68

یو این ڈی پی کے گلوف پراجیکٹ کے تحت موسمیاتی تبدیلی کے خطرات میں تب کمی لا سکتا ہے ۔ چترال کو متبادل ایندھن کے طور پر سبسڈائزڈ ریٹ پر گیس کی فراہمی کو ممکن بنائے

چترال (  آوازچترال) چترال کے عوامی حلقوں نے گلوف ٹو پراجیکٹ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے ۔ کہ اس پراجیکٹ ٹو کا انعقاد علاقے کیلئے انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔ تاہم یہ پراجیکٹ اس وقت اپنے مقاصد حاصل کر سکتا ہے ۔ جب چترال کی نوے فیصد آبادی جو قدرتی جنگلات کاٹ کر ایندھن کی ضرورت پوری کرتی ہے ۔ کو متبادل ایندھن سبسڈائزڈ قیمت پر فراہم کیا جائے ۔ ماحولیاتی آلودگی کو کنٹرول اور شجر کاری کو پہلی ترجیح قرار دی جائے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال کے گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے عمل کو کم کرنے اور گلیشئر زکے پگھلاو میں کمی لانے کیلئے 6 ارب روپے کا فنڈ چوبیس وادیوں پر خرچ کیا جائے گا ۔ جو کہ ایک اچھی بات ہے۔ لیکن یو این ڈی پی کی زیر نگرانی گولین اور بندوگول گہکیر کے گلوف پائلٹ پراجیکٹ کے تجربات کچھ اچھے نہیں رہے ہیں ۔ اس لئے اس بار ان کمزوریوں پر نگاہ رکھنے کی اشد ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال کے دونوں اضلاع میں روزانہ ہزاروں ٹن لکڑی چولہا جلانے اور تاپنے کیلئے قدرتی جنگلات کے نایاب درخت شاہ بلوط اور دیودار سے حاصل کی جاتی ہے ۔. ا س لئے جب تک ان قدرتی جنگلات کو جو پہاڑوں پر کھڑے ہو کر بادلوں کو بارش برسانے اور ماحولیاتی حدت کم کرنے پر مجبور کرتے ہیں ۔ حفاظت نہیں کی جاتی ۔ گلیشیئرز کےپگھلنے کے عمل کو کم کیا جاسکتا ہے اور نہ سیلاب سے چترال کو بچایا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ وزیر اعظم کے مشیر برائے کلائمیٹ چینج کو چترال شہر میں قدرتی جنگلات سے کٹائی شدہ سوختنی لکڑی کے اسٹاک کا خود مشاہدہ کرنا چاہیئے تھا ۔ جس کے بعد ان پر حقیقت واضح ہو جاتی ۔ کہ چترال کے جنگلات ایند ھن کیلئے کس طرح تباہ ہو رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ مشیر وزیر اعظم نے خود کہا ہے ۔ کہ چترال میں خطرناک گلیشیائی جھیلوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ اس سے یہ بات ثابت ہو رہی ہے ۔ کہ چترال کے قدرتی جنگلات پر شدید دباو ہے ۔ جو چترال کے دونوں اضلاع کی نوے فیصد آبادی کی ایندھن اور عمارتوں کی تعمیرکی ضرورت پوری کرتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے جنگلات دن بدن سنگلاخ چٹانوں میں تبدیل ہو رہےہیں ۔ نتیجتا عالمی اور مقامی ماحولیاتی حدت کا اثر موسمیاتی تبدیلی کا سبب بن کر گلیشیئرز کے پگھلاو کا موجب بن رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ یو این ڈی پی کے گلوف پراجیکٹ کے تحت موسمیاتی تبدیلی کے خطرات میں تب کمی لا سکتا ہے ۔ جب چترال کو متبادل ایندھن کے طور پر سبسڈائزڈ ریٹ پر گیس کی فراہمی کو ممکن بنائے

Facebook Comments