98

ذرائع آمد و رفت کے سلسلے میں چترال باقی دنیا سے سینکڑوں سال پیچھے ہے۔۔چترال کے روڈون پر توجہ نہ دینے کی صورت میں ایک مہینے کے اندر دوبارہ اجلاس بلایا جائے گا۔چترال ڈولپمنٹ فورم

چترال (نمائندہ آوازچترال)اتوار کے روز چترال ڈولپمنٹ فورم کے نام سے نو تشکیل شدہ غیر سیاسی تنظیم کے اجلاس میں حکومت سے پرزور مطالبہ کیا گیا کہ چترال لوئر اور چترال اپر میں سڑکوں اور پلوں کی خراب صورت حال کا فوری نوٹس لے کر ان کی تکمیل اور مرمت کے لئے مطلوبہ فنڈز ہنگامی بنیادوں پر فراہم کئے جائیں جبکہ اس وقت چترال کی سڑکیں انتہائی مخدوش اور ناگفتہ بہہ حالت میں ہونے کی وجہ سے عوام شدیدمسائل سے دوچار ہیں۔ پروفیسر (ریٹائرڈ) ممتاز حسین کے زیر صدارت اجلاس میں وزیر اعظم کے ٹاسک فورس برائے ٹورزم کے ممبر شہزادہ سراج الملک نے خصوصی طور پر شرکت کی جبکہ تحریک کے کنوینر وقاص احمد ایڈوکیٹ کے علاوہ مختلف سیاسی اور سول سوسائٹی تنظیموں بشمول تجار یونین اور ڈرائیورز یونین کے نمائندوں شبیر احمد خان اور صابر احمد، پروفیسر سید توفیق جان، نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ، سابق ایم پی اے مولانا عبدالرحمن،الحاج خورشید علی خان، شاہ مراد بیگ، عبدالولی ایڈوکیٹ، آفتاب اینڈ طاہر، ذاکر محمد زخمی، شریف حسین اور دوسروں نے خطاب کیا۔ اس موقع پر ایک متففقہ قرارداد میں کہا گیاکہ چترال

پاکستان کا سب سے پسماندہ علاقہ ہے، جہاں زندگی کے تمام شعبوں اور خصوصاً ذرائع آمد و رفت کے سلسلے میں یہ علاقہ باقی دنیا سے سینکڑوں سال پیچھے ہے۔ اس لیے اجلاس صوبائی اور وفاقی حکومتوں سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ چترال کے دونوں اضلاع کے اندر سڑکوں اور پلوں کی تعمیر اور بحالی پر فوری توجہ دی جائے۔ اجلاس خصوصی طور پر کالی کٹک چترال روڈ کی توسیع اور بہتری، چترال بونی روڈ کی توسیع اور بہتری، بونی سے شندور تک معیاری پکی سڑک کی تعمیر،مستوج بروغیل پکی سڑک کی تعمیر، اویر تریچ روڈ کی تعمیر، چترال گبور معیاری روڈ کی تعمیر، آیون بمبوریت معیاری روڈ کی تعمیر، دروش شیشی کوہ روڈ، موڑکھو کے لئے لون گوہ کیر روڈ اور میرکھنی ارندو روڈ کی جلد ازجلد تعمیر کا مطالبہ کرتا ہے۔ ان کے علاوہ دیہات کے لیے لنک روڈز کی تعمیر اور پختگی کے لیے فنڈز مختص کیے جائیں۔ اجلاس دونوں اضلاع کے اندر جاری منصوبوں پر کام کے تعطل اور سست رفتاری پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لواری اپروچ روڈ دونوں سائڈ، لواری ٹنل اندرونی کام، بلچ روڈ، بونی بوزند (تورکھو) روڈ، آیون پل، اوسیاک پل، کوشٹ پل، مژگول پل کے منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کرنے اور انہیں جلد از جلد مکمل کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ اجلاس یہ مطالبہ بھی کرتا ہے کہ استارو کے مقام پر عارضی پل تعمیر کرکے تورکھو تحصیل کا رابطہ بحال کیا جائے۔ اسی طرح تریچ کا منقطع رابطہ بھی بحال کیا جائے۔ اجلاس چترال کے اندر تعمیراتی منصوبوں میں کام کے خراب معیار پر شدید تحفظات کا اظہار کرتا ہے۔ اجلاس حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ پہلے سے کیے گئے کاموں کی انکوائریاں کرواکر ذمے داروں کو سزا دے اور آئیندہ کے لیے کاموں کے معیار کو یقینی بنائے۔ اجلاس حکومت سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ گزشتہ سالوں کے دوراں چترال میں سڑکوں کی تعمیر کے منصوبوں پر پیش رفت اور ان کے لیے مختص کیے جانے والے فنڈز کی تفصیلات عوام کو فراہم کرے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا جاتا ہے کہ ان مطالبات کو حکومت تک پہنچانے اور انہیں منظور کروانے کے لیے تمام آئینی اور قانونی طریقے اختیار کیے جائیں گے۔ اجلاس حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ مذکورہ معاملات پر پیش رفت کو جلد از جلد یقینی بنائے۔ ایک مہینے کے اندر اس سلسلے میں کوئی مثبت پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں اس فورم کا اجلاس دوبارہ بلا کر آئیندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ اجلاس اس عزم کا اظہار کرتا ہے کہ چترال کے لوگ اپنی شاندار رویات کو برقرار رکھتے ہوئے نہ صرف اپنے علاقے بلکہ پورے ملک میں امن، خوشحالی اور ترقی کے لیے مل جل کر کام کریں گے۔ اجلاس تمام سیاسی جماعتوں، سول سوسائیٹی کے اداروں اور مذہبی علماء کا تعاو?ن کے لیے شکریہ ادا کرتا ہے اور امید رکھتا ہے کہ وہ اپنا تعاو?ن جاری رکھیں گے۔

Facebook Comments