150

ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال میں خواتین کیلئے بنائے گئے انتظار گاہ پر حکومت کی طرف سے قبضہ کرکے اسے بطور پناہ گاہ استعمال کرنے کو شدید تنقید کا نشانہ

چترال ( محکم الدین ) چترال کے عوامی حلقوں خصوصا خواتین مریضوں نے ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال میں خواتین کیلئے ایک غیر سرکاری ادارے کی طرف سے بنائے گئے انتظار گاہ پر حکومت کی طرف سے قبضہ کرکے اسے بطور پناہ گاہ استعمال کرنے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ اور کہا ہے ۔ کہ خواتین کے مسائل حل کرنے اور انہیں عزت دینے کی دعویدار موجودہ حکومت میں خواتین کی بہتری کیلئے کچھ کرنے کی اہلیت نہیں ۔الٹا غیر سرکاری اداروں کی طرف سے فراہم کردہ سہولت پر قبضہ جمایا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال میں خواتین کی مجبوری دیکھ کر چترال کے ایک مقامی معاون تنظیم آئی سی ڈی پی نے خواتین کو باپردہ بیٹھنے کیلئے ایک بہترین انتظار گاہ تعمیر کرکے دیا تھا۔ اس سے خواتین بہت سہولت ملی تھی ۔ لیکن حکومت نے خواتین سے وہ سہولت واپس لے کر انتظار گاہ کو پناہ گاہ قرار دے کر گذشتہ سال سے قبضہ کر رکھاہے ۔ جس کی وجہ سے بیمار خواتین اور اٹنڈنٹ خواتین ہسپتال کے اندر دربدر کی ٹھوکریں کھا رہی ہیں ۔ اور مناسب جگہ نہ ہونے کے باعث پورے ہسپتال میں پھیلے بیٹھنے پر مجبور ہیں ۔ جبکہ اس انتظارگاہ کو بطور سرائے مردوں کیلئے استعمال کیا جارہا ہے ۔ اور دن کو اسے تالہ لگا دیا جاتا ہے ۔ جس کی وجہ سے خواتین چلچلاتی دھوپ ،مسلادھار بارش اور ٹھٹہرتی سردی میں کھلے آسمان تلے بیٹھے انتظار کرنا پڑتا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ حکومت اگر پناہ گاہ کے قیام کو ضروری سمجھتی ہے ۔ تو ہسپتال کے اندر اور چترال شہر کے اندر جگہوں کی کوئی کمی نہیں ۔ شوق سے پناہ گاہیں تعمیر کرے ۔ لیکن خواتین کیلئے بنی اس شیلٹر کو ان کے حوالے کرے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ غیر سرکاری ادارے کی طرف سے خواتین کے حالات پر ترس کھا کر بنائے گئے انتظار گاہ کو پناہ گاہ بناکر قبضہ کرنا کسی صورت درست نہیں ۔ اگر اس انتظار گاہ کوجلد از جلد خواتین کے حوالے نہیں کیاگیا ۔ تو خواتین اس کیلئے احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گی ۔ کیونکہ اب سردیاں شروع ہو چکی ہیں ۔ کھلے آسمان تلے بارشوں اور چلتی آندھی میں خواتین مریض اور ان کے خواتین اٹنڈنٹ کا بیٹھنا ممکن نہیں ہے ۔ یا دن کے وقت تالا کھول کر خواتین کو بیٹھنے کی سہولت سابقہ کی طرح دی جائے ۔ اور رات کو مردوں کیلئے بطور پناہ گاہ استعمال کیا جائے ۔

Facebook Comments