43

داد بیداد……گھر کی رونق……ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی

یہ قصہ خوانی بازار پشاور کا مشہورہ قھوہ خانہ ہے فرشی نشست پر بہت سے ٹو لیوں میں لوگ بیٹھے ہیں کسی ٹو لی میں ایک کے پا س اخبار ہے کسی ٹو لی میں دو یا دو سے زیا دہ گا ہکوں نے اخبار کھو لا ہوا ہے میرے قریب ایک ادھیڑ عمر شہری بیٹھا ہوا ہے اور زور زور سے اخبار کی سر خیاں پڑھ کر داد دے رہا ہے قھوہ کے گھونٹ کے ساتھ زور سے اخبار ی سر خیاں پڑھنے کا اپنا مزہ ہے یہ قھوہ خانہ صبح سے شام تک اسی طرح لائبریری بنا رہتا ہے شاید انگریزوں کے زما نے سے چل رہا ہو گا ایک انگریز گور نر جارج کننگھم کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ سی آئی ڈی سے پشاور کے عوام کی رائے معلوم کرنا چاہتا تھا تو پوچھتا تھا ”قصہ خوانی گزٹ“ میں کیا باتیں آئی ہیں؟ آج کا قصہ خوانی گزٹ شیخ رشید اور ان کے مخا لفین کی طرف سے ایک دوسرے کو چیلنج کر نے کی خبروں پر مشتمل ہے اخبار میں چٹ پٹی خبریں نہ ہو ں تو قارئین کو مزہ نہیں آتا اس لئے اخبارات کو چٹ پٹی خبروں کی تلا ش رہتی ہے کسی وزیر کے بیرون ملک اثا ثوں پر 10دنوں کا مصا لحہ مل جا تا ہے تو قارئین کی چاندی ہو جا تی ہے یہ خبر پرانی نہیں ہو تی بلکہ نئی خبر اس کی جگہ لے لیتی ہے موٹروے پر خا تون کی ابرو ریزی والی خبر بھی ہفتہ،10دن چل جا تی ہے پھر خدا کاکر نا ایسا ہو تا ہے کہ اے پی سی کی خبریں آجا تی ہیں اور ان خبروں سے شیخ رشید والا مکا لمہ جنم لیتا ہے ہفتہ،10دن اس پر گزارہ ہو جا تا ہے پھر معا شرہ کوئی اور دلچسپ خبر کا سا ماں مہیا کر تا ہے دھندا چلتا ہے اور وقت گزر تا ہے غا لب نے کہا تھا ؎
ایک ہنگا مے پر مو قوف ہے گھر کی رونق
نوحۂ غم ہی سہی، نغمہ شادی نہ سہی
کچھ لو گوں کو شکوہ ہے کہ میڈیا کی وجہ سے بے یقینی کی فضا پیدا ہوتی ہے جواب دینے والے کہتے ہیں کہ میڈیا آئینے کی ما نند ہے معا شرے کا چہرہ جیسا ہے میڈیا میں ایسا ہی آتا ہے مجھے جنوری 1999ء کے پہلے ہفتے کا واقعہ یا د آتا ہے ڈاکٹر کریم مروت کے ہمراہ پا کستان ہاوس لندن میں مقیم تھا شام کو اکھٹے گھومنے جا تے تھے صبح نا شتے کی میز پر مل کر اخبار پڑھتے تھے اُس شام زیر زمین ریلوے کی ایک لائن میں حا دثہ ہوا تھا کچھ لو گ مر گئے تھے لائن 3دنوں کے لئے بند کی گئی لو گوں کو ٹکٹ کے پیسے واپس کئے گئے وہاں ہفتہ، دو ہفتہ اور مہینہ کے لئے ٹکٹ لیا جائے تو سستا ٹکٹ آتا ہے اس لئے تین لائنوں میں سے ایک لائن کا بند ہو نا کا فی بڑا مسئلہ تھا میں نے اخبار کے صفحہ اول پر اس خبر کو تلا ش کیا، نہیں ملا تو آخری صفحے پر تلا ش کیا اُس صفحے پر بھی نہیں ملا میں نے اندرونی صفحا ت کی دو چار خبریں پڑھنے کے بعد اخبار رکھ دیا نا شتہ کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب سے اس خبر کے بارے میں پو چھا تو انہوں نے کما ل کی بات بتائی ڈاکٹر کریم مروت نے کہا درمیانی صفحا ت میں سے کسی ایک صفحے پر تبدیلی نام کے اشتہار کے بر ابر ایک کا لمی خبر آئی ہو گی یہاں ایسی خبریں شہ سر خیوں کے ساتھ صفحہ اول پر نہیں آتیں ایسی خبروں سے شہر کی ساکھ خراب ہو تی ہے ٹورزم کی انڈسٹری متاثر ہو تی ہے ہیتھرو کے ہوائی اڈے پر ہر 2منٹ کے بعد ایک جہاز اتر تا ہے ایسی خبرصفحہ اول پر آگئی تو اگلے 3دنوں میں نصف سے زیا دہ مسافر اپنی پروازیں منسوخ کر ینگے واقعی اندرونی صفحا ت میں سے ایک صفحے کے گمنام گوشے میں یہ معمو لی خبر مجھے مل گئی آج سے 21سال پہلے بر طانیہ اور امریکہ کے اخبارات صرف سٹا لوں پر ملتے تھے آج دنیا بھر کے اخبارات انٹر نیٹ پر دستیا ب ہیں آپ انگلی کے اشارے سے ہر شہر اور ہر ملک کے اخبارات تک رسائی کر لیتے ہیں اس لئے تقا بل آسان ہو گیا ہے گذشتہ ایک مہینے کے اندر ہمارے ہاں جن خبروں نے تہلکہ مچا یا ہوا ہے دنیا کے کسی بھی ملک میں ایسی خبروں کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہو تی کسی وزیرنے کیا بیان جاری کیا؟ کسی رکن اسمبلی نے کیا کہا؟ ان باتوں کو پا کستان سے با ہر خبر کا درجہ نہیں ملتا آزمائش کے لئے ایک ہفتے تک امریکہ، بر طانیہ، تر کی اور ایران کے اخبارات کھو لیں تو آپ کو پتہ لگ جا ئے گا کہ ان کے اخبارات میں صنعتی تر قی، تجا رت، سما جی تر قی اور معیشت کی خبریں شہ سر خیوں میں جگہ پاتی ہیں آپ کو یہ جا ن کر حیر ت ہو گی کہ بر طا نوی ملکہ یا وزیر اعظم یا کما نڈر انچیف کی تصویر ہفتہ 10دن تک اخبارمیں نہیں آتی امریکی فوج کے چیف آف سنٹرل کمانڈ کی تصویر مہینہ دو مہینہ بعد بھی اخبار میں نہیں آتی تر کی اور ایران میں بھی حکمر انوں کی تصویر وں کا ہر روز اخبار میں آنا ضروری نہیں ہو تا شاعر نے 100با توں کی ایک بات کہی ہے ہر ایک کی ساقی پہ نظر ہو یہ ضروری ہے مگر ہر ایک پہ ساقی کی نظر ہو یہ ضر وری تو نہیں اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ہمارا میڈیا غیر ذمہ دار ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ ایسا ہے یہاں ”مر غی پہلے یا انڈا؟“ کہہ کر سوال داغا جائے تو جواب بَن نہیں پڑے گا ہمارے معاشرے کو دل بہلا نے کے لئے فضول خبروں کا چسکا لگا ہوا ہے ہم نے گھر کی رونق کو خواہ مخواہ ہنگا مے پر مو قوف کر رکھا ہے لا ڈ لا کھیلنے کو چاند مانگتا ہے بڑا لیڈر اور مقبول رہنما اُس کو قرار دیا جا تا ہے جو سنسنی خیز باتیں کرے دوسروں کی پردہ دری کرے مخا لفین کا کچا چٹھا کھول کے رکھ دے جو لیڈر کسی اہم قومی مسئلے پہ بات کرے، معیشت پہ بات کرے، صنعتی تر قی پہ گفتگو کرے اس کو پذیر ائی نہیں ملتی تما شا ئی تا لیاں نہیں بجا تے واہ واہ کے ڈونگر ے نہیں بر ساتے جب کوئی لیڈر مخا لفین کو گا لی دینے لگے تو حا ضرین اور سامعین وجد میں آجا تے ہیں اور زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں اس بیمار ذہنیت کی وجہ سے مار دھاڑ اور لڑا ئی مار کٹا ئی والی خبروں کو پسند کیا جا تا ہے قصہ خوانی کے قھوہ خا نوں میں انہی خبروں کی وجہ رونق ہو تی ہے۔

Facebook Comments