82

اخونزادہ مولانا رحمت اللہ جماعت اسلامی لوٸر چترال….تحریر۔۔۔۔مولانامحمد الیاس جیلانی

اخونزادہ مولانا رحمت اللہ جماعت اسلامی لوٸر چترال کے امیر منتخب ہوگٸے ہیں۔ان کا شمار چترال کے سینٸر ترین سیاستدانوں میں ہوتا ہے۔وہ جماعت اسلامی کے کاز اور مشن کیلٸے گلی کوچوں کا خاک چھان چکے ہیں۔۔انتہاٸی سادہ طرز ذندگی کے قاٸل ہیں اور بے جا تکلفات سے اپنے اپکو دور ہی رکھتے ہیں لیکن سیاسی اور سماجی حوالے سے ہر وقت ان رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔مرنج مرنجان طبیعت کے حامل ہیں۔مصاٸب میں الجھ کر مسکرانا انکی سرشت میں داخل ہے اور ناکامیوں پر اشک برسانے کے وہ قاٸل نہیں اپنے تو اپنے شدید ترین سیاسی مخالفین بھی انکے لٸے نرم گوشہ رکھتے ہیں جب طیش میں اتے ہیں تب بھی أپے سے باہر نہیں ہوتے بس صرف ایک معنی خیز مسکراہث کم قہقہ سے ماحول کو مکدر ہونے نہیں دیتے۔اخون سیاسی حوالے سے نیک نام اور ہر مکتب فکر کے لٸے قابل قبول ہیں اور سیاست کے اکھاڑے میں داخلے کیلٸے مطلوبہ شراٸط پر پورا اترتے ہیں اور سیاسی داٶپیچ کامیابی سے أزمانے کے ماہر بھی ہیں ۔انہی اوصاف کیوجہ سے وہ مولانا شیرعزیز کابینہ میں ناٸب امیر بھی چن لٸے گٸے تھے اور دوسری طرف ایم این اے مولانا چترالی کے معاون خصوصی اور سیاسی مشیر کے طور پر بھی کام کرنے کا بھرپور تجربہ رکھتے ہیں۔یقینا اخونزادہ جماعت کیلٸے نیک شگون ثابت ہونگے کیونکہ وہ صرف سیاسی اور تنظیمی امور کے ہی ماہر نہیں بلکہ ملک کے موقر ادارہ جامعہ حدیقة العلوم پشاور کے مستند عالم بھی ہیں جہاں انہوں نے شیخ القران والحدیث مولانا عبد الرحیم چترالی جیسے نابغہ روزگار شخصیت کے سامنے زانوۓ تلمذ تہ کرچکے ہیں ۔مولانا عبد الرحیم جیسے ثھوس علمی شخصیت بہت کم چشم فلک نظارہ کیا کرتا ہے۔درس نظامی میں شامل مشہور اور دقیق کتاب مختصر المعانی کے بارے میں انکا یہ دعوی تھا کہ اگر یہ کتاب دنیا میں ناپید ہوجاٸے تو میں زیر زبر کا فرق کٸے بغیر دوبارہ سے لکھ سکتا ہوں ۔اخونزادہ اسی گلستان علمی کے خوشہ چین رہ چکے ہیں مولانا چترالی کی اخون سے محبت کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے اخون کو منہ بولے بیٹے کا درجہ بھی دیا تھا۔مولانا چترالی کے علاوہ اخون نے اپنے زمانے کی ایک اور علمی شخصیت مولانا در مختار اف اویر سے بھی علمی موتیاں سمیٹ چکے ہیں اور فقیہ وقت مولانا محمد یوسف بونیری سے فقہ کی کتابیں پڑھنے کا شرف بھی رکھتے ہیں۔واضح رہے کہ مولانا عبد الاکبر اور اخونزادہ ہم سبق رہ چکے ہیں ییہی وجہ ہے کہ انکے درمیان ایک دوسرے کی عزت و احترام کا بھرپور خیال رکھتے ہوے بے تکلفانہ دوستی بھی قابل رشک حد تک ہٕے اور ساتھ ہی اپر چترال کے نو منتخب امیر مولانا جاوید حسین بھی حریقة العلوم ہی کے فاضل ہیں اور شاید یہ بھی جماعت کے مفاد میں ہوگا کہ ضلعی اور پارلیمانی سیاست تینوں ایک پیچ پر أگٸے ہیں۔بحرحال اخونزادہ ایک شرف النفس ملنسار سیاسی اسرار و رموز سے مکمل اشنا اور سماجی حوالے سے مرد میدان ہیں۔رب کاٸنات ہمارے اس بوڑھے سیاستدان کو ہر ان ہر لمحہ اپنے حفظ و امان میں رکھے اور ذندگی کے ہر موڑ پر انہیں سرخروٸی نصیب کرے۔

Facebook Comments