45

دادبیداد……پا نچواں صو بہ…….ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی

پا نچوا ں صو بہ تشکیل دینے کی خبریں گر دش کر رہی ہیں اور ان خبروں کے ساتھ مزید خبریں بھی آرہی ہیں اصل خبر یہ ہے کہ سنجیدہ حلقوں نے گلگت بلتستان کو ملک کا پانچواں صو بہ بنا نے کا فیصلہ کر لیا ہے اس کا اعلا ن منا سب وقت پر کیا جا ئے گا اس خبر کے ساتھ جو دوسری خبر آرہی ہے وہ یہ ہے کہ وفاقی حکومت کی اتحا دی جما عت ایم کیو ایم نے کرا چی اور حیدر آباد پر مشتمل نیا صو بہ بنا نے کا مطا لبہ بھی سنجیدہ حلقوں کے سامنے رکھا ہے اگر ایسا ہوا تو جنو بی پنجا ب اور آزاد کشمیر کے نئے صو بے بھی جلد یا بدیر سامنے آ جائینگے اور وطن عزیز پا کستان کے اکا ئیوں کا نیا نقشہ تشکیل پا ئے گا سنجیدہ بات یہ ہے کہ گلگت بلتستان میں 15نو مبر کو نئی اسمبلی کے انتخا بات ہو نگے حلف برداری اور حکومت سازی کے بعد اسمبلی سے صو بہ گلگت بلتستان کے قیام کی قرار داد منظور کرائی جائیگی قرار داد کی روشنی میں گلگت بلتستان دسمبر 2020میں پا نچواں صو بہ بن جائے گا قومی اسمبلی میں گلگت بلتستان کو نما ئندگی مل جائیگی سپریم کورٹ میں بھی گلگت بلتستان کو رسائی ملے گی اور علا قے کے عوام کا دیرینہ مطا لبہ پورا ہو جائے گا جس طرح ہمارے ہاں پرانا دستور اور رواج ہے اس خبر کے ساتھ بھانت بھانت کی بو لیاں سننے اور پڑھنے میں آرہی ہیں جتنے منہ اتنی با تیں دہرائی جارہی ہیں تین حلقے بہت نما یاں ہو کر سامنے آئے ہیں قاضی نثار احمد کی سر براہی میں ایک موثر حلقہ مطا لبہ کر رہا ہے کہ الگ صو بہ بنا تے وقت کو ہستان کے دو اضلاع کو خیبر پختونخوا سے کا ٹ کر گلگت بلتستان میں شامل کیا جائے یہ حلقہ گلگت،چلا س، دیا مر اور تانگیر میں بہت اثر رسوخ رکھتا ہے دوسرا حلقہ نواز خان نا جی کی قیا دت میں یہ مطا لبہ کر رہا ہے کہ نیا صو بہ بنا تے وقت چترال کے دو اضلاع کو خیبر پختونخوا سے کا ٹ کر گلگت بلتستان میں ضم کیا جائے اس حلقے کا اثر رسوخ پو نیال،گوپِس، غذر، یا سین اور اشکو من کے علا قوں میں ہے تیسرا حلقہ آزاد کشمیر کے سیا سی اور سما جی کا رکنوں پر مشتمل ہے آزاد کشمیر یعنی مظفر اباد، میرپور، باغ وغیرہ میں یہ مطا لبہ ہو رہا ہے کہ گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کو اس نا زک مر حلے پر نہ چھیڑا جائے کیونکہ مو جو دہ حا لا ت میں اس مسئلے کو چھیڑ نے کا مطلب یہ ہو گا کہ پا کستان کی حکومت بھی بھارتی سر کار کی طرف سے 5اگست 2019کے اقدام کی طرح قدم اٹھا کر گو یا بھارتی فیصلے کی تو ثیق کر رہی ہے ”اُدھر تم ادھر ہم“ کی تائید کر کے کشمیر کے حوالے سے قوم کے 73سال پرانے مو قف سے رو گردانی کر رہی ہے یہ کام کشمیر میں استصواب رائے کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے منا فی ہو گا اور عالمی برادری کو یہ تاثر ملے گا کہ پاکستان نے کشمیر کے مسئلے پر اپنے پرانے مو قف سے یو ٹرن لے لیا ہے جو ایک آزاد اور خودمختار ملک کے شا یاں شان نہیں ہوگا تین حلقوں کے واضح مطا لبات کو سامنے رکھ کر ملک کے پا نچویں صو بے کی تشکیل پر غور کیا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ یہ آسا ن فیصلہ نہیں بلکہ اس فیصلے کے دور رس مضمرات ہو نگے سب سے اہم بات یہ ہے کہ سنجیدہ حلقے اگر نیا صو بہ بنا نے میں حد سے زیا دہ سنجیدہ ہیں تو انہیں مسئلے کے مر کزی فریق یعنی گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام کی رائے معلوم کرنے کا کوئی مسلّمہ طریقہ ریفرنڈم یا استصواب کا راستہ اختیار کرنا پڑے گا مسئلے کے اصل فریق کی رائے معلوم کئے بغیر اتنا بڑا فیصلہ دیر پا ثا بت نہیں ہوگا سنجیدہ حلقوں کی دلیل یہ ہے کہ گلگت بلتستان کی نئی اسمبلی علا قے کے عوام کی تر جما نی کا حق ادا کرے گی اس دلیل کو رد کرنے والے قانونی ما ہرین کہتے ہیں کہ عام انتخا بات میں ایک سیٹ کے لئے 3سے زیا دہ اُمید وار کھڑے ہو تے ہیں کامیاب ہونے والے اُمیدوار علاقے کے ایک تہا ئی ووٹر وں کی نما ئندگی کر تے ہیں جبکہ دو تہا ئی آبا دی اسمبلی میں نما ئندگی سے محروم ہو تی ہے کوئی بھی اہم فیصلہ ایک تہا ئی کے نمائندوں کی رائے سے نہیں ہو سکتا اگر قرار داد متفقہ طور پر منظور نہیں ہوئی تو ایک تہا ئی کے نصف لو گ فیصلے میں شریک نہیں ہو نگے اس طرح کی قرار داد کو علا قے کے عوام کی رائے قرار دینا قرین انصاف نہیں ہو گا چنا نچہ گلگت بلتستان کو ایک صو بہ بنا کر آئینی حقوق دینے کا معا ملہ اتنا سادہ معا ملہ نہیں ہے جتنا اس کو خیال کیا جا تا ہے ”آئینی حقوق“ سے مراد عمو ماً چار حقوق ہیں سپریم کورٹ آف پا کستان تک رسائی، وزیر اعلیٰ کو مکمل اختیارات کی سپردگی،وزیر امور کشمیر کی بے جا مداخلت سے گلو خلا صی، وزیر امور کشمیر کی وزارت کے سرخ فیتے سے نجا ت یہ چار کام پانچواں صو بہ بنا ئے بغیر بھی ہو سکتے ہیں قا نونی راستوں کی کوئی کمی نہیں اور قانونی ما ہرین کے پاس ہر کام کے ایک سے زیا دہ حل مو جود ہیں بہتر طریقہ یہ ہے کہ آزاد کشمیر کی رائے عامہ کا احترام کرتے ہوئے پا نچویں صو بے کے منصوبے کو التواء میں رکھا جائے تا کہ نیا پینڈورا با کس نہ کھل سکے۔

Facebook Comments