایدہ نہیں ہوتا ۔۔نہ علی بابا مرتا ہے نہ چالیس چور کہیں جاتے ہیں البتہ علی بابااپنی جگہ تبدیل کرتا ہے چالیس چوراس کے ساتھ بدلتے ہیں ۔۔ہٹلر نے کہا تھا قوم کو نعروں سے بیوقوف بنایا جا سکتا ہے ۔۔اس کی بات درست ہے ۔۔ہم اگر سوچیں تو ہماری چیخ چاخ نے ہمیں کوئ فایدہ نہیں پہنچایا ۔۔ہم مفت میں رولتے رہے ۔۔اگر روٹی کپڑا مکان کا نعرہ کوئ نتیجہ دکھاتا ۔۔اگر بے گھروں کو گھر دینے کا نعرہ انجام پزیر ہوتا ۔۔اگر قرض اتارو ملک سنوارو میں خلوص ہوتا ۔۔۔اگر ہم واقعی قرض اتار کے ملک سنوارتے ۔تو ہم کہتے کہ ہماری چیخ چاخ کام آئ ۔۔حقیقت یہ ہے کہ پوری دنیا چند دولت مندوں کے ہاتھوں میں ہے۔۔یہ دھن مافیا ہیں ان کے آگے امریکہ تک بے بس ہیں ۔۔۔ان کا کام اپنے کاروبار کو پھیلانا ہے ۔مثلا فحاشی عریانی اس لیے پھیلاتے ہیں کہ ان کے فحاشی عریانی کے سامان سیل ہوتے ہیں اس لیے فحاشی عریانی ان کے نزدیک کاروبار ہے ۔۔اب یورپ سے ہر قسم کے مذاہب کو دیس نکالا دینے کی باتیں ہورہی ہیں اس لیے کہ مذہب ان کے گھنانے کاروبار کے راستے میں روکاوٹ ہے ۔۔گزشتہ بیس سال سے پوری دنیا میں اسلام کے خلاف جنگ کیوں ہے اس لیے کہ وہ ایک پکی مسلمان عورت کے سر سے دوپٹا نہیں چھین سکتے ہیں ۔۔ سود کے خلاف باتیں ہوتی ہیں ۔۔دولت کے چند ہاتھوں منجمد ہونے کے خلاف آواز آٹھ رہی ہیں ۔جب ہم نے اسلام کو چھوڑا ہے تو ہماری چیخ چاخ سے ہمیں نقصان ہی ہوگا ۔۔کوئ فایدہ نہیں ہوگا نہ ہوا ہے ۔۔۔یہ دولت مافیا ہمیں تگنی کا ناچ نچا دینگے ۔۔آخر ہمارے کس حکمران کے پاس اتنی جرات ہے کہ وہ آئ ایم اف کے پاس نہ جاے ورلڈ بنک کا دروازہ نہ کھٹکھٹاے ۔۔ایسا نہیں ہو سکتا ۔۔اگر حکمران میں خلوص ہو تو پوری قوم کو لے کر ایسا کرے ۔۔لیکن ایسا نہیں ہوتا ۔۔ایک اپنی تجوریان بھرتا ہے دوسرا غربت کی چکی میں پستا ہے ۔نعرہ بھی اس سے لگایا جاتا ہے ۔سڑکوں پر بھی اسے لایا جاتا ہے ۔۔۔موجودہ حکومت کے خلاف یہ اتحاد بھی میری سمجھ سے پرے ہے ۔۔آخر یہ لوگ کس بات پہ اتحاد کر رہے ہیں ان کا مقصد کیا ہے ۔۔۔وہ اپنے ماضی میں جھانکتے کیوں نہیں کہ وہ کون لوگ ہیں ۔۔کہ اب اتحاد کرنے پہ تلے ہوے ہیں ۔۔کاش ہم ان کی پکار پہ لبیک نہ کہتے ۔

Facebook Comments