85

چکدرہ چترال سی پیک روٹ ایکشن فورم دیر بالا..سی پیک چکدرہ چترال روٹ کی تعمیر کیلئے ہمیں ایسا ہی کچھ کرنے کیلئے اتحاد و اتفاق کی اشد ضرورت ہے

چترال (محکم الدین) چکدرہ چترال سی پیک روٹ ایکشن فورم دیر بالا نے کہا ہے۔ کہ پاکستان میں شرافت سے کسی مسئلے کا حل نکالنے کا تجربہ ہمیشہ سے ناکام رہا ہے۔ اس لئے لوگوں کو اپنے حقوق بزور طاقت چھیننے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ آج سی پیک چکدرہ چترال روٹ کی تعمیر کیلئے ہمیں ایسا ہی کچھ کرنے کیلئے اتحاد و اتفاق کی اشد ضرورت ہے۔ ورنہ ہماری پسماندگی اسی طرح ہی رہے گی۔ چترال پریس کلب میں ہفتے کے روز ایکشن فورم دیر کے صدر محمد عبداللہ، انورزیب خان سنئیر نائب صدر، محمد کفایت خان نائب صدر، مجیب الرحمن جنرل سیکرٹری، ممبران دوست محمد خان،بادشاہ الدین، سید حسن شاہ پر مشتمل وفد نے چترال کے عمائدین اور سیاسی قائدین سے ملاقات کرنے کے سلسلے میں چترال پہنچنے کے بعد پریس کلب چترال میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ کہ چکدرہ چترال سی پیک روٹ کی تعمیر چھ اضلاع کے لوگوں کا مشترکہ ایجنڈا ہے۔ جس پر تمام تنظیمات اور عوام متفق ہیں۔ اور ہر صورت اس کی تعمیر کرنے کیلئے قربانی کیلئے تیارہیں۔ انہوں نے کہا۔ کہ سی پیک روٹ دیر چترال سے گزارنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اور اس سے ہم چائنا اور وسطی ایشیا سے کاروباری اور بجلی و گیس کے فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔ اس لئے اس روٹ کی تعمیر اس ریجن کے تمام اضلاع کیلئے موت وحیات کا مسئلہ ہے۔ اس لئے اس روڈ کی تعمیر سے کم کسی بھی فیصلے کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ اس میں کسی بھی قسم کی کوتاہی کی صورت ہماری آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ انہوں نے کہا۔ کہ ملا کنڈ ڈویژن میں نئے اضلاع کے قیام کے بعد ڈویژنل ہیڈ کوارٹر کا قیام بھی غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔ اس لئے ہم یہ سمجھتے ہیں۔ کہ تمام اضلاع کے بہتر مفاد میں ڈویژنل ہیڈ کورٹر دروش یا اپر دیر میں قائم کیاجائے۔ تاکہ تمام اضلاع کیلئے فاصلہ برابر رہے۔ انہوں نے کہا۔ کہ ہم ملاکنڈ ڈویژن کی صورت میں پہلے ہی مصائب جھیلے ہیں۔ اب دوبارہ اگر اس کو ان دومقامات کی بجائے جگہ کیا گیا۔ تو یہ علاقے بدستور مشکلات کا شکار ہوں گے۔ انہوں نے کہا۔ کہ سی پیک روٹ کی تعمیر سے لوئر دیر بائی پاس ہو رہا ہے ایسے میں اگر ڈویژنل ہیڈ کوارٹر وہاں قائم کیا گیا۔ تو یہ بھی کان الٹاپکڑنے کے مترادف ہو گا۔ اس لئے دروش چترال یا اپر دیر کو ہی ڈویژنل ہیڈ کوارٹر بنایا جائے۔ انہوں نے کہا۔ کہ اس حوالے سے ایک پروپوزل پہلے ہی صوبائی حکومت کو بھیج دی گئی ہے۔ یہ کوئی نیا کیس نہیں ہو گا۔ ایکشن فورم کے عہدہ داروں نے کہا۔ کہ چترال اور اپر دیر کے مسائل مشترک ہیں۔ اور دونوں لواری کے دونوں طرف رہتے ہیں۔ اس لئے دونوں کو اپنے مسائل کے حل کیلئے مشترکہ جدو جہد کرنے کی ضرورت ہے۔ ایکشن فورم نے کہا۔ کہ ہمارا کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں ہے۔ ہم صرف اور صرف دیر اور چترال کے عوام کے مشترکہ مسائل لے کر اٹھے ہیں۔ اور اس میں چترال کے سیاسی قائدین، سول سوسائٹی اور عوام سے تعاون چاہتے ہیں۔ تاکہ ہم اپنے مقاصد میں کامیاب ہو سکیں۔ اس موقع پر صدر پریس کلب ظہیرالدین، صدر عوامی نیشنل پارٹی عیدالحسین ایکس صدر ڈسٹرکٹ بار عالمزیب ایڈوکیٹ اور سی سی ڈی این کے نمایندہ رحمت غفور بیگ نے ان کا شکریہ ادا کیا۔ کہ دونوں اہم مسائل کے حوالے سے انہوں نے قدم اٹھایاہے۔ جن کا چترال سے گہرا تعلق ہے۔ صدر پریس کلب نے ایک وفد لوئر دیر بھیجنے اور چترال دیر مشترکہ ایکشن فورم کے قیام کا مشورہ دیا۔ جسے قبول کیا گیا۔ انہوں نے وفد کو ہرقسم کے سپورٹ کی یقین دھانی کی۔

Facebook Comments