115

چترال کے مشترکہ مسئلے کو ایک برادری کا مسئلہ بنانے اور برادری کے ذریعے اسے حل کرنے کی کوشش قابل مذمت ہے۔….جماعت اسلامی چترال لوئر..

چترال( آوازچترال )لینڈ سیٹلمنٹ کے حوالے سے پیدا شدہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے جماعت اسلامی چترال لوئر کا خصوصی اجلاس امیر جماعت اسلامی چترال مولانا جمشید احمد کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جس میں معاملے کا جائزہ لینے اور اس کے تمام پہلووں پر غور کرنے کے بعد درج ذیل نکات پر مشتمل موقف پیش کرنے اور ان کے لیے آواز اٹھانے کا فیصلہ ہو۔
1۔ اہل چترال کے مشترکہ مسئلے کو ایک برادری کا مسئلہ بنانے اور برادری کے ذریعے اسے حل کرنے کی کوشش قابل مذمت ہے۔ اس معاملے میں وہی کام مؤثر اور قابل قبول ہوگا جو جملہ چترالیوں کی نمائندگی پر مشتمل اور ان کے مفاد کا ضامن ہو۔ برادری کی بناد پر لوگوں کو تقسیم کرنے سے مسائل حل نہیں بلکہ مزید گھمبیر ہوں گے۔ لہٰذا اس قسم کی حرکتوں سے باز رہتے ہوئے مشترکہ طور پر مسئلے کے حل پر توجہ دی جائے۔
2۔ سیٹلمنٹ کے معاملے کو سلجھانے اور سب کے لیے قابل قبول حل پیدا کرنے کے لیے لازم ہے کہ 1975 کے نوٹیفکیشن پر من و عن عمل درآمد کو یقینی بناتے ہوئے اس کی روشنی میں مسئلے کو حل کی طرف لے جایا جائے۔ اس کے علاوہ اس گھمبیر مسئلے کا جو بھی حل نکالنے کی کوشش کی جائے گی وہ لازمی انتشار اور تنازعہ کا سبب بن جائے گی۔
3۔سیٹلمنٹ کے معاملات شفاف طریقے سے انجام تک پہنچانے کے لیے کم از کم ایک سال کی مزید مہلت درکار ہے۔ لہٰذا جملہ معاملات کے حل کے لیے ایک سال توسیع دی جائے۔ اب تک فیصل ہونے والے معاملات قانون اور عوامی مفاد کے برعکس طے پائے ہیں۔ لہٰذا ایک سال کی توسیع کے ذریعے تمام سقم دور کرلیے جائے۔
4۔ توسیع کے دوران تمام معاملات کا جائزہ لینے، اس کا قانونی اورپائیدار حل ڈھونڈنے کے لیے لازم ہے کہ متعلقہ محکمہ کے صوبائی افسران اورذمہ داران چترال کا دورہ کریں۔اورہرچیز کاجائزہ لیتے ہوئے اس کاحل نکالنے کی کوشش کریں۔. یہ اس مسئلے سے متعلق ہمارے مطالبات اور اس کے حل کی تجاویز ہیں۔اگر قانونی اور اہل چترال کو قابل قبول طریقہ کے بجائے کچھ افراد کے منشی پر حل کرنے کی کوشش کی گئی تو ہم اس کے خلاف تحریک چلانے پر مجبور ہوں گے.

Facebook Comments