44

دادبیداد….اگلی واردات کا انتظار…..ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی

چارسدہ مں معصوم بچی کا بہیمانہ قتل دہشت گردی کی اندوہناک واردات تھی ایک ہفتے کے اندر مجرم پکڑا گیا اُس نے اقرار کیا جرم میں استعمال ہوانے والا آلہ قتل برآمد ہوا۔6اکتوبرکے دن واردات ہوئی 10اکتوبر کو پولیس نے اپنی تفتیش کے نتائج سے پریس،عوام اور حکومت کو آگاہ کیا15اکتوبر تک مجرم کو پھانسی دینی چاہیئے یا معصوم بچی کے باپ کو بندوق دیکر اُس کے ہاتھ سے مجرم کو گولیوں سے بھون ڈالناچاہیئے مگر ایسا ہونا ممکن نہیں اس کا مقدمہ 6ماہ بعد عدالت میں پیش کیا جائے گا۔7سال مقدمہ ماتحت عدالت میں چلے گا کم از کم 7سال مقدمہ ماتحت عدالت میں چلے گاکم از کم 23پیشیوں کے بعد مقدمے کا فیصلہ ہوگا پھر ہائی کورٹ میں اپیل کا مرحلہ دس سال میں طے ہوگا اس کے بعدسپریم کورٹ میں کم از کم 15سال یہ مقدمہ چلے گا یوں 32یا33سال بعدفیصل آئے گا۔ فیصلہ جو بھی آئے چارسدہ کے لوگ معصوم بچی کے قتل کا واقعہ بھول چکے ہونگے اوراس گھناونے جرم کے بعد کئی ایسے گھناونے جرم پھر سرزد ہوچکے ہونگے۔آج ہمارامعاشرہ وہی ہے جس کی پیش گوئی فلسفی شاعرغنی خان نے1963کی ایک نظم میں کی تھی۔نظم کے ایک شعر کاآزادترجمہ یہ ہے”پوری دنیا تاریک جنگل بنے گی لوگ ایک دوسرے کا گوشت نوچ کر کھائینگے انسان کا گذر جس راستے پرہوگا جنگلی درندے اس راستے سے خدا کی پنا ہ مانگینگے“
(ٹول جہاں یو تورزنگل شی یودے بل پہ غوخوپائی
زناور ترے نہ امان غواڑی چہ انسان پہ کومہ تیرشی)
2020کے 10مہینوں میں نوشہرہ،پشاور،چارسدہ،مانسہرہ،ایبٹ آباد اور دیگر شہروں میں جو وارداتیں ہوئی ہیں ان میں سے ہر واردات درندگی کا بدترین نمونہ ہے ملک کے مختلف حصوں سے بالعموم اور خیبر پختونخواہ کے مختلف شہروں سے باالخصوص ایسی خبریں بھی آئی ہیں کہ کسی مقتول کے وارث نے عدالت کے احاطے میں مجرم کی ضمانت ہونے کے بعد فائرنگ کرکے اس کو موت کے گھاٹ اُتار دیا یسا واقعہ بھی ہوا ہے کہ توہین رسالت کے مجرم کی ضمانت ہوئی اور کسی مسلمان نے عدالت کے احاطے میں اس کو قتل کردیا ایسے واقعات بھی ہوئے ہیں کہ مجرم ضمانت ہونے کے بعد گھر پہنچنے سے پہلے مقتول کے ورثا نے اس کی جان لے لی ان واقعات میں خوف اور دہشت کا پہلو بھی ہے عدالت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عدم اعتماد کا پہلو بھی ہے۔دونوں پہلو موجود ہیں۔6سال پہلے کا واقعہ تھا آرمی پبلک سکول پر دہشت گرد حملے کے بعد فوجی عدالتوں کے قیام کا اعلان ہوا۔فوجی عدالتوں نے مجرموں کو سزائے موت دینا شروع کیا۔اگلے 4
مہینوں میں جن مجرموں کو سزائیں دی گئیں ان میں سے بعض کے جرم کی تاریخیں 20سال پرانی تھیں۔سول عدالتوں نے سزا ئے موت سنائی تھی مگر اس سزا پر عملدرآمد کرنے والا کوئی نہیں تھا فوجی عدلتوں کے سامنے ایک سال اور دوسال پرانے مقدمات بھی آگئے ان کے فیصلے بھی ہوئے مجرموں کو تختہ دار پر لٹکایا گیا ملک میں امن قائم ہوا تھا جرائم میں کمی آئی تھی حکومت کو جمہوریت یاد آگئی انسانی حقوق کی تنظیموں نے شور مچایا اور فوجی عدالتوں کے قانون کو ختم کردیا گیا جمہوریت اور انسانی حقوق کے علم برداروں کو مقتول مرد،مقتولہ عورت یا بے دردی سے قتل ہونے والے معصوم بچوں اور بچیوں پر کھبی ترس نہیں آیا ان کو ترس آتا ہے تو مجرم کو سزا ملنے پر بہت ترس آتا ہے مجرم کے بوڑھے ماں باپ پر رحم آتا ہے مجرم کے معصوم بچوں پر بھی رحم آتا ہے۔اس درندہ صفت آدمی نے جس کو قتل کیا وہ بھی انسان ہی تھا اگر معصوم بچی تھی یا معصوم بچہ تھا نئی نویلی دلہن تھی یا دوبچوں کی ماں تھی اس کے بہیمانہ قتل پر نہ جمہور کو ترس آتا ہے نہ انسانی حقوق کے علمبرداروں کو ترس آتا ہے امریکی سفارت خانہ پاکستان میں قصاص اور سزائے موت کے قانون پر اعتراض کرتا ہے امریکی سفارت خانے کو امریکی ریاست ٹیکساس میں سزائے موت کا قانون نظر نہیں آتا۔سب سے زیادہ قابل غور بات یہ ہے کہ ہماری حکومت ایک بڑی واردات کے بعد مجرموں کو سزا دینے کے لئے اگلی بڑی واردات کا انتظار کیوں کرتی ہے؟کیا آرمی پبلک سکول جیسا دوسرا اندوہناک واقعہ ہونے تک ہم مجرموں کو بدستور تحفظ دیتے رہینگے؟کیا فوجی عدالتوں کو فوری سماعت کا اختیار دینے کے لئے ڈیڑھ سو معصوم جانوں کا ضیاع ضروری ہے؟یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ہماری عدالتیں اور وکلاء کی تنظیمیں سول عدالتوں کے ذریعے فوجی عدالتوں کے طرز پر فوری انصاف مہیا کرنے کا کوئی آسان طریقہ کیوں منظر عام پر نہیں لاتے؟ہم کب تک مثالی عدالتوں کے لئے ملٹری کورٹس کی طرف دیکھتے رہینگے؟اب وقت آگیا ہے کہ بینج اور بار مل کر اس پر غور کریں اور ایسا قانونی طریقہ کار سامنے لائیں کہ چارسدہ کی معصوم بچی کے قتل جیسے گھناونے جرائم میں ملوث مجرم ایک ہفتے کے اندر سولی پر لٹکاے جائیں اگر ہفتے میں ممکن نہ ہو تو زیادہ سے زیادہ ایک مہینے کے اندر عوام ایسے مجرموں کو سزائے موت دیتے ہوئے دیکھ لیں معاشرے کو درندگی سے پاک کرنے کا واحد راستہ یہی ہے۔

Facebook Comments