51

کاتی کلچر آرگنائزیشن کے زیر اہتمام بمبوریت کے مقام شیخاندہ میں ٹریڈیشنل گیم ٹورنامنٹ گذشتہ روز اختتام پذیر

چترال (آوازچترال  ) چترال خصوصا ًکالاش ویلیز میں سیاحت کو فروغ دینے کے سلسلے میں وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی وزیر زادہ کی ذاتی دلچسپی سے اے وی ڈی پی کے پروپوزل پر محکمہ سیاحت خیبر پختوخوا کے مالی تعاون سے کاتی کلچر آرگنائزیشن کے زیر اہتمام بمبوریت کے مقام شیخاندہ میں ٹریڈیشنل گیم ٹورنامنٹ گذشتہ روز اختتام پذیر ہوا۔ اختتامی کھیلوں کے مہمان خصوصی ڈپٹی کمشنر لوئر چترال نوید احمد تھے۔ جبکہ اس موقع پر چترال سکاوٹس کے کیپٹن، ڈی ایس پی ایون سرکل احسان اللہ،چیرمین اے وی ڈی پی رحمت الہی، ایس ایچ او تھانہ بمبوریت شمشیر الہی، پی ٹی آئی رہنما محمد علی جناح لال منیجر اے وی ڈی پی جاوید احمد سمیت غیر ملکی اور ملکی سیاحوں اور کھیلوں کے شائقین کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس ٹورنامنٹ میں فٹبال، والی بال کے علاوہ ٹریڈیشنل گیمز بزکشی، کشتی، تیر اندازی، ویٹ لفٹنگ، پہاڑی دوڑ، لوکل کباڈی کسے، پانی کا کھیل ”چھتو اولیک” کے مقابلے ہوئے۔جن میں درجنوں ٹیموں نے حصہ لیا۔ ان تمام کھیلوں میں سیاحوں اور مقامی لوگوں نے انتہائی دلچسپی کا اظہار کیا۔ ٹورنامنٹ میں فٹبال مین کھیل کے طور پر شامل تھا۔ جس میں ضلع بھر سے ٹیموں نے شرکت کی۔ جس کا فائنل میچ شیخاندہ بمبوریت اور ایون کے مابین کھیلا گیا۔ جس میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد آخری لمحوں میں ایون کی ٹیم نے ایک گول کرکے ٹرافی اپنے نام کر لی۔ اسی طرح بز کشی میں شیخاندہ ٹیم کو کامیابی ملی۔ کشتی میں ایرانی سیاح اور پشاور کے سیاح نے بھی حصہ لیا۔ جبکہ ویٹ لفٹنگ، پہاڑی دوڑ اور چھتو اولیک کے میچوں میں شیخاندہ کے جوانوں نے سب کو مات دے دی۔ میچ کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر چترال نوید احمد اور چیرمین اے وی ڈی پی رحمت الہی نے ونر اور رنر اپ ٹیموں میں ٹرافی اور کیش انعامات تقسیم کئے۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر چترال نوید احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ کہ کالاش ویلی بمبوریت کے حسین نظاروں کے ماحول میں اس قسم کے ٹریڈیشنل گیمز کا ٹورنامنٹ منعقد کرنا سیاحت کو ترقی دینے کیلئے اہم قدم ہے۔ جس کیلئے محکمہ ٹورزم، معاون خصوصی وزیر اعلی وزیر زادہ،لوکل سپورٹ آرگنائزیشن اے وی ڈی پی اور کاتی کلچر آرگنائزیشن داد و تحسین کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کالاش وادیوں میں کلچر کا ایک وسیع خزانہ موجود ہے۔ جس میں اس کی آرکیٹیکچر کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس فن تعمیر کو متاثر نہ ہو نے دیا جائے۔ اور وادی میں جدید تعمیرات کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ جو قدیم کلچر کومتاثر کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا جب مقامی قدیم فن تعمیر متاثر ہوگی تو سیاحتی طور پران وادیوں کو زبردست نقصان اٹھا نا پڑے گا۔ انہوں نے مقامی کمیونٹیز کی باہمی اخوت، بھائی چارہ اور امن کو علاقے کیلئے عظیم سرمایا قرار دیا۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی طرف سے ایون کالاش ویلیز روڈ کی تعمیر کیلئے سروے کا سلسلہ جاری ہے۔اسی طرح کالاش ویلیز ڈویلپمنٹ کے زیر نگرانی ویلز روڈز سمیت دیگر مسائل حل کئے جائیں گے۔ ہم نے کالاش کے چار فیسٹولز کو کیلنڈر ایونٹ میں شامل کر دیا ہے۔ اسی طرح ونٹر سپورٹس فیسٹول میں سنوگالف کو اور شیخان سپورٹس فیسٹول کو بھی کیلنڈر ایونٹ میں شامل کریں گے۔ تاکہ ہر سال ٹورزم ڈیپارٹمنٹ کے فنڈز اور سرپرستی میں انجام پائیں۔ انہوں نے شیخاندہ سپورٹس گراونڈ کی لیولنگ اور واش رومز تعمیر کروانے کی یقین دھانی کی۔ قبل ازین کاتی کلچر کے آرگنائزر عبدالمجید قریشی نے اپنے خطاب میں ٹورنامنٹ کے انعقاد کو ممکن بنانے پر معاون خصوصی وزیر اعلی خیبر پختونخوا وزیر زادہ، ٹورزم ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوا اور اے وی ڈی پی کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ادارہ ایکٹیڈ اور ونگ کمانڈر (ر) فرداد علی شاہ کی طرف سے سپورٹ کرنے پر ان کی تعریف کی۔ عبدالمجید نے کہا کہ اس ایونٹ کے پیچھے فلاسفی یہ ہے۔ جس میں علاقے میں امن اور بھائی چارے کو فروغ ملے۔ نوجوانوں کو صحت مند تفریح مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ متروک ٹریڈیشنل کھیلوں کو پھر سے زندہ کیا جائے۔ تاکہ ان کھیلوں سے سیاحت کو ترقی دی جاسکے۔ اور نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ طالبانائزیشن نے علاقے پر منفی اثرات چھوڑے ہیں۔اور سیاحت کو شدید نقصان پہنچا یا ہے۔ تاہم پاک آرمی نے نہ صرف اپنی زمین کی حفاظت کی بلکہ دہشت گردوں کو نشان عبرت بنادیا۔ وہ اثرات علاقے پر اب بھی موجود ہیں۔ جنہیں زائل کرنے کیلئے اس قسم کے فیسٹولز نوجوانوں کیلئے منعقد کرنے ضروری ہیں۔ تقریب سے ممتاز خاتون سوشل ورکر شاہی گل نے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا۔ کہ کالاش ویلیز کے نوجوانوں میں کھیلوں کیلئے جذبہ اور ٹیلنٹ موجود ہے۔ لیکن ان کو سپورٹس گراونڈ دستیاب نہیں۔ اس لئے ان کو گراونڈ فراہم کیا جائے۔

Facebook Comments