180

ملاکنڈ ڈویژن میں ایک انچ زمین بھی پہاڑ، چراگاہ یا ریوربیڈ کے نام پر حکومت کے قبضے میں نہیں۔۔ چترال میں ایک متنازعہ نوٹیفیکیشن کی بناپر سب کچھ چھینا جارہا ہے۔۔دولوموس اجلاس

چترال (نمائندہ آوازچترال) اتوار کے روز چترال میں دولوموس کے مقام پر شہزادہ ریاض الدین کی دعوت پر منعقدہ کٹورے، رضاخیل، محمدبیگے اور سنگالے۔خوشامتے۔خوشواختے۔وعیرہ قبیلوں کی اجتماع میں ‘چترال بچاؤ تحریک’کا آعاز کیا گیا جس میں اس عزم کا اظہار کیا گیاکہ چترال کے تمام قبائل کو ساتھ ملاکر حکومت کا عوام کے ساتھ لینڈ سیٹلمنٹ کے نام پر ناانصافی کے خلاف مشترکہ جدوجہد کیا جائے گاجس میں چترالی عوام سے ان کا 97.5افیصد زمین چھین لیا گیا ہے جبکہ سوات، دیر اور دوسرے علاقوں میں یہ صورت حال ہرگز نہیں ہے۔ سابق ایم این اے شہزادہ افتخار الدین کی صدارت میں اس اجلاس میں سابق تحصیل ناظم مستوج شمس الرحمن مہمان خصوصی تھے جبکہ چترال کے کونے کونے سے ایوبی خاندان سے تعلق رکھنے والے معززین کثیر تعداد میں موجود تھے جبکہ وقاص احمد ایڈوکیٹ، مختار احمد بونی، محترم شاہ کیسو، شجاع لال بونی، محمد ولی شاہ اورغوچ، سراج احمد خان لاوی، شہزادہ حیدر الملک، شمشیر کیسو، شیر عالم ریشن، محمد یونس کوشٹ، عبدالغفور مروئے، رحمت غفور بیگ بکامک اور دوسروں نے خطاب کیا۔ شہزادہ افتخار الدین نے کہاکہ ایک ہی ملک میں دو قانون نہیں ہوسکتے اوربے بنیاد اور غلط مفروضے پر حکومت نے عوام کی زمینات کو سرکار قرار دیا ہے جس سے عوام میں سراسیمگی اور پریشانی پھیل گئی ہے اور آل پارٹیز کے موقف کی مکمل حمایت کرتے ہیں جس میں لینڈ سیٹلمنٹ کی مخالفت کی گئی ہے لیکن جب چترال کے عوام آپس میں متحد نہ ہوں، کوئی کامیابی نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ غریب طبقہ سب سے ذیادہ اس عمل سے متاثر ہوا ہے کیونکہ چار ہ دست لوگوں نے اپنے دستاویزات قا نونی کرچکے ہیں۔ دوسرے مقررین نے کہاکہ اس اجتماع کا مقصد ایوبیہ فاونڈیشن کی تنظیم نو ہر گز نہیں جبکہ اس حقیقت سے سب واقف ہیں کہ اس نازک موقع پر ارندو سے لے کر بروغل تک عوام آپس میں یکجہتی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے اپنے حقوق اور اراضی کے چھینے جانے کے خلاف جدوجہد کریں کیونکہ ملاکنڈ ڈویژن میں ایک انچ زمین بھی پہاڑ، چراگاہ یا ریوربیڈ کے نام پر حکومت کے قبضے میں نہیں ہے اور سکائی لائن تک عوامی ملکیت ہے جبکہ چترال میں ہی ایک متنازعہ نوٹیفیکیشن کی بناپر سب کچھ چھینا جارہا ہے جس میں شیخ رشید نامی ایک شخص نے چترال کی اراضی کو حکومت کو بطور گفٹ پیش کیا ہے۔

Facebook Comments